درھم سے زیادہ بھی لگ جائے تو کپڑا پاک رہے گا اور اس میں نماز پڑھنا جائز رہے گا ۔
مچھلی کا خون اسلئے پاک ہے کہ مچھلی کو بغیر ذبح کئے ہوئے بھی کھانا حلال ہے ۔اور بغیر ذبح کے کھائے گا تو خون بھی اسکے ساتھ کھائے گاتو جب تک اسکا خون پاک نہیں ہے تو کھائے گا کیسے !اسلئے مچھلی کا خون پاک ہے اور کپڑے میں لگ جاے تو وہ ناپاک نہیں ہو گا ۔بغیر ذبح کے کھانا حلال ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن ابی ھریرة قال رسول اللہ ۖ ھو الطھور ماء ہ الحل میتتہ ۔(ترمذی شریف، باب ماجاء فی ماء البحر انہ طھور ص ٢١ نمبر ٦٩ابو داود ،باب الوضوء بماء البحر ،ص ١٣نمبر ٨٣) اس حدیث میں ہے کہ مردہ یعنی مچھلی حلال ہے ۔ (٢) حدیث میں ہے۔عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ۖ قال احلت لنا میتتان الحوت والجراد ۔ (ابن ماجہ شریف، باب صید الحیتان والجراد ص ٤٦٧ نمبر ٣٢١٨ دار قطنی ، کتاب الاشربة ج رابع ص ١٨٤ نمبر ٤٦٨٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مچھلی بغیر ذبح کے حلال ہے اسلئے اسکا خون بھی پاک ہو گا ۔
اور گدھے اور خچر کا لعاب پاک ہے اسلئے کہ اسکا گوشت پاک اور حلال ہے ۔ اسکے گوشت حلا ل ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن غالب ابن أبجر قال : أصابتنا سنة .....فقالۖ: أطعم أھلک من سمین حمرک فانما حرمتھا من أجل جوال القریة ، یعنی الجلالة ۔( ابوداود شریف ، باب فی أکل لحوم الحمر الاھلیة ،ص ٥٤٣،نمبر٣٨٠٩) اس حدیث میں ہے کہ گدھے کا گوشت اصل کے اعتبار سے حلال ہے صرف گندگی پر پھرنے کی وجہ سے حرام کیا ہے اسلئے اسکا تھوک پاک ہو گا۔اور یہی حال خچر کا بھی ہو گا کیونکہ وہ بھی گدھے کی ہی نسل ہے ۔
یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسکا لعاب مشکوک ہے کیونکہ لعاب گوشت سے پیدا ہو تا ہے گوشت کے سلسلے میں جہاں حلال کی حدیث ہے وہاں حرام ہو نے کی بھی حدیث ہے، وہ یہ ہے ۔عن ابن عمر نھی النبی ۖ عن لحوم الحمر الاھلیة یوم خیبر۔ (بخاری شریف ، باب لحوم الحمر الانسیة ص ٨٢٩ نمبر ٥٥٢١ مسلم شریف ، باب تحریم اکل لحم الحمر الانسیة ،ص ١٤٩ ،نمبر ١٩٣٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھریلو گدھے کا گوشت حلال نہیں ہے ۔ پہلے جائز تھا ،جنگ خیبر میں حرام ہوگیا۔اور خچر کا گوشت حرام ہے اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔عن خالد بن الولید ان رسول اللہ ۖ نھی عن اکل لحوم الخیل والبغال والحمیر وکل ذی ناب من السباع ۔ (نسائی شریف، باب تحریم اکل لحوم الخیل ص ٦٠٢ نمبر ٤٣٣٧ ابن ماجہ شریف ، باب لحوم البغال ص ٤٦٤ نمبر ٣١٩٨) اس حدیث سے معلوم ہوا خچر کا گوشت حلال نہیں ہے(٢) عن خالد بن ولید انہ سمع رسول اللہ ۖ یقول لا یحل اکل لحوم الخیل والبغال والحمیر ۔ (نسائی شریف، باب تحریم اکل لحوم الخیل ص ٦٠٢ نمبر ٤٣٣٦ ابن ماجہ شریف، باب لحوم البغال ص ٤٦٤ نمبر ٣١٩٨) ان دونوں حدیثو ں کو ملانے سے یہ ہو تا ہے کہ گدھے اور خچر کا گوشت مکروہ ہے اور اصل کے اعتبار سے اسکا گوشت حلال ہے اسلئے زیادہ سے زیادہ اسکا لعاب مشکوک ہے اسلئے کپڑے پر لگنے سے کپڑا ناپاک نہیں ہو