١ و قال الشافعی : لا بد من الثلث لقولہ علیہ السلام : و لیستنج منکم بثلاثة احجار، ٢ و لنا قولہ علیہ السلام : من استجمر فلیوتر، فمن فعل فحسن و من لا فلا حرج، ٣ و ما رواہ متروک الظاہر، فانہ لو استنجی بحجر لہ ثلاثة احرف جاز بالاجماع،
بحجرین و روثة ، فأخذ الحجرین و ألقی الروثة وقال انھا رکس ۔( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الاستنجاء بالحجرین ،ص ١٠، نمبر ١٧ بخاری شریف ، باب : لا یستنجی بروث ،ص ٢٧، نمبر ١٥٦) اس حدیث میں ہے کہ آپ ۖ نے صرف دو پتھروں سے استنجاء فرمایا اور گوبر کو پھینک دیا ، اس سے معلوم ہوا کہ تین پتھر ہو نا ضروری نہیںہے ورنہ ضرور تیسرے پتھر کو تلاش کرواتے ۔پھر امام ترمذی نے الاستنجاء بالحجرین ، باب باندھ کر کے یہ اشارہ فرمایا کہ دو پتھر سے بھی استنجاء ہو سکتا ہے تین پتھر ضروری نہیں ہے ۔
فائدة ترجمہ: ١ اور امام شافعی نے فرمایا کہ تین پتھر ضروری ہیں ۔حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ تمکو تین پتھر سے استنجاء کرنا چاہئے۔
تشریح: امام شافعی فرماتے ہیں کہ اگر تین پتھر سے کم میں مقام صاف ہو جائے پھر بھی تین پتھر پورا کرے کیونکہ حدیث میں تین پتھر کا حکم ہے ، موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔قال الشافعی : فمن تخلی أو بال ، لم یجز ہ الا ان یتمسح بثلاثة احجارثلاث مرات ۔ ( موسوعة للامام الشافعی ،باب فی الاستنجاء ، ج اول ، ص ٩٥، نمبر ٣٤٢) اس عبارت میں ہے کہ تین پتھر سے استنجاء کرے ۔
وجہ : اسکے لئے حدیث یہ ہے۔ عن سلمان قال قیل لہ قد علمکم بینکم صلی اللہ علیہ وسلم کل شیء حتی الخرائة قال فقال اجل لقد نھانا ان نستقبل القبلة لغائط او بول او ان نستنجی بالیمین او ان نستنجی باقل من ثلثة احجاراو ان نستنجی برجیع او بعظم ۔ (مسلم شریف، باب الاستطابة ص ١٣٠ نمبر ٢٦٢ ٦٠٦ترمذی شریف ،باب الاستنجاء بالحجارة، ص ١٠، نمبر ١٦ ) اس حدیث میں استنجا کرنے کے بہت سے آداب مذکور ہیں۔ساتھ ہی یہ ہے کہ تین پتھر سے کم سے استنجاء نہ کرے۔
ترجمہ :٢ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول : جو استنجاء کرے تو طاق پتھر سے کرے جس نے ایسا کیا تو اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ہے ۔یہ حدیث اوپر گزر گئی ۔عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال... ومن استجمر فلیوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج (ابوداؤدشریف، باب الاستتار فی الخلاء ص ٦ نمبر ٣٥ابن ماجة ، باب الارتیاد للغائط و البول ،ص ٥١ ،نمبر ٣٣٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تین پتھر ضروری نہیں ہے البتہ دوسری حدیث کی وجہ سے مستحب ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور امام شافعی نے جو روایت کیا ہے ظاہر اعتبار سے وہ متروک ہے اسلئے کہ کسی نے تین کونے والے سے استنجاء کر