Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

311 - 627
١ فقدقیل ان الاختلاف فی النجاسة،  و قد قیل فی المقدار و ھو الاصح  

ترجمہ: (١٧٣)  اور اگر کپڑے کو گوشت نہ کھائے جانے والے پرندے کی بیٹ درھم کی مقدار سے زیادہ لگ گئی تب بھی اس میں امام ابو حنیفہ اور امام یوسف  کے نزدیک نماز جائز ہو جائے گی ، اور امام محمد  نے فر مایا کہ نماز جائز نہیں ہو گی ۔
تشریح :   امام ابو حنیفہ  اور امام ابو یوسف  کے نزدیک ایسے پرندے کی بیٹ نجاست خفیفہ ہے جسکا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ پرندہ اڑتے ہوئے اوپر سے آدمی پر بیٹ کر دیتا ہے ، یہ مجبوری ہے اسلئے ایک درھم سے زیادہ بھی ہو تو نماز جائز ہو جائے گی (٢)عن الحسن قال : سقطت ھائمة علی الحسن فذرقت علیہ فقال لہ بعض القوم : نأتیک بماء تغسلہ فقال: لا، و جعل یمسحہ عنہ ۔( مصنف ابن ابی شیبة ، ١٤٥ الذی یصلی و فی ثوبہ خرء الطیر ، ج اول ، ص ١١٠، نمبر ١٢٥٦ مصنف عبد الرزاق ، باب خرء الدجاج و طین المطر ، ج اول ، ص ٣٧٦، نمبر ١٤٧٤ )  اس اثر میں ہے کہ پرندے کی بیٹ پاک ہے ، یا نجاست خفیفہ ہے ۔
اور امام محمد  کے نزدیک پرندے کی بیٹ درھم کی مقدار سے زائد لگ جائے تو اس میں نماز جائز نہیں ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ انکے یہاں یہ نجاست غلیظہ ہے ۔ اور نجاست غلیظہ ہونے کی دلیل (١)ایک تو یہ ہے کہ اسکا گوشت نہیں کھایا جاتا ہے ، اور پہلے گزر چکا ہے کہ جس جانور کا گوشت نہیں کھا یا جاتا ہو اسکا پیخانہ نجاست غلیظہ ہے اسلئے اسکا پیخانہ بھی نجاست غلیظہ ہو نا چاہئے(٢)پرندے بلی کی طرح گھر میں نہیں رہتے اور ہر وقت برتن میں منہ نہیں ڈالتے یہ تو کبھی کبھار اوپر سے پیخانہ کر دیتے ہیں اسلئے اس میں اتنی مجبوری نہیں ہے کہ اسکے پیخانہ کو نجاست غلیظہ کے بجائے نجاست خفیفہ قرار دیا جائے ، اسلئے اسکا پیخانہ نجاست غلیظہ ہی رہے گا ۔(٣) اسکے لئے اثر بھی ہے عن اسرائیل بن موسی قال : کنت مع ابن سیرین فسقط علیہ بول الخفاش فنضحہ ، وقال : ما کنت اری النضح شیئاحتی بلغنی عن ستة من أصحاب محمد  ۖ ۔ ( مصنف عبدالرزاق ، باب بول الخفاش ، ج اول ،ص ٣٧٦، نمبر ١٤٧٢)  اس اثر میں چمگادڑ کا پیشاب دھویا گیا جو پرندے کی قسم میں سے ہے جس سے معلوم  ہوا کہ پرندے کی بیٹ نجاست غلیظہ ہے ۔
ترجمہ:   ١   بعض لوگوں نے کہا کہ اختلاف نجاست کے بارے میں ہے ۔اور کہا گیا کہ اختلاف مقدار میں ہے اور وہی صحیح ہے۔
تشریح :   امام کرخی  سے منقول ہے کہ ان دونوں حضرات کے درمیان اختلاف نجاست اور عدم نجاست کے بارے میں ہے ، یعنی امام ابو حنیفہ  اور امام ابو یوسف  کے نزدیک پرندے کی بیٹ پاک ہے اور امام محمد  کے نزدیک ناپاک ہے ۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ تینوں حضرات کے یہاں پرندے کی بیٹ ناپاک ہے ، البتہ امام ابوحنیفہ  اور امام ابو یوسف  کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے جس کی بنا پر 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter