١ لان المقصود ھوالانقاء فیعتبر ما ھو المقصود (١٧٨) و لیس فیہ عدد مسنون)
بالماء ،ص ٥٣ ، نمبر ٣٥٤) اس حدیث میں ہے کہ پیخانہ کے بعد آپ ۖ نے مقعد کو ہمیشہ پانی سے دھویا ۔
دوسری بات یہ فرمائی کہ پتھر سے بھی صفائی ہو جائے گی اور اسکے قائم مقام جو چیز بھی ہو مثلا ڈھیلا ، لکڑی وغیرہ اس سے بھی استنجاء ہو جائے گا ۔ اس حدیث میں اسکا ثبوت ہے ۔ عن عبد اللہ قال : خرجت مع رسول اللہ ۖ لحاجتہ فقال: ایتنی بشیء استنجی بہ و لا تقربنی حائلاً و لا رجیعاً ۔(سنن للبیھقی باب الاستنجاء بما یقوم مقام الحجارة فی الانقاء دون ما نھی عن الاستنجاء بہ ، ج اول ،ص ١٧٥، نمبر ٥٢٧) اس حدیث میں ہے کہ کوئی بھی ایسی چیز لاو جس سے میں استنجاء کر سکوں جس سے معلوم ہوا کہ پتھر کی طرح کسی بھی چیز سے استنجاء ہو سکتا ہے (٢) اثر میں ہے عن طاوس قال : الاستنجاء بثلاثة أحجار أو بثلاثة أعواد قلت : فان لم أجد ؟ قال : ثلاث حفنات من التراب ۔ (سنن للبیھقی باب ما ورد فی الاستنجاء بالتراب ، ج اول ،ص١٧٨، نمبر٥٣٧) اس اثر میں ہے کہ پتھر نہ ملے تو لکڑی سے بھی استنجاء ہو جائے گا ، اور وہ بھی نہ ہو تو تین مٹھی مٹی سے بھی استنجاء ہو جائے گا ۔
اور تیسری بات یہ کہی کہ اتنی مرتبہ پونچھے کہ مقام صاف ہو جائے ، کیونکہ اصل مقصود مقام صاف کر نا ہے ، چاہے تین مرتبہ میں ہو یااس سے زیادہ میں ہو جائے۔ اسکی دلیل یہ حدیث ہے عن عائشة قالت ان رسول اللہ قال: اذا ذھب احدکم الی الغائظ فلیذھب معہ بثلثة احجار یستطیب بھن فانھا تجزیٔ عنہ ۔ (ابو داؤد شریف،باب الاستنجاء بالاحجار ص ٧ نمبر ٤٠) حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پتھر اور ڈھیلا استنجاء کے لئے کافی ہے۔یہ بھی معلوم ہوا کہ تین پتھر اس لئے ہونا چاہئے کہ ان سے عموما پاکی ہو جاتی ہے۔ اسی لئے کہا فانھا تجزیٔ عنھا۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ مقصود مقام کو صاف کر نا ہے تو اسکا اعتبار کیا جائے گا جو مقصود ہے ۔
تشریح : اصل مقصود مقام کو صاف کر نا ہے اسلئے جب وہ صاف ہو گیا تو مقصود حاصل ہو گیا ۔
ترجمہ: (١٧٨) اور اس میں عدد مسنون نہیں ہے ۔
تشریح : استجاء کر نے کے لئے تین پتھر ہو نا کوئی ضروری نہیں ہے اس سے کم سے بھی صفائی ہو جائے تو استنجاء ہو جائے گا ۔ البتہ حدیث کی وجہ سے تین پتھر لینا بہتر ہے ۔ اور اگرتین سے بھی صاف نہیں ہوا تو جتنے میں صاف ہو جائے اتنا پتھر استعمال کر نا ہو گا ۔ (١) عن ابی ھریرة عن النبی ۖ قال... ومن استجمر فلیوتر من فعل فقد احسن ومن لا فلا حرج (ابوداؤدشریف، باب الاستتار فی الخلاء ص ٦ نمبر ٣٥) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جتنے پتھر سے صاف ہو جائے اتنے سے صاف کرے ۔(٢) عن عبد اللہ قال : خرج النبی ۖ لحاجتہ فقال : التمس لی ثلاثة أحجار ،قال: فأتیتہ