(١٧٥)فان انتضح علیہ البول مثل رؤوس الابرفذالک لیس بشیئ) ١ لانہ لایستطاع الامتناع عنہ
الحمار ، ج اول ، ص ٣٥، نمبر٣١٦) اس اثر میں ہے کہ خچر کے جوٹھے میں کوئی حرج نہیںہے ۔ اور دوسرا اثر یہ ہے ۔عن ابراھیم قال کان یکرہ سور البغل و الحمار ۔( مصنف ابن ابی شیبة ،٣١ فی الوضوء بسوء ر الحمار و الکلب ، من کرھہ ، ج اول ، ص ٣٥، نمبر٣٠٧) اس اثر میں ہے کہ خچر کا جوٹھا مکرہ سمجھتے تھے ۔ دونوں کو ملا کر خچر کا جوٹھا مشکوک ہوا ۔
ترجمہ: (١٧٥) اگر انسان پر پیشاب کا چھینٹا پڑ جائے سوئی کے ناکے کے برابر تو یہ کوئی چیز نہیں ہے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ اس سے بچنا ممکن نہیں۔
تشریح : انسان کے کپڑے یا بدن پر پیشاب کے بہت سے چھینٹے پڑ گئے تو اس سے نماز جائز ہو جائے گی بشرطیکہ کثیر فاحش نہ ہو جائے ، یا ایک درھم کے برابر نہ ہو جائے ۔
وجہ: اسکی وجہ یہ ہے کہ پیشاب کا باریک باریک چھینٹا نظر نہیں آتا اسلئے اسکو بار بار دھونے میں مشقت شدیدہ ہے اور اس میںحرج ہے اسلئے وہ معاف ہے ۔
(٢)اس اثر سے استدلال کیا جاسکتا ہے ۔ عن ابی جعفر و عطاء أنھما لم یریا بدم البراغیث و البعوض بأسا ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٢٢٩ فی دم البراغیث و الذباب ، ج اول ، ص ١٧٥، نمبر ٢٠١٩) اس اثر میں ہے کہ مکھی کے خون سے کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اسکی ایک وجہ یہ ہے کہ اسکا خون باریک باریک چھینٹے کی طرح ہو تا ہے اسلئے یہ معاف ہے (٣) عن ابراھیم قال : لا بأس بأبوال البھائم الا المستنقع ۔ای المجتمع۔(مصنف عبد الرزاق ، باب ابوال الدواب و روثھا ، ج اول ، ص ٣٧٧ ، نمبر ١٤٨٠ )اس اثر میں ہے کہ جانور کے پیشاب کے چھینٹے پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں ہے البتہ بہت زیادہ ہو جائے تو پھر دھویا جائے گا ۔(٤) سألت الزھری عن رجل یغتسل من الجنابة فینتضح فی الاناء من جلدہ ، فقال : لا بأس بہ (مصنف عبد الرزاق ، باب الماء یمسہ الجنب أو یدخلہ ،ج اول ، ص ٩٢، نمبر٣١١) اس اثر میں ہے کہ جنبی کے غسل کا چھینٹا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں