١ لان النجاسة حلت المحل باعتبار العین فتزول بزوالہ ٢ الا ان یبقی من اثرھامایشق ازالتہ لان الحرج مدفوع،٣ و ھذا یشیر الی انہ لایشترط الغسل بعد زوال العین وان زال بالغسل مرة واحدة، وفیہ کلام (١٧٦)ومالیس بمرئی فطھارتھا ان یغسل حتی یغلب علی ظن الغاسل انہ قد طھر)
المرأة تغسل ثوبھا الذی تلبسہ فی حیضھا ص ٥٨ نمبر ٣٥٧) حدیث سے معلوم ہوا کہ داغ اور رنگت نہ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اس کو صفرہ سے بدل دیا جائے (٢) شریعت یوں بھی مشقت شدیدہ کی مکلف نہیں بناتی۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ نجاست عین کے اعتبار سے محل میں گھس چکی ہے اسلئے عین کو زائل کرنے سے نجاست زائل ہو جائے گی ۔
تشریح: یہ دلیل عقلی ہے کہ نجاست لگی ہوئی جگہ پر گویا کہ عین کے اعتبار سے گھس چکی ہے اسلئے عین نجاست کو زائل کر دیں تو نجاست زائل ہو جائے گی اور عین نجاست کے زائل ہو نے سے جگہ پاک ہو جائے گی ۔ اوپر حدیث میں ۔ یکفیک غسل الدم و لا یضرک أثرہ (ابوداؤد شر یف نمبر٦٥)تھا جسکا مطلب تھا کہ عین خون کا زائل ہو نا طھارت کے لئے کافی ۔
ترجمہ: ٢ مگر یہ کہ اسکا اثر باقی رہے جسکا زائل کر نا مشکل ہوکیونکہ حرج شریعت میں دور کیا گیا ہے ۔
تشریح :ابھی اوپر گزرا کہ عین نجاست زائل ہو جائے لیکن رنگت اور داغ زائل نہ ہو تے ہوں تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے اسلئے اسکے زائل کرنے میں مشقت شدیدہ ہے اور شریعت میں حرج سے بچنے کے لئے کہا گیا ہے اسلئے کپڑا اور جگہ رنگ کے باوجود بھی پاک ہو جائے گی ۔
ترجمہ: ٣ یہ عبارت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عین نجاست کے زائل ہو نے کے بعد پھر دھونے کی ضرورت نہیں چاہے ایک ہی مرتبہ دھونے سے زائل ہوجائے ، اور اس میں کلام ہے ۔
تشریح : اوپر یہ عبارت گزری کہ عین کا زائل ہو نا کافی ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ایک مرتبہ دھونے سے نجاست زائل ہو گئی تو پاک ہو گیا دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ فقیہ ابو جعفر نے فرمایا کہ عین نجاست کے زائل ہو نے کے بعد دو مرتبہ مزید دھوئے ، کیونکہ عین زائل ہو نے کے بعد گویا کہ وہ غیر مرئی نجاست ہو گئی اور غیر مرئی نجاست کو تین مرتبہ دھوتے ہیں اسلئے اسکو بھی دو مرتبہ دھو دے تاکہ ملا کر تین مرتبہ ہو جائے ۔
ترجمہ: (١٧٦) جو نجاست نظر نہیں آتی اس کی طہارت کا طریقہ یہ ہے کہ دھوتے رہے یہاں تک کہ دھونے والے کو غالب گمان ہو جائے کہ وہ پاک ہو گیا ہوگا ۔
تشریح: جو ناپاکی خشک ہونے کے بعد نظر نہ آتی ہو جیسے پیشاب ، شراب اس کو اتنی مرتبہ دھوئے اور ہر مرتبہ نچوڑے کہ دھونے والے کو گمان ہونے لگے کہ تمام نجاست نکل کر اب کپڑا پاک ہو گیا ہے۔