(١٧٢)واصابہ بول الفرس لم یفسدہ حتی یفحش عندابی حنیفة وابی یوسف وعندمحمدلاتمنع وان فحش) ١ لان بول ما یوء کل لحمہ طاھر عندہ مخفف نجاستہ عند ابی یوسف، و لحمہ ماکول عندھما
لگ جائے تب بھی اس میں نماز جائز ہے ۔ غالبا پہلے امام محمد فرمایا کرتے تھے کہ رگڑنے سے موزہ پاک نہیں ہو گا لیکن جب ریّ تشریف لے گئے اور وہاں کے بلوی عام کو دیکھا تو اس سے رجوع کر گئے اور فر مایا کہ موزے پر نجاست لگ جائے تو اسکو رگڑنے پاک ہو جائیگا ۔
لغت : ۔ روث : لید ۔ اخثاء : گوبر ۔رکس : ناپاکی ۔یفحش : اتنا زیادہ لگ جائے کہ لوگ سمجھے کہ یہ واقعی زیادہ ہے ، دوسرا تر جمہ یہ ہے کہ چوتھائی کپڑے کو فاحش کہتے ہیں ۔امتلائ: ملء سے مشتق ہے بھر نا ۔ تنشف: چوس لینا ۔ مئونة : کار گزاری ، محنت ۔ الری : پچھلے زمانے میں مشہور شہر رہا ہے جہاں حضرت امام محمد کی وفات ہوئی ہے ، اس وقت یہ شہر روس میں ہے ۔بلوی : جس کام میںلوگ بہت مبتلا ہوں اسکو بلوی کہتے ہیں ۔
ترجمہ: (١٧٢) اور اگر کپڑے کو گھوڑے کا پیشاب لگ گیاتو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک ناپاک نہیں کرے گایہاں تک کہ فاحش ہو جائے ، اور امام محمد کے نزدیک ناپاک نہیں کرے گا چاہے فاحش ہو جائے ۔
تشریح : گھوڑے کا گوشت حلال ہے لیکن جہاد کی وجہ سے منع فرمایا ہے اسلئے اور ماکول اللحم جانور کی طرح اسکے دونوں نصوں میں تعارض ہو گیا ، اور تعارض نصین کی وجہ سے امام ابو حنیفہ کے نزدیک نجاست خفیفہ ہو جاتی ہے اسلئے گھوڑے کا پیشاب نجاست خفیفہ ہے ۔گھوڑے کے بارے میں دونوں قسم کی احادیث یہ ہیں ۔ حرمت کی دلیل یہ حدیث ہے ۔عن خالد بن ولید انہ سمع رسول اللہ ۖ یقول لا یحل اکل لحوم الخیل والبغال والحمیر ۔ (نسائی شریف، باب تحریم اکل لحوم الخیل ص ٦٠٢ نمبر ٤٣٣٦ ابن ماجہ شریف، باب لحوم البغال ص ٤٦٤ نمبر ٣١٩٨) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھوڑا کھانا حرام ہے۔
حلت کی حدیث یہ ہے ۔ عن جابر بن عبد اللہ قال نھی النبی ۖ یوم خیبر عن لحوم الحمر ورخص فی لحوم الخیل ۔ (بخاری شریف، باب لحوم الخیل ص ٨٢٩ نمبر ٥٥٢٠ مسلم شریف، باب اباحة اکل لحوم الخیل ص ١٥٠ نمبر ١٩٤١) اسی کی دوسری روایت میں یہ بھی ہے۔ سمع جابر بن عبد اللہ یقول اکلنا زمن خیبر الخیل وحمر الوحش۔(مسلم شریف ،نمبر ١٩٤١ ٥٠٢٣ بخاری شریف ،نمبر ٥٥١٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گھوڑے کا گوشت کھانا حلال ہے۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ جس جانور کا گوشت کھایا جاتا ہے اسکا پیشاب امام محمد کے نزدیک پاک ہے ، اور امام ابو یوسف کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے ، اور گھوڑے کا گوشت دونوں کے نزدیک کھایا جائے گا ۔