Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

313 - 627
درھم سے زیادہ بھی لگ جائے تو کپڑا پاک رہے گا اور اس میں نماز پڑھنا جائز رہے گا ۔
مچھلی کا خون اسلئے پاک ہے کہ مچھلی کو بغیر ذبح کئے ہوئے بھی کھانا حلال ہے  ۔اور بغیر ذبح کے کھائے گا تو خون بھی اسکے ساتھ کھائے گاتو جب تک اسکا خون پاک نہیں ہے تو کھائے گا کیسے !اسلئے مچھلی کا خون پاک ہے اور کپڑے میں لگ جاے تو وہ ناپاک نہیں ہو گا ۔بغیر ذبح کے کھانا حلال ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن ابی ھریرة قال رسول اللہ ۖ ھو الطھور ماء ہ الحل میتتہ ۔(ترمذی شریف، باب ماجاء فی ماء البحر انہ طھور ص ٢١ نمبر ٦٩ابو داود ،باب الوضوء بماء البحر ،ص ١٣نمبر ٨٣) اس حدیث میں ہے کہ مردہ یعنی مچھلی  حلال ہے ۔ (٢) حدیث میں ہے۔عن عبد اللہ بن عمر ان رسول اللہ ۖ قال احلت لنا میتتان الحوت والجراد ۔ (ابن ماجہ شریف، باب صید الحیتان والجراد ص ٤٦٧ نمبر ٣٢١٨ دار قطنی ، کتاب الاشربة ج رابع ص ١٨٤ نمبر ٤٦٨٧) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مچھلی بغیر ذبح کے حلال ہے اسلئے اسکا خون بھی پاک ہو گا  ۔
اور گدھے  اور خچر کا لعاب پاک ہے اسلئے کہ اسکا گوشت پاک اور حلال ہے ۔ اسکے گوشت حلا ل ہو نے کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن غالب ابن أبجر قال : أصابتنا سنة .....فقالۖ: أطعم أھلک من سمین حمرک فانما حرمتھا من أجل جوال القریة ، یعنی الجلالة ۔( ابوداود شریف ، باب فی أکل لحوم الحمر الاھلیة ،ص ٥٤٣،نمبر٣٨٠٩) اس حدیث میں ہے کہ گدھے کا گوشت اصل کے اعتبار سے حلال ہے صرف گندگی پر پھرنے کی وجہ سے حرام کیا ہے اسلئے اسکا تھوک پاک ہو گا۔اور یہی حال خچر کا بھی ہو گا کیونکہ وہ بھی گدھے کی ہی نسل ہے ۔
 یا زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسکا لعاب مشکوک ہے کیونکہ لعاب گوشت سے پیدا ہو تا ہے گوشت کے سلسلے میں جہاں حلال کی حدیث ہے وہاں حرام ہو نے کی بھی حدیث ہے، وہ یہ ہے  ۔عن ابن عمر نھی النبی ۖ عن لحوم الحمر الاھلیة یوم خیبر۔ (بخاری شریف ، باب لحوم الحمر الانسیة ص ٨٢٩ نمبر ٥٥٢١  مسلم شریف ، باب تحریم اکل لحم الحمر الانسیة ،ص ١٤٩ ،نمبر ١٩٣٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھریلو گدھے کا گوشت حلال نہیں ہے ۔ پہلے جائز تھا ،جنگ خیبر میں حرام ہوگیا۔اور خچر کا گوشت حرام ہے اس کی دلیل یہ حدیث ہے۔عن خالد بن الولید ان رسول اللہ ۖ نھی عن اکل لحوم الخیل والبغال والحمیر وکل ذی ناب من السباع ۔ (نسائی شریف،  باب تحریم اکل لحوم الخیل ص ٦٠٢ نمبر ٤٣٣٧ ابن ماجہ شریف ، باب لحوم البغال ص ٤٦٤ نمبر ٣١٩٨) اس حدیث سے معلوم ہوا خچر کا گوشت حلال نہیں ہے(٢)  عن خالد بن ولید انہ سمع رسول اللہ ۖ یقول لا یحل اکل لحوم الخیل والبغال والحمیر ۔ (نسائی شریف، باب تحریم اکل لحوم الخیل ص ٦٠٢ نمبر ٤٣٣٦ ابن ماجہ شریف، باب لحوم البغال ص ٤٦٤ نمبر ٣١٩٨) ان دونوں حدیثو ں کو ملانے سے یہ ہو تا ہے کہ گدھے اور خچر کا گوشت مکروہ ہے اور اصل کے اعتبار سے اسکا گوشت حلال ہے اسلئے زیادہ سے زیادہ اسکا لعاب مشکوک ہے اسلئے کپڑے پر لگنے سے کپڑا  ناپاک نہیں ہو 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter