Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

317 - 627
١  لان النجاسة حلت المحل باعتبار العین فتزول  بزوالہ ٢ الا ان یبقی من اثرھامایشق ازالتہ لان الحرج مدفوع،٣ و ھذا یشیر الی انہ لایشترط الغسل بعد زوال العین وان زال بالغسل مرة واحدة، وفیہ کلام  (١٧٦)ومالیس بمرئی فطھارتھا ان یغسل حتی یغلب علی ظن الغاسل انہ قد طھر)  

المرأة تغسل ثوبھا الذی تلبسہ فی حیضھا ص ٥٨ نمبر ٣٥٧) حدیث سے معلوم ہوا کہ داغ اور رنگت نہ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اس کو صفرہ سے بدل دیا جائے (٢) شریعت یوں بھی مشقت شدیدہ کی مکلف نہیں بناتی۔
ترجمہ:  ١   اسلئے کہ نجاست عین کے اعتبار سے محل میں گھس چکی ہے اسلئے عین کو زائل کرنے سے نجاست زائل ہو جائے گی ۔
تشریح: یہ دلیل عقلی ہے کہ نجاست لگی ہوئی جگہ پر گویا کہ عین کے اعتبار سے گھس چکی ہے  اسلئے عین نجاست کو زائل کر دیں تو نجاست زائل ہو جائے گی اور عین نجاست کے زائل ہو نے سے جگہ پاک ہو جائے گی ۔ اوپر حدیث میں  ۔  یکفیک غسل الدم و لا یضرک أثرہ (ابوداؤد شر یف نمبر٦٥)تھا جسکا مطلب تھا کہ عین خون کا زائل ہو نا طھارت کے لئے کافی ۔
ترجمہ:  ٢   مگر یہ کہ اسکا اثر باقی رہے جسکا زائل کر نا مشکل ہوکیونکہ حرج شریعت میں دور کیا گیا ہے ۔
تشریح :ابھی اوپر گزرا کہ عین نجاست زائل ہو جائے لیکن رنگت اور داغ زائل نہ ہو تے ہوں تو کوئی حرج کی بات نہیں ہے اسلئے اسکے زائل کرنے میں مشقت شدیدہ ہے اور شریعت میں حرج سے بچنے کے لئے کہا گیا ہے اسلئے کپڑا اور جگہ رنگ کے باوجود بھی پاک ہو جائے گی ۔
ترجمہ: ٣   یہ عبارت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عین نجاست کے زائل ہو نے کے بعد پھر دھونے کی ضرورت نہیں چاہے ایک ہی مرتبہ دھونے سے زائل ہوجائے ، اور اس میں کلام ہے ۔
تشریح :  اوپر یہ عبارت گزری کہ عین کا زائل ہو نا کافی ہے یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ایک مرتبہ دھونے سے نجاست زائل ہو گئی تو پاک ہو گیا دوبارہ دھونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ فقیہ ابو جعفر  نے فرمایا کہ عین نجاست کے زائل ہو نے کے بعد دو مرتبہ مزید دھوئے ، کیونکہ عین زائل ہو نے کے بعد گویا کہ وہ غیر مرئی نجاست ہو گئی اور غیر مرئی نجاست کو تین مرتبہ دھوتے ہیں اسلئے اسکو بھی دو مرتبہ دھو دے تاکہ ملا کر تین مرتبہ ہو جائے ۔  
ترجمہ: (١٧٦)  جو نجاست نظر نہیں آتی اس کی طہارت کا طریقہ یہ ہے کہ دھوتے رہے یہاں تک کہ دھونے والے کو غالب گمان ہو جائے کہ وہ پاک  ہو گیا ہوگا ۔ 
تشریح:  جو ناپاکی خشک ہونے کے بعد نظر نہ آتی ہو جیسے پیشاب ، شراب اس کو اتنی مرتبہ دھوئے  اور ہر مرتبہ نچوڑے کہ دھونے والے کو گمان ہونے لگے کہ تمام نجاست نکل کر اب کپڑا پاک ہو گیا ہے۔  

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter