٢ ھو یقول ان التخفیف للضرورة و لا ضرورة لعدم المخالطة فلا یخفف، ٣ و لھما انھا تذرق من الھواء و التحامی عنہ متعذر فتحققت الضرورة، ٤ و لو وقع فی الاناء قیل یفسد و قیل لا یفسد لتعذر صون الاوانی عنہ، (١٧٤) و ان اصابہ من دم السمک،او من لعاب البغل،او الحمار اکثر من قدرالدرھم اجزأت الصلوة فیہ)
درھم کی مقدار سے زیادہ بھی لگ جائے تو ناپاک نہیں کیونکہ نجاست خفیفہ چوتھائی کپڑے تک معاف ہے۔ اور امام محمد کے نزدیک نجاست غلیظہ ہے اسلئے درھم کی مقدار لگ جائے تو معاف نہیں دھونا پڑے گا ۔
ترجمہ: ٢ امام محمد فرماتے ہیں کہ تخفیف ضرورت کی بنا پر ہوتی ہے اور یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے اختلاط نہ ہو نے کی وجہ سے اسلئے تخفیف نہیں کی ۔
ترجمہ: ٣ اور امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف فر ماتے ہیں کہ یہ پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے پیخانہ کر تے ہیں اور اس سے بچنا مشکل ہے اسلئے ضرورت متحقق ہو گئی ۔
تشریح :یہ دونوں حضرات یہ فر ماتے ہیں کہ پرندے ہوا میں اڑتے ہوئے لوگوں پر بیٹ کر دیتے ہیں اور اس سے بچنا مشکل ہے اسلئے ضرورت متحقق ہو گئی ، اور اسکی نجاست میں تخفیف کر نے کی ضرورت ہے ۔ اسلئے یہ نجاست خفیفہ ہو گی ۔ باقی دلائل اوپر گزر گئے ۔
ترجمہ: ٤ اور اگر بیٹ برتن میں گر گئی تو بعض حضرات نے فر مایا کہ اسکو ناپاک کر دے گی ، اور بعض حضرات نے فر مایا کہ اسکو ناپاک نہیں کرے گی ، اسلئے کہ بر تنوں کو بھی اس سے بچانا مشکل ہے ۔
ان اقوال کا مدار اس بات پر ہے کہ برتن کو پرندے کی بیٹ سے بچانا متعذر ہے یا نہیں ۔امام ابو بکر اعمش نے فر مایا کہ برتن گھر کے اندر محفوظ رہتا ہے اس میں اڑتے ہوئے پرندے بیٹ نہیں کر سکتے اور اسکو بیٹ سے بچانا بہت آسان ہے اسلئے اس میں تخفیف کی ضرورت نہیں ، اگر برتن میں بیٹ کر دے تو برتن ناپاک ہو جائے گا ۔ اور امام کرخی نے فر مایا کہ برتن کو بھی بیٹ سے نہیں بچا سکتے اسلئے اس میں بھی تخفیف کی ضرورت ہے، اگر برتن میں بیٹ کر دیا تو وہ ناپاک نہیں ہو گا ۔اسلئے کہ برتن کو بچانا متعذر ہے ۔
لغت: خرء : پرندے کی بیٹ ۔ المخالطة : اختلاط سے مشتق ہے : گھل مل جانا ۔ تذرق : بیٹ کر نا ،اڑتے ہوئے بیٹ کر نے کو تذرق کہتے ہیں ۔التحامی : بچنا ۔صون : بچنا ، محفوط رکھنا ۔اوانی : آنیة سے مشتق ہے ، برتن ۔
ترجمہ: (١٧٤) اگر کسی کو درھم کی مقدار سے زیادہ مچھلی کا خون لگ گیا ، یا خچرکا تھوک لگ گیا ، یاگدھے کا تھوک لگ گیا تو اس میں نماز جائز ہے ۔
تشریح : اس مسئلے کا مدار اس بات پر ہے کہ مچھلی کا خون پاک ہے ، اور گدھے اور خچر کا لعاب یا تو پاک ہے ، یا مشکوک ہے اسلئے