Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

308 - 627
٧  و زفر  فرق بینھما فوافق ابا حنیفة  فی غیر ماکول اللحم،  ووافقھما فی الماکول،  ٨  وعن محمد  انہ لما دخل الریّ و رأی البلوی افتی ان الکثیر الفاحش  لا یمنع ایضاً،   ٩ وقاسواعلیھا طین بخاراوعندذالک رجوعہ فی الخف یروی

کھایا جاتا ہو اسکا نجاست غلیظہ ہو ایسا نہیںہے ۔ اور صاحبین کے نزدیک دونوں کا پاخانہ نجاست خفیفہ ہے ، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
ترجمہ:  ٧   اور زفر  نے فرق کیا دونوں کے درمیان پس غیر ماکول اللحم میںامام ابو حنیفہ  کی موافقت کی ، اور ماکول اللحم میں صاحبین کی موافقت کی ۔
تشریح :   امام زفر  نے گوشت نہ کھائے جانے والے جانور میں  امام ابو حنیفہ  کی موافقت کی اور فرمایا کہ غیر ماکول اللحم کا پاخانہ نجاست غلیظہ ہے ۔ اور ماکول اللحم کے بارے میں صاحبین کی موافقت کی اور فر مایا گوشت کھائے جانے والے جانور کا پا خانہ نجاست خفیفہ ہے  ۔
ترجمہ: ٨   اور امام محمد  سے منقول ہے کہ جب وہ ری تشریف لے گئے اور بلوی عام دیکھا تو فتوی دیا کہ کثیر فاحش بھی نماز سے نہیں روکے گا ۔
تشریح :   امام محمد  جب ریّ تشریف لے گئے اور راستوں کو دیکھا کہ گوبر اور لید سے بھرے ہوئے ہیں اور بلوی عام میں لوگ مبتلا ہیں تو یہ فتوی دینے لگے کہ مٹی میں ملے ہوئے گوبر اور لید کتنے ہی لگ جائے پھر بھی نماز جائز ہے ، شاید انہوں نے اس حدیث اور اثر سے استدلال فرمایا جس میں ہے کہ کہ روندنے والی گندگی سے ہم لوگ وضو نہیں کرتے ۔یا اثر میں ہے کہ جانور کی لید سے حضرت قتادہ نماز کو ممنوع نہیں سمجھتے ، حدیث اور اثر یہ ہیں ۔وعن عبد اللہ ابن مسعود قال کنا نصلی مع رسول اللہ ۖ ولا نتوضأ من الموطی (ترمذی شریف، باب ماجاء فی الوضوء من الموطی ص٣٦ نمبر ١٤٣ ابو داؤد شریف، باب فی الرجل یطأ الاذی برجلہ ص ٣٠ نمبر ٢٠٤)  اس حدیث میں  ہے کہ روندی ہوئی چیز سے وضو نہیں کر تے تھے ، اور روندی ہو ئی  چیز ماکول اللحم کا پیخانہ بھی ہو سکتا ہے جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ماکو اللحم کا پیخانہ نجاست خفیفہ ہے۔ (٤) اسکے لئے اثر بھی ہے ۔عن قتادةقال : کا ن لا یری بأرواث الدواب شیئا ً ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب أبوال الدواب و روئثھا ، ج اول ، ص ٣٧٧ ، نمبر ١٤٧٨)  اس اثر میں ہے کہ جانور کے پیخانے میں کوئی حرج  نہیںہے۔ 
ترجمہ:  ٩   اور اس پر بخارا کی مٹی کو قیاس کیا ، اور اسی وقت موزے کے بارے میں ان سے رجوع ثابت ہے ۔
تشریح :   بخارا کی مٹی میں بھی گوبر اور لید ملی ہوئی ہو تی ہے اسلئے بخارا کی مٹی کو بھی ریّ کے راستے پر قیاس کیا کہ وہ بھی کثیر فاحش 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter