١ اما دم السمک فلانہ لیس بدم علی التحقیق فلا یکون نجساً، ٢ و عن ابی یوسف انہ اعتبر فیہ الکثیر الفاحش فاعتبر ہ نجساً ٣ و اما لعاب البغل و الحمار فلانہ مشکوک فیہ فلا یتنجس بہ الطاھر
گا ۔
ترجمہ: ١ بہر حال مچھلی کا خون تو تحقیق یہ ہے کہ وہ خون ہی نہیں ہے اسلئے وہ نجس نہیں ہے ۔
تشریح : خون کی خاصیت یہ ہے کہ دھوپ میں رکھنے سے کالا ہو جاتا ہے اور مچھلی کے خون کو دھوپ میں رکھیں تو وہ کا لا نہیں ہو گا بلکہ سفید مائل ہو جائے گاجس سے معلوم ہوا کہ وہ خون نہیں ہے ، دوسری بات یہ ہے کہ خون والا جانور پانی میں نہیں رہ سکتا ، اور مچھلی پانی میں رہتی ہے جس سے معلوم ہوا کہ مچھلی میں خون نہیں ہو تا۔اور جب خون نہیںہے تو اس سے کپڑا ناپاک نہیں ہو گا ۔باقی دلائل اوپر گزرے ۔
ترجمہ: ٢ امام ابو یوسف سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے اس میں کثیر فاحش کا اعتبار کیا ہے ، تو گویا کہ انہوں نے اسکو ناپاک قرار دیا ۔
تشریح: امام ابو یوسف کی ایک روایت یہ ہے کہ بہت زیادہ ہو تو اسکو دھونا چاہئے ، انکا مستدل یہ اثر ہے ۔عن الحسن قال : لا بأس بدم السمک الا ان یقذر ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ،٢٣٠فی دم السمک ، ج اول ، ص ١٧٥، نمبر ٢٠٢٤) اس اثر میں ہے کہ عام حالات میں مچھلی کے خون سے کوئی حرج نہیںہے البتہ بہت زیادہ ہو جائے تو دھونا چاہئے۔اس مسلک کا حاصل یہ ہو گا کہ کسی نہ کسی درجے میں مچھلی کا خون ناپاک ہے ۔
ترجمہ: ٣ بہر حال خچر اور گدھے کا تھوک تو وہ مشکوک ہے تو اس سے پاک چیز ناپاک نہیں ہو گی ۔
تشریح: گدھے اور خچر کے تھو ک کے بارے میں ابھی حدیث گزری کہ وہ مشکوک ہے اسلئے وہ پاک کپڑے پر لگ جائے تو چونکہ وہ یقینی طور پر پاک ہے اسلئے ایک مشکوک چیز پاک چیز کو ناپاک نہیں کرے گی ۔اس اثر میں اسکا ثبوت ہے عن عطاء أنہ کان لایری بأسا بسور الحمار ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٣٢من قال : لا بأس بسو ء ر الحمار ، ج اول ، ص ٣٥، نمبر ٣١٢) اس اثر میں ہے کہ گدھے کے جوٹھے سے کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔ اور مکروہ ہونے کی دلیل یہ اثر ہے عن ابن عمر أنہ کان یکرہ سو رالحمار ( مصنف ابن ابی شیبة ،٣١ فی الوضوء بسو ر الحمار و الکلب ، من کرھہ ، ج اول ، ص ٣٥، نمبر٣٠٤) اس اثر میں گدھے کے جوٹھے کو مکروہ قرار دیا ہے ۔ اور دونوں اثروں کو ملا کر تھوک مشکوک ہو گا ۔
خچر کے بارے میں یہ اثر ہے۔ عن ابی عامر قال : لا بأس بسور البغل (مصنف ابن ابی شیبة ، ٣٢من قال : لا بأس بسو ء ر