Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

316 - 627
(١٧٦) والنجاسة ضربان، مرئیة، وغیرمرئیة،  فما کان منھا مرئیاًفطھارتھا بزوال عینھا ) 

ہے۔
(  نجاست پاک کرنے کا طریقہ  )
ترجمہ:  (١٧٦)  نجاست کی دو قسمیں ہیں (١) نظر آنے والی (٢) اور نظر نہ آنے والی ،پس جو نظر آنے والی ہے تو اسکی طھارت عین کے زائل کر نے سے ہو جائے گی 
 تشریح:  نجاست کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک تو نظر آنے والی اور دوسری نظر نہ آنے والی ۔ پس جو نظر آنے والی ہے اسکو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ عین نجاست کو دھو کر زائل کر دے وہ جگہ پاک ہو جائیگی چاہے ایک مرتبہ میں دھولے چاہے پانچ مرتبہ میں ۔ پھر اگر اسکا رنگ وغیرہ باقی رہ جائے تب بھی کوئی حرج نہیں ہے ، کیونکہ اسکا زائل کر نا بعض مرتبہ مشکل ہو تا ہے ۔
وجہ:  (١) نجاست مرئیہ کے عین کے زائل ہونے سے پاک ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے  عن اسماء بنت ابی بکرانھا قالت سمعت امرأة تسأل رسول اللہ ۖ کیف تصنع احدانا بثوبھا اذا رأت الطہر اتصلی فیہ قال تنظر فان رأت فیہ دما فلتقرصہ بشیء من ماء ولتنضح ما لم تری وتصلی فیہ (ج)(ابوداؤد شریف،باب المرأة تغسل ثوبھا الذی تلبسہ فی حیضھا ص ٥٨ نمبر ٣٦١) اس حدیث میں ہے کہ پانی ڈالو جب تک کہ نجاست نظر آئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نجاست مرئیہ زائل ہونے تک دھویا جائے گا (٢)مستحاضہ کے سلسلے میں یہ حدیث ہے  عن عائشة قالت جائت فاطمة بنت ابی حبیش ... فاذا ادبرت فاغسلی عنک الدم وصلی۔(مسلم شریف، باب المستحاضہ وغسلھا وصلواتھا ص ١٥١ نمبر ٣٣٣) اس میں یہ بتایا کہ خون کو دھوؤ اور نماز پڑھو۔کتنی مرتبہ دھوؤ یہ نہیں بتایا جس کا مطلب یہ ہے کہ نجاست مرئیہ کے زائل ہونے تک دھوؤ۔
نجاست زائل ہو جائے مگر اس کی رنگت زائل کرنے کے لئے صابون وغیرہ کی زحمت کرنے پڑے تو اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے کپڑا پھر بھی پاک ہو جائے گا۔ جیسے گوبر لگنے کے بعد عام پانی سے دھونے سے گوپر زائل ہو جاتا ہے لیکن اس کا داغ باقی رہتا ہے تو اس کے زائل  کرنے کے لئے صابون وغیرہ کی زحمت ضروری نہیں ہے ۔ عن ابی ھریرة .....قال ۖ : اذا طھرت فاغسلیہ ثم صلی فیہ ۔ فقالت : فان لم یخرج الدم ؟ قال : یکفیک غسل الدم و لا یضرک أثرہ (ابوداؤد شریف ،باب المرأة تغسل ثوبھا الذی تلبسہ فی حیضھا ص ٥٨ نمبر ٦٥ مسند امام احمد ۔مسند ابی ھریرة ، ج ثالث ،ص ٥٢ ،نمبر ٨٥٤٩)اس حدیث میں ہے و لا یضرک اثرہ، جس سے معلوم ہوا کہ اثر باقی رہ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے (٢)یہ حدیث بھی ہے۔  سأ لت عائشة عن الحائض یصیب ثوبھا الدم؟ قالت تغسلہ فان لم یذھب اثرہ فلتغیرہ بشیء من صفرة (ابوداؤد شریف ،باب 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter