Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

318 - 627
١  ان التکرارلابد منہ للاستخراج ولایقطع بزوالہ فاعتبرغالب الظن کما فی امر القبلة، ٢  وانما قدروابالثلاث لان غالب الظن یحصل عندہ فاقیم السبب الظاھرمقامہ تیسیراً،  و یتأید ذالک بحدیث المستیقظ من منامہ
 
وجہ:  دھونے کی تکرار سے نجاست نکلتی چلی جائے گی اور آخر تمام نجاست نکل جائے گی اور زیلان نجاست ہی سے کپڑا یا بدن پاک ہو جاتا ہے(٢) علماء نے کہا ہے کہ تین مرتبہ دھویا جائے اور وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں  عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال اذا استیقظ احدکم من نومہ فلا یغمس یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا فانہ لا یدری این باتت یدہ۔  (مسلم شریف، باب کراھة غمس المتوضی وغیرہ یدہ المشکوک فی نجاستھا فی الاناء قبل غسلھا ثلاثا ص ١٣٦ نمبر ٢٧٨) یہاں نجاست غیر مرئیہ ہے تو تین مرتبہ دھونے کے لئے کہا گیا تو اور نجاست غیر مرئیہ میں بھی تین مرتبہ دھویا جائے۔(٢)  عن ابی ھریرة قال اذا ولغ الکلب فی الاناء فاھرقہ ثم اغسلہ ثلاث مرات (دار قطنی، باب ولوغ الکلب فی الاناء ج اور ص ٦٦ نمبر ١٩٣مصنف عبد الرزاق ،باب الکلب یلغ فی الاناء ،ج اول ص ٩٧ نمبر ٣٣٦)  اس حدیث میں کتے کا جوٹھا غیر مرئی نجاست ہے جسکو تین مرتبہ دھونے سے پاک قرار دیا اس سے استدلال کیا کہ کسی بھی غیر مرئی نجاست کو تین مرتبہ دھونے سے پاک ہو جائے گا۔
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ کپڑے سے نجاست نکالنے کے لئے تکرار ضروری ہے اور زائل ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا اسلئے گمان غالب کا اعتبار کیا جاے گا ، جیسے قبلے کے معاملے میں ہے ۔
تشریح:  جو نجاست نظر نہیں آتی ہو اسکو دھونے کے لئے تکرار ضروری ہے تاکہ آہستہ آہستہ نجاست نکلتی جائے کیونکہ ایک مرتبہ دھونے سے  پوری نجاست  نہیں نکلے گی اسلئے بار بار دھونا ضروری ہے اور وہ تین مرتبہ ہے ۔پھر کئی بار دھونے سے واقعی تمام نجاست نکل ہی گئی یہ یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا ، اسلئے گمان غالب کا اعتبار کیا جائے گا ، کہ گمان غالب ہو جائے کہ نجاست نکل گئی اتنا ہی کافی ہے ۔جیسے دور والے بالکل عین قبلہ کی طرف منہ کر لے یہ ضروری نہیں ہے صرف گمان غالب ہو جائے کہ سمت قبلہ کی طرف منہ کر لیا ہے اتنا ہی کافی ہے  ۔
ترجمہ: ٢   فقہاء نے تین مرتبہ کے ساتھ متعین کیا اسلئے دھل جانے کا غالب گمان اسی سے حاصل ہو تا ہے اسلئے آسانی کے لئے سبب ظاہر کو گمان غالب کے قائم مقام قرار دیا اور اسکی تائید نیند سے بیدار ہو نے والی حدیث ہے ۔
تشریح: اصل مقصد تو یہ تھا کہ اتنی بار دھوئے کہ غالب گمان ہو جائے کہ نجاست زائل ہو چکی ہو گی ، تو پھر تین مرتبہ دھونے کو کیوں متعین کیا ؟  تو اسکی وجہ بتارہے ہیں کہ تین مرتبہ میں گمان غالب ہو جاتا ہے کہ نجاست زائل ہو چکی ہو گی ، اسلئے ظاہری سبب  تین 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter