(١٧٦) والنجاسة ضربان، مرئیة، وغیرمرئیة، فما کان منھا مرئیاًفطھارتھا بزوال عینھا )
ہے۔
( نجاست پاک کرنے کا طریقہ )
ترجمہ: (١٧٦) نجاست کی دو قسمیں ہیں (١) نظر آنے والی (٢) اور نظر نہ آنے والی ،پس جو نظر آنے والی ہے تو اسکی طھارت عین کے زائل کر نے سے ہو جائے گی
تشریح: نجاست کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک تو نظر آنے والی اور دوسری نظر نہ آنے والی ۔ پس جو نظر آنے والی ہے اسکو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ عین نجاست کو دھو کر زائل کر دے وہ جگہ پاک ہو جائیگی چاہے ایک مرتبہ میں دھولے چاہے پانچ مرتبہ میں ۔ پھر اگر اسکا رنگ وغیرہ باقی رہ جائے تب بھی کوئی حرج نہیں ہے ، کیونکہ اسکا زائل کر نا بعض مرتبہ مشکل ہو تا ہے ۔
وجہ: (١) نجاست مرئیہ کے عین کے زائل ہونے سے پاک ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے عن اسماء بنت ابی بکرانھا قالت سمعت امرأة تسأل رسول اللہ ۖ کیف تصنع احدانا بثوبھا اذا رأت الطہر اتصلی فیہ قال تنظر فان رأت فیہ دما فلتقرصہ بشیء من ماء ولتنضح ما لم تری وتصلی فیہ (ج)(ابوداؤد شریف،باب المرأة تغسل ثوبھا الذی تلبسہ فی حیضھا ص ٥٨ نمبر ٣٦١) اس حدیث میں ہے کہ پانی ڈالو جب تک کہ نجاست نظر آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نجاست مرئیہ زائل ہونے تک دھویا جائے گا (٢)مستحاضہ کے سلسلے میں یہ حدیث ہے عن عائشة قالت جائت فاطمة بنت ابی حبیش ... فاذا ادبرت فاغسلی عنک الدم وصلی۔(مسلم شریف، باب المستحاضہ وغسلھا وصلواتھا ص ١٥١ نمبر ٣٣٣) اس میں یہ بتایا کہ خون کو دھوؤ اور نماز پڑھو۔کتنی مرتبہ دھوؤ یہ نہیں بتایا جس کا مطلب یہ ہے کہ نجاست مرئیہ کے زائل ہونے تک دھوؤ۔
نجاست زائل ہو جائے مگر اس کی رنگت زائل کرنے کے لئے صابون وغیرہ کی زحمت کرنے پڑے تو اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے کپڑا پھر بھی پاک ہو جائے گا۔ جیسے گوبر لگنے کے بعد عام پانی سے دھونے سے گوپر زائل ہو جاتا ہے لیکن اس کا داغ باقی رہتا ہے تو اس کے زائل کرنے کے لئے صابون وغیرہ کی زحمت ضروری نہیں ہے ۔ عن ابی ھریرة .....قال ۖ : اذا طھرت فاغسلیہ ثم صلی فیہ ۔ فقالت : فان لم یخرج الدم ؟ قال : یکفیک غسل الدم و لا یضرک أثرہ (ابوداؤد شریف ،باب المرأة تغسل ثوبھا الذی تلبسہ فی حیضھا ص ٥٨ نمبر ٦٥ مسند امام احمد ۔مسند ابی ھریرة ، ج ثالث ،ص ٥٢ ،نمبر ٨٥٤٩)اس حدیث میں ہے و لا یضرک اثرہ، جس سے معلوم ہوا کہ اثر باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے (٢)یہ حدیث بھی ہے۔ سأ لت عائشة عن الحائض یصیب ثوبھا الدم؟ قالت تغسلہ فان لم یذھب اثرہ فلتغیرہ بشیء من صفرة (ابوداؤد شریف ،باب