Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

321 - 627
 ١ لان المقصود ھوالانقاء فیعتبر ما ھو المقصود (١٧٨) و لیس فیہ عدد مسنون)

بالماء ،ص ٥٣ ، نمبر ٣٥٤) اس حدیث میں ہے کہ پیخانہ کے بعد آپ ۖ نے مقعد کو ہمیشہ پانی سے دھویا ۔ 
دوسری بات یہ فرمائی کہ پتھر سے بھی صفائی ہو جائے گی اور اسکے قائم مقام جو چیز بھی ہو مثلا ڈھیلا ، لکڑی وغیرہ اس سے بھی استنجاء ہو جائے گا ۔ اس حدیث میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن عبد اللہ قال : خرجت مع رسول اللہ  ۖ لحاجتہ فقال: ایتنی بشیء  استنجی بہ و لا تقربنی حائلاً و لا رجیعاً ۔(سنن للبیھقی باب الاستنجاء بما یقوم مقام الحجارة فی الانقاء دون ما نھی عن الاستنجاء بہ ، ج اول ،ص ١٧٥، نمبر ٥٢٧)  اس حدیث میں ہے کہ کوئی بھی ایسی چیز لاو جس سے میں استنجاء کر سکوں جس سے معلوم ہوا کہ پتھر کی طرح کسی بھی چیز سے استنجاء ہو سکتا ہے (٢) اثر میں ہے عن طاوس قال : الاستنجاء بثلاثة أحجار أو بثلاثة أعواد قلت : فان لم أجد ؟ قال : ثلاث حفنات من التراب ۔ (سنن للبیھقی باب ما ورد فی الاستنجاء بالتراب ، ج اول ،ص١٧٨، نمبر٥٣٧)   اس اثر میں ہے کہ پتھر نہ ملے تو لکڑی سے بھی استنجاء ہو جائے گا ، اور وہ بھی نہ ہو تو تین مٹھی مٹی سے بھی استنجاء ہو جائے گا ۔
اور تیسری بات یہ کہی کہ اتنی مرتبہ پونچھے کہ مقام صاف ہو جائے ، کیونکہ اصل مقصود مقام صاف کر نا ہے ، چاہے تین مرتبہ میں ہو یااس سے زیادہ میں ہو جائے۔ اسکی دلیل یہ حدیث ہے   عن عائشة قالت ان رسول اللہ  قال: اذا ذھب احدکم الی الغائظ فلیذھب معہ بثلثة احجار یستطیب بھن فانھا تجزیٔ عنہ ۔ (ابو داؤد شریف،باب الاستنجاء بالاحجار ص ٧ نمبر ٤٠) حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پتھر اور ڈھیلا استنجاء کے لئے کافی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ تین پتھر اس لئے ہونا چاہئے کہ ان سے عموما پاکی ہو جاتی ہے۔ اسی لئے کہا  فانھا تجزیٔ عنھا۔
ترجمہ:  ١   اسلئے کہ مقصود مقام کو صاف کر نا ہے تو اسکا اعتبار کیا جائے گا جو مقصود ہے ۔
تشریح :  اصل مقصود مقام کو صاف کر نا ہے اسلئے جب وہ صاف ہو گیا تو مقصود حاصل ہو گیا ۔
ترجمہ: (١٧٨)  اور اس میں عدد مسنون نہیں ہے ۔
تشریح :  استجاء کر نے کے لئے تین پتھر ہو نا کوئی ضروری نہیں ہے اس سے کم سے بھی صفائی ہو جائے تو استنجاء ہو جائے گا ۔ البتہ حدیث کی وجہ سے تین پتھر لینا بہتر ہے ۔ اور اگرتین سے بھی صاف نہیں ہوا تو جتنے میں صاف ہو جائے اتنا پتھر استعمال کر نا ہو گا ۔ (١) عن ابی ھریرة  عن النبی ۖ قال... ومن استجمر فلیوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج (ابوداؤدشریف، باب الاستتار فی الخلاء ص ٦ نمبر ٣٥)   اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جتنے پتھر سے صاف ہو جائے اتنے سے صاف کرے ۔(٢) عن عبد اللہ قال : خرج النبی  ۖ لحاجتہ فقال : التمس لی ثلاثة أحجار ،قال: فأتیتہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter