٢ و اما عند ابی حنیفہ فالتخفیف لتعارض الآثار (١٧٣)و ان اصابہ خرء مالا یوکل لحمہ من الطیور اکثر من قدر الدرھم اجزأت الصلوة فیہ عندابی حنیفہ وابی یوسف ، و قال محمد لا یجوز)
تشریح : یہاں دو باتیں عرض کر رہے ہیں ، ایک تو یہ کہ امام محمد کے نزدیک گھوڑے کا گوشت حلال ہے چاہے اس وقت نہ کھاتے ہوں ۔ اور جب گوشت حلال ہے تو اوپر کی احادیث کی وجہ سے حلال جانور کا پیشاب امام محمد کے نزدیک حدیث عرینہ کی وجہ سے پاک ہے اسلئے گھوڑے کا پیشاب کتنا ہی لگ جائے امام محمد کے نزدیک کپڑا پاک رہے گا ۔گھوڑے کا حلال ہو نے کی دلیل اوپر حدیث گزر گئی ۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ امام محمد اور امام ابو حنیفہ کے درمیان اختلاف ہو گیا ، اور مجتہدین میں اختلاف کی وجہ سے امام ابو یوسف کے نزدیک تخفیف ہو جاتی ہے اسلئے گھوڑے کا پیشاب نجاست خفیفہ ہوگا ۔
ترجمہ: ٢ اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک تخفیف احادیث کے تعارض کی بنا پر ہو گی ۔
تشریح : اوپر قاعدہ گزرا کہ ایک چیز کے بارے میں دو قسم کے احادیث آجائے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک تخفیف ہو جاتی ہے ، اور اوپر گھوڑے کے گوشت کے بارے میںدونوں قسم کی احادیث آگئیں اسلئے نجاست خفیفہ ہو جائے گا ۔ پھر حلال جانور کے پیشاب کے بارے میں دو قسم کی احادیث گزری اسلئے وہ نجاست خفیفہ ہو گا ۔ دونوں احادیث یہ ہیں ۔پاک ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے (١) عن انس ان ناسا من عرینة قدموا المدینة فاجتووھا فبعثھم رسول اللہ ۖ فی ابل الصدقة وقال اشربوا من البانھا وابوالھا ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی بول ما یؤکل لحمہ ص ٢١ نمبر ٧٢) آپۖ نے اہل عرینہ کو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا۔وہ پاک ہوگا تب ہی تو پیشاب پینے کا حکم دیا ہوگا؟ (٢)عن البراء قال قال رسول اللہ ۖ لا بأس ببول ما اکل لحمہ ۔(دار قطنی، باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ والحکم فی بول ما یؤکل لحمہ ص ١٣٥ نمبر ٤٥٤) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مأکول اللحم کا پیشاب پاک ہے۔ پیشاب کے ناپاک ہونے کی دلیل (١)عن ابن عباس... فقال النبی ۖ یعذبان وما یعذبان فی کبیر ثم قال بلی کان احدھما لا یستتر من بولہ وکان الآخر یمشی بالنمیمة ۔ (بخاری شریف، باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ ص ٣٥ نمبر ٢٢٦ ترمذی شریف ، باب التشدید فی البول ص٣١ نمبر ٧٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی پیشاب لگنا گناہ کبیرہ ہے۔اس لئے وہ ناپاک ہے(٢) عن انس قال قال رسول اللہ ۖ تنزھوا من البول فان عامة عذاب القبر منہ ۔(دار قطنی ،باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ ج اول ص ١٣٥ نمبر ٤٥٣) یہ دونوں قسم کی احادیث مأکول اللحم کے پیشاب کے بارے میں ہیں۔اس لئے اس کے پیشاب کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہو گیا۔ اس لئے اس کا پیشاب امام ابو حنیفہ کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے ۔