٣ ثم لا بد من العصر فی کل مرة فی ظاھر الروایة لانہ ھو المستخرج
مرتبہ دھونے کوگمان غالب کے قائم مقام کر دیا ۔، اور اسکی تائید اوپر کی حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں ہے کہ بیدار ہونے والا اپنے ہاتھ کو پانی میں نہ ڈالے جب تک اسکو تین مرتبہ نہ دھو ڈالے۔ حدیث یہ گزری ۔ عن ابی ھریرة ان النبی ۖ قال اذا استیقظ احدکم من نومہ فلا یغمس یدہ فی الاناء حتی یغسلھا ثلاثا فانہ لا یدری این باتت یدہ ۔ (مسلم شریف، باب کراھة غمس المتوضی وغیرہ یدہ المشکوک فی نجاستھا فی الاناء قبل غسلھا ثلاثا ص ١٣٦ نمبر ٢٧٨)
ترجمہ: ٣ پھر ظاہر روایت میں یہ ہے کہ ہر مرتبہ نچوڑے ، کیونکہ وہی نجاست کو نکالنے والا ہے ۔
تشریح : ظاہر روایت میں یہ ہے کہ جب جب پانی ڈالے تو ہر بار اسکو نچوڑے ، کیونکہ نچوڑنے سے ہی نجاست نکلے گی ، ورنہ صرف پانی ڈالنے سے نجاست نہیں نکلے گی اسلئے نچوڑنا بھی ضروری ہے ۔اس حدیث میں اسکا اشارہ ہے ۔عن اسماء قالت : جائت امرأة الی النبی ۖ فقالت احدانا یصیب ثوبھا من دم الحیضة ، کیف تصنع بہ ؟ قال : تحتہ ، ثم تقرصہ بالماء ثم تنضحہ ثم تصلی فیہ ۔(مسلم شریف ، باب نجاسة الدم وکیفیة غسلہ ، ص ١٤٠، نمبر ٦٧٥٢٩١ ترمذ ی شریف ، باب ما جاء فی غسل دم الحیض من الثوب ، ص ٣٥، نمبر ١٣٨) اس حدیث میں حیض کے خون کو پانی سے رگڑنے کا ذکر ہے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ نجاست کو نکالنے کے لئے نچوڑنا پڑے گا تاکہ پورے طور پر نجاست نکل جائے ۔