Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

322 - 627
  ١ و قال الشافعی  : لا بد من الثلث لقولہ علیہ السلام : و لیستنج منکم بثلاثة احجار،  ٢ و لنا قولہ علیہ السلام : من استجمر فلیوتر،  فمن فعل فحسن و من لا فلا حرج،   ٣ و ما رواہ متروک الظاہر،  فانہ لو استنجی بحجر لہ ثلاثة احرف جاز بالاجماع، 

بحجرین و روثة ، فأخذ الحجرین و ألقی الروثة وقال انھا رکس ۔( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الاستنجاء بالحجرین ،ص ١٠، نمبر ١٧  بخاری شریف ، باب : لا یستنجی بروث ،ص ٢٧، نمبر ١٥٦) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ نے صرف دو پتھروں سے استنجاء فرمایا اور گوبر کو پھینک دیا ، اس سے معلوم ہوا کہ تین پتھر ہو نا ضروری نہیںہے  ورنہ ضرور تیسرے پتھر کو تلاش کرواتے ۔پھر امام ترمذی  نے الاستنجاء بالحجرین ، باب باندھ کر کے یہ اشارہ فرمایا کہ دو پتھر سے بھی استنجاء ہو سکتا ہے تین پتھر ضروری نہیں ہے ۔
 فائدة   ترجمہ:  ١  اور امام شافعی  نے فرمایا کہ تین پتھر ضروری ہیں ۔حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ تمکو تین پتھر سے استنجاء کرنا چاہئے۔
تشریح:  امام شافعی  فرماتے ہیں کہ اگر تین پتھر سے کم میں مقام صاف ہو جائے پھر بھی تین پتھر پورا کرے کیونکہ حدیث میں تین پتھر کا حکم ہے ، موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔قال الشافعی : فمن تخلی أو بال ، لم یجز ہ الا ان یتمسح بثلاثة احجارثلاث مرات ۔ ( موسوعة للامام الشافعی ،باب فی الاستنجاء ، ج اول ، ص ٩٥، نمبر ٣٤٢) اس عبارت میں ہے کہ تین پتھر سے استنجاء کرے ۔
وجہ :  اسکے لئے حدیث یہ ہے۔  عن سلمان قال قیل لہ قد علمکم بینکم  صلی اللہ علیہ وسلم کل شیء حتی الخرائة قال فقال اجل لقد نھانا ان نستقبل القبلة لغائط او بول او ان نستنجی بالیمین او ان نستنجی باقل من ثلثة احجاراو ان نستنجی برجیع او بعظم  ۔ (مسلم شریف، باب الاستطابة ص ١٣٠ نمبر ٢٦٢  ٦٠٦ترمذی شریف ،باب الاستنجاء بالحجارة، ص ١٠، نمبر ١٦ ) اس حدیث میں استنجا کرنے کے بہت سے آداب مذکور ہیں۔ساتھ ہی یہ ہے کہ تین پتھر سے کم سے استنجاء  نہ کرے۔ 
ترجمہ :٢   اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول : جو استنجاء کرے تو طاق پتھر سے کرے جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ہے ۔یہ حدیث اوپر گزر گئی ۔عن ابی ھریرة  عن النبی ۖ قال... ومن استجمر فلیوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج (ابوداؤدشریف، باب الاستتار فی الخلاء ص ٦ نمبر ٣٥ابن ماجة ، باب الارتیاد للغائط و البول ،ص ٥١ ،نمبر ٣٣٧)   اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین پتھر ضروری نہیں ہے البتہ دوسری حدیث کی وجہ سے مستحب ہے ۔
ترجمہ: ٣   اور امام شافعی نے جو روایت کیا  ہے ظاہر اعتبار سے وہ متروک ہے اسلئے کہ کسی نے تین کونے والے سے استنجاء کر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter