Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

309 - 627
(١٧٢)واصابہ بول الفرس لم یفسدہ حتی یفحش عندابی حنیفة وابی یوسف وعندمحمدلاتمنع وان فحش) ١ لان بول ما یوء کل لحمہ طاھر عندہ مخفف نجاستہ  عند ابی یوسف،  و لحمہ ماکول عندھما  

لگ جائے تب بھی اس میں نماز جائز ہے ۔ غالبا پہلے امام محمد  فرمایا کرتے تھے کہ رگڑنے سے موزہ پاک نہیں ہو گا لیکن جب ریّ تشریف لے گئے اور وہاں کے بلوی عام کو دیکھا تو اس سے رجوع کر گئے اور فر مایا کہ موزے پر نجاست لگ جائے تو اسکو رگڑنے پاک ہو جائیگا ۔
لغت : ۔ روث : لید ۔ اخثاء : گوبر ۔رکس : ناپاکی ۔یفحش : اتنا زیادہ لگ جائے کہ لوگ سمجھے کہ یہ واقعی زیادہ ہے ، دوسرا تر جمہ یہ ہے کہ چوتھائی کپڑے کو فاحش کہتے ہیں ۔امتلائ: ملء سے مشتق ہے بھر نا ۔ تنشف: چوس لینا ۔ مئونة : کار گزاری ، محنت ۔ الری : پچھلے زمانے میں مشہور شہر رہا ہے جہاں حضرت امام محمد کی وفات ہوئی ہے ، اس وقت یہ شہر روس میں ہے ۔بلوی : جس کام  میںلوگ بہت مبتلا ہوں اسکو بلوی کہتے ہیں ۔
ترجمہ:  (١٧٢)  اور اگر کپڑے کو گھوڑے کا پیشاب لگ گیاتو امام ابو حنیفہ  اور امام ابو یوسف کے نزدیک  ناپاک نہیں کرے گایہاں تک کہ فاحش ہو جائے  ، اور امام محمد  کے نزدیک ناپاک نہیں کرے گا چاہے فاحش ہو جائے ۔
تشریح :   گھوڑے کا گوشت حلال ہے لیکن جہاد کی وجہ سے منع  فرمایا ہے اسلئے اور ماکول اللحم جانور کی طرح اسکے دونوں نصوں میں تعارض ہو گیا ، اور تعارض نصین کی وجہ سے  امام ابو حنیفہ  کے نزدیک نجاست خفیفہ ہو جاتی ہے اسلئے گھوڑے کا پیشاب نجاست خفیفہ ہے ۔گھوڑے کے بارے میں دونوں قسم کی احادیث یہ ہیں ۔ حرمت کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن خالد بن ولید انہ سمع رسول اللہ ۖ یقول لا یحل اکل لحوم الخیل والبغال والحمیر ۔ (نسائی شریف، باب تحریم اکل لحوم الخیل ص ٦٠٢ نمبر ٤٣٣٦ ابن ماجہ شریف، باب لحوم البغال ص ٤٦٤ نمبر ٣١٩٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھوڑا کھانا حرام ہے۔
 حلت کی حدیث یہ ہے ۔ عن جابر بن عبد اللہ قال نھی النبی ۖ یوم خیبر عن لحوم الحمر ورخص فی لحوم الخیل ۔ (بخاری شریف، باب لحوم الخیل ص ٨٢٩ نمبر ٥٥٢٠ مسلم شریف، باب اباحة اکل لحوم الخیل ص ١٥٠ نمبر ١٩٤١) اسی کی دوسری روایت میں یہ بھی ہے۔ سمع جابر بن عبد اللہ یقول اکلنا زمن خیبر الخیل وحمر الوحش۔(مسلم شریف ،نمبر ١٩٤١ ٥٠٢٣ بخاری شریف ،نمبر ٥٥١٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت کھانا حلال ہے۔
ترجمہ:  ١   اسلئے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے اسکا پیشاب امام محمد  کے نزدیک پاک ہے ، اور امام ابو یوسف  کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے ، اور گھوڑے کا گوشت دونوں کے نزدیک کھایا جائے گا ۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter