Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

312 - 627
٢ ھو یقول ان التخفیف للضرورة و لا ضرورة لعدم المخالطة فلا یخفف، ٣  و لھما انھا تذرق من الھواء و التحامی عنہ متعذر فتحققت الضرورة،   ٤  و لو وقع فی الاناء قیل یفسد و قیل لا یفسد لتعذر صون الاوانی عنہ،  (١٧٤) و ان اصابہ من دم السمک،او من لعاب البغل،او الحمار اکثر من قدرالدرھم اجزأت الصلوة فیہ) 

درھم کی مقدار سے زیادہ بھی لگ جائے تو ناپاک نہیں کیونکہ نجاست خفیفہ چوتھائی کپڑے تک معاف ہے۔ اور امام محمد  کے نزدیک نجاست غلیظہ ہے اسلئے درھم کی مقدار لگ جائے تو معاف نہیں دھونا پڑے گا  ۔
ترجمہ:  ٢   امام محمد  فرماتے ہیں کہ تخفیف ضرورت کی بنا پر ہوتی ہے اور یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے اختلاط نہ ہو نے کی وجہ سے اسلئے تخفیف نہیں کی ۔
ترجمہ: ٣   اور امام ابوحنیفہ  اور امام ابو یوسف   فر ماتے ہیں کہ یہ پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے پیخانہ کر تے ہیں اور اس سے بچنا مشکل ہے اسلئے ضرورت متحقق ہو گئی ۔  
تشریح :یہ دونوں حضرات یہ فر ماتے ہیں کہ پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے لوگوں پر بیٹ کر دیتے ہیں اور اس سے بچنا مشکل ہے اسلئے ضرورت متحقق ہو گئی ، اور اسکی نجاست میں تخفیف کر نے کی ضرورت ہے ۔ اسلئے یہ نجاست خفیفہ ہو گی ۔ باقی دلائل اوپر گزر گئے ۔
ترجمہ: ٤   اور اگر بیٹ برتن میں گر گئی تو بعض حضرات نے فر مایا کہ اسکو ناپاک کر دے گی ، اور بعض حضرات نے فر مایا کہ اسکو ناپاک نہیں کرے گی ، اسلئے کہ بر تنوں کو بھی اس سے بچانا مشکل ہے ۔
ان اقوال کا مدار اس بات پر ہے کہ برتن کو پرندے کی بیٹ سے بچانا متعذر ہے یا نہیں ۔امام ابو بکر اعمش نے فر مایا کہ برتن گھر کے اندر محفوظ رہتا ہے اس میں اڑتے ہوئے پرندے بیٹ نہیں کر سکتے اور اسکو بیٹ سے بچانا بہت آسان ہے اسلئے اس میں تخفیف کی ضرورت نہیں ، اگر برتن میں بیٹ کر دے تو برتن ناپاک ہو جائے گا ۔ اور امام کرخی نے فر مایا کہ برتن کو بھی بیٹ سے نہیں بچا سکتے اسلئے اس میں بھی تخفیف کی ضرورت ہے، اگر برتن  میں بیٹ کر دیا تو وہ ناپاک نہیں ہو گا ۔اسلئے کہ برتن کو بچانا متعذر ہے ۔
لغت:   خرء : پرندے کی بیٹ ۔ المخالطة : اختلاط  سے مشتق ہے : گھل مل جانا ۔ تذرق :  بیٹ کر نا ،اڑتے ہوئے بیٹ کر نے کو تذرق کہتے ہیں ۔التحامی : بچنا ۔صون : بچنا ، محفوط رکھنا ۔اوانی : آنیة سے مشتق ہے ، برتن ۔
 ترجمہ:  (١٧٤)  اگر کسی کو درھم کی مقدار سے زیادہ مچھلی کا خون لگ گیا ، یا  خچرکا تھوک لگ گیا ، یاگدھے کا تھوک لگ گیا تو اس میں نماز جائز ہے ۔
تشریح :   اس مسئلے کا مدار اس بات پر ہے کہ مچھلی کا خون پاک ہے ، اور گدھے اور خچر کا لعاب یا تو پاک ہے ، یا مشکوک ہے اسلئے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter