١ فقدقیل ان الاختلاف فی النجاسة، و قد قیل فی المقدار و ھو الاصح
ترجمہ: (١٧٣) اور اگر کپڑے کو گوشت نہ کھائے جانے والے پرندے کی بیٹ درھم کی مقدار سے زیادہ لگ گئی تب بھی اس میں امام ابو حنیفہ اور امام یوسف کے نزدیک نماز جائز ہو جائے گی ، اور امام محمد نے فر مایا کہ نماز جائز نہیں ہو گی ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک ایسے پرندے کی بیٹ نجاست خفیفہ ہے جسکا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ پرندہ اڑتے ہوئے اوپر سے آدمی پر بیٹ کر دیتا ہے ، یہ مجبوری ہے اسلئے ایک درھم سے زیادہ بھی ہو تو نماز جائز ہو جائے گی (٢)عن الحسن قال : سقطت ھائمة علی الحسن فذرقت علیہ فقال لہ بعض القوم : نأتیک بماء تغسلہ فقال: لا، و جعل یمسحہ عنہ ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٥ الذی یصلی و فی ثوبہ خرء الطیر ، ج اول ، ص ١١٠، نمبر ١٢٥٦ مصنف عبد الرزاق ، باب خرء الدجاج و طین المطر ، ج اول ، ص ٣٧٦، نمبر ١٤٧٤ ) اس اثر میں ہے کہ پرندے کی بیٹ پاک ہے ، یا نجاست خفیفہ ہے ۔
اور امام محمد کے نزدیک پرندے کی بیٹ درھم کی مقدار سے زائد لگ جائے تو اس میں نماز جائز نہیں ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ انکے یہاں یہ نجاست غلیظہ ہے ۔ اور نجاست غلیظہ ہونے کی دلیل (١)ایک تو یہ ہے کہ اسکا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے ، اور پہلے گزر چکا ہے کہ جس جانور کا گوشت نہیں کھا یا جاتا ہو اسکا پیخانہ نجاست غلیظہ ہے اسلئے اسکا پیخانہ بھی نجاست غلیظہ ہو نا چاہئے(٢)پرندے بلی کی طرح گھر میں نہیں رہتے اور ہر وقت برتن میں منہ نہیں ڈالتے یہ تو کبھی کبھار اوپر سے پیخانہ کر دیتے ہیں اسلئے اس میں اتنی مجبوری نہیں ہے کہ اسکے پیخانہ کو نجاست غلیظہ کے بجائے نجاست خفیفہ قرار دیا جائے ، اسلئے اسکا پیخانہ نجاست غلیظہ ہی رہے گا ۔(٣) اسکے لئے اثر بھی ہے عن اسرائیل بن موسی قال : کنت مع ابن سیرین فسقط علیہ بول الخفاش فنضحہ ، وقال : ما کنت اری النضح شیئاحتی بلغنی عن ستة من أصحاب محمد ۖ ۔ ( مصنف عبدالرزاق ، باب بول الخفاش ، ج اول ،ص ٣٧٦، نمبر ١٤٧٢) اس اثر میں چمگادڑ کا پیشاب دھویا گیا جو پرندے کی قسم میں سے ہے جس سے معلوم ہوا کہ پرندے کی بیٹ نجاست غلیظہ ہے ۔
ترجمہ: ١ بعض لوگوں نے کہا کہ اختلاف نجاست کے بارے میں ہے ۔اور کہا گیا کہ اختلاف مقدار میں ہے اور وہی صحیح ہے۔
تشریح : امام کرخی سے منقول ہے کہ ان دونوں حضرات کے درمیان اختلاف نجاست اور عدم نجاست کے بارے میں ہے ، یعنی امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک پرندے کی بیٹ پاک ہے اور امام محمد کے نزدیک ناپاک ہے ۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ تینوں حضرات کے یہاں پرندے کی بیٹ ناپاک ہے ، البتہ امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے جس کی بنا پر