Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

314 - 627
 ١ اما دم السمک فلانہ لیس بدم علی التحقیق فلا یکون نجساً، ٢  و عن ابی یوسف انہ اعتبر فیہ الکثیر الفاحش فاعتبر ہ نجساً  ٣  و اما لعاب البغل و الحمار فلانہ مشکوک فیہ فلا یتنجس بہ الطاھر

گا ۔
ترجمہ:   ١   بہر حال مچھلی کا خون تو تحقیق یہ ہے کہ وہ خون ہی نہیں ہے اسلئے وہ نجس نہیں ہے ۔
تشریح :  خون کی خاصیت یہ ہے کہ دھوپ میں رکھنے سے کالا ہو جاتا ہے اور مچھلی کے خون کو دھوپ میں رکھیں تو وہ کا لا نہیں ہو گا بلکہ سفید مائل ہو جائے گاجس سے معلوم ہوا کہ وہ خون نہیں  ہے  ، دوسری بات یہ ہے کہ خون والا جانور پانی میں نہیں رہ سکتا ، اور مچھلی پانی میں رہتی ہے جس سے معلوم ہوا کہ مچھلی میں خون نہیں ہو تا۔اور جب خون نہیںہے تو اس سے کپڑا ناپاک نہیں ہو گا ۔باقی دلائل اوپر گزرے ۔
ترجمہ:  ٢   امام ابو یوسف  سے ایک روایت ہے کہ انہوں نے اس میں کثیر فاحش کا اعتبار کیا ہے ، تو گویا کہ انہوں نے اسکو ناپاک قرار دیا ۔
تشریح:   امام ابو یوسف  کی ایک روایت یہ ہے کہ بہت زیادہ ہو تو اسکو دھونا چاہئے ، انکا مستدل یہ اثر ہے ۔عن الحسن قال : لا بأس بدم السمک الا ان یقذر ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ،٢٣٠فی دم السمک ، ج اول ، ص ١٧٥، نمبر ٢٠٢٤) اس اثر میں ہے کہ عام حالات میں مچھلی کے خون سے کوئی حرج نہیںہے البتہ بہت زیادہ ہو جائے تو دھونا چاہئے۔اس مسلک کا حاصل یہ ہو گا کہ کسی نہ کسی درجے میں مچھلی کا خون ناپاک ہے ۔
ترجمہ: ٣   بہر حال خچر اور گدھے کا تھوک تو وہ مشکوک ہے تو اس سے پاک چیز ناپاک نہیں ہو گی ۔
تشریح:  گدھے اور خچر کے تھو ک کے بارے میں ابھی حدیث گزری کہ وہ مشکوک ہے اسلئے وہ پاک کپڑے پر لگ جائے تو چونکہ وہ یقینی طور پر پاک ہے اسلئے ایک مشکوک چیز پاک چیز کو ناپاک نہیں کرے گی ۔اس اثر میں اسکا ثبوت ہے عن عطاء أنہ کان لایری بأسا بسور الحمار ( مصنف ابن ابی شیبة ، ٣٢من قال : لا بأس بسو ء ر الحمار ، ج اول ، ص ٣٥، نمبر ٣١٢) اس اثر میں ہے کہ گدھے کے جوٹھے سے کوئی حرج کی بات نہیں ہے ۔ اور مکروہ ہونے کی دلیل یہ اثر ہے عن ابن عمر أنہ کان یکرہ سو رالحمار ( مصنف ابن ابی شیبة ،٣١  فی الوضوء بسو ر الحمار و الکلب ، من کرھہ  ، ج اول ، ص ٣٥، نمبر٣٠٤)  اس اثر میں گدھے کے جوٹھے کو مکروہ قرار دیا ہے ۔ اور دونوں اثروں کو ملا کر تھوک مشکوک ہو گا ۔
خچر کے بارے میں یہ اثر ہے۔ عن ابی عامر قال : لا بأس بسور البغل (مصنف ابن ابی شیبة ، ٣٢من قال : لا بأس بسو ء ر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter