١ ان التکرارلابد منہ للاستخراج ولایقطع بزوالہ فاعتبرغالب الظن کما فی امر القبلة، ٢ وانما قدروابالثلاث لان غالب الظن یحصل عندہ فاقیم السبب الظاھرمقامہ تیسیراً، و یتأید ذالک بحدیث المستیقظ من منامہ
وجہ: دھونے کی تکرار سے نجاست نکلتی چلی جائے گی اور آخر تمام نجاست نکل جائے گی اور زیلان نجاست ہی سے کپڑا یا بدن پاک ہو جاتا ہے(٢) علماء نے کہا ہے کہ تین مرتبہ دھویا جائے اور وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال اذا استیقظ احدکم من نومہ فلا یغمس یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا فانہ لا یدری این باتت یدہ۔ (مسلم شریف، باب کراھة غمس المتوضی وغیرہ یدہ المشکوک فی نجاستھا فی الاناء قبل غسلھا ثلاثا ص ١٣٦ نمبر ٢٧٨) یہاں نجاست غیر مرئیہ ہے تو تین مرتبہ دھونے کے لئے کہا گیا تو اور نجاست غیر مرئیہ میں بھی تین مرتبہ دھویا جائے۔(٢) عن ابی ھریرة قال اذا ولغ الکلب فی الاناء فاھرقہ ثم اغسلہ ثلاث مرات (دار قطنی، باب ولوغ الکلب فی الاناء ج اور ص ٦٦ نمبر ١٩٣مصنف عبد الرزاق ،باب الکلب یلغ فی الاناء ،ج اول ص ٩٧ نمبر ٣٣٦) اس حدیث میں کتے کا جوٹھا غیر مرئی نجاست ہے جسکو تین مرتبہ دھونے سے پاک قرار دیا اس سے استدلال کیا کہ کسی بھی غیر مرئی نجاست کو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ کپڑے سے نجاست نکالنے کے لئے تکرار ضروری ہے اور زائل ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا اسلئے گمان غالب کا اعتبار کیا جاے گا ، جیسے قبلے کے معاملے میں ہے ۔
تشریح: جو نجاست نظر نہیں آتی ہو اسکو دھونے کے لئے تکرار ضروری ہے تاکہ آہستہ آہستہ نجاست نکلتی جائے کیونکہ ایک مرتبہ دھونے سے پوری نجاست نہیں نکلے گی اسلئے بار بار دھونا ضروری ہے اور وہ تین مرتبہ ہے ۔پھر کئی بار دھونے سے واقعی تمام نجاست نکل ہی گئی یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا ، اسلئے گمان غالب کا اعتبار کیا جائے گا ، کہ گمان غالب ہو جائے کہ نجاست نکل گئی اتنا ہی کافی ہے ۔جیسے دور والے بالکل عین قبلہ کی طرف منہ کر لے یہ ضروری نہیں ہے صرف گمان غالب ہو جائے کہ سمت قبلہ کی طرف منہ کر لیا ہے اتنا ہی کافی ہے ۔
ترجمہ: ٢ فقہاء نے تین مرتبہ کے ساتھ متعین کیا اسلئے دھل جانے کا غالب گمان اسی سے حاصل ہو تا ہے اسلئے آسانی کے لئے سبب ظاہر کو گمان غالب کے قائم مقام قرار دیا اور اسکی تائید نیند سے بیدار ہو نے والی حدیث ہے ۔
تشریح: اصل مقصد تو یہ تھا کہ اتنی بار دھوئے کہ غالب گمان ہو جائے کہ نجاست زائل ہو چکی ہو گی ، تو پھر تین مرتبہ دھونے کو کیوں متعین کیا ؟ تو اسکی وجہ بتارہے ہیں کہ تین مرتبہ میں گمان غالب ہو جاتا ہے کہ نجاست زائل ہو چکی ہو گی ، اسلئے ظاہری سبب تین