Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

310 - 627
٢  و اما عند ابی حنیفہ فالتخفیف لتعارض الآثار (١٧٣)و ان اصابہ خرء مالا یوکل لحمہ من الطیور اکثر من قدر الدرھم اجزأت الصلوة فیہ عندابی حنیفہ وابی یوسف ، و قال محمد  لا یجوز) 

تشریح :   یہاں دو باتیں عرض کر رہے ہیں ، ایک تو یہ کہ امام محمد  کے نزدیک گھوڑے کا گوشت حلال ہے چاہے اس وقت نہ کھاتے ہوں ۔ اور جب گوشت حلال ہے تو اوپر کی احادیث کی وجہ سے حلال جانور کا پیشاب امام محمد  کے نزدیک حدیث عرینہ کی وجہ سے پاک ہے اسلئے گھوڑے کا پیشاب کتنا ہی لگ جائے امام محمد کے نزدیک کپڑا پاک رہے گا ۔گھوڑے کا حلال ہو نے کی دلیل اوپر حدیث گزر گئی ۔
اور دوسری بات یہ ہے کہ امام محمد  اور امام ابو حنیفہ  کے درمیان اختلاف ہو گیا ، اور مجتہدین میں اختلاف کی وجہ سے امام ابو یوسف  کے نزدیک تخفیف ہو جاتی ہے اسلئے گھوڑے کا پیشاب نجاست خفیفہ ہوگا ۔ 
ترجمہ:   ٢   اور امام ابو حنیفہ  کے نزدیک تخفیف احادیث کے تعارض کی بنا پر ہو گی ۔
تشریح :   اوپر قاعدہ گزرا کہ ایک چیز کے بارے میں دو قسم کے احادیث آجائے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک تخفیف ہو جاتی ہے ، اور اوپر گھوڑے کے گوشت کے بارے میںدونوں قسم کی احادیث آگئیں اسلئے نجاست خفیفہ ہو جائے گا ۔ پھر حلال جانور کے  پیشاب کے بارے میں دو قسم کی احادیث گزری اسلئے وہ نجاست خفیفہ ہو گا ۔ دونوں احادیث یہ ہیں   ۔پاک ہونے کی دلیل یہ  حدیث ہے (١) عن انس ان ناسا من عرینة قدموا المدینة فاجتووھا فبعثھم رسول اللہ ۖ فی ابل الصدقة وقال اشربوا من البانھا وابوالھا ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی بول ما یؤکل لحمہ ص ٢١ نمبر ٧٢) آپۖ نے اہل عرینہ کو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا۔وہ پاک ہوگا تب ہی تو پیشاب پینے کا حکم دیا ہوگا؟ (٢)عن البراء قال قال رسول اللہ ۖ لا بأس ببول ما اکل لحمہ ۔(دار قطنی، باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ والحکم فی بول ما یؤکل لحمہ ص ١٣٥ نمبر ٤٥٤) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مأکول اللحم کا پیشاب پاک ہے۔ پیشاب کے ناپاک ہونے کی دلیل  (١)عن ابن عباس... فقال النبی ۖ یعذبان وما یعذبان فی کبیر ثم قال بلی کان احدھما لا یستتر من بولہ وکان الآخر یمشی بالنمیمة ۔ (بخاری شریف، باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ ص ٣٥ نمبر ٢٢٦ ترمذی شریف ، باب التشدید فی البول ص٣١ نمبر ٧٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی پیشاب لگنا گناہ کبیرہ ہے۔اس لئے وہ ناپاک ہے(٢)  عن انس قال قال رسول اللہ ۖ تنزھوا من البول فان عامة عذاب القبر منہ ۔(دار قطنی ،باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ ج اول ص ١٣٥ نمبر ٤٥٣) یہ دونوں قسم کی احادیث مأکول اللحم کے  پیشاب کے بارے میں ہیں۔اس لئے اس کے پیشاب کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہو گیا۔ اس لئے اس کا پیشاب امام ابو حنیفہ کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter