٧ و زفر فرق بینھما فوافق ابا حنیفة فی غیر ماکول اللحم، ووافقھما فی الماکول، ٨ وعن محمد انہ لما دخل الریّ و رأی البلوی افتی ان الکثیر الفاحش لا یمنع ایضاً، ٩ وقاسواعلیھا طین بخاراوعندذالک رجوعہ فی الخف یروی
کھایا جاتا ہو اسکا نجاست غلیظہ ہو ایسا نہیںہے ۔ اور صاحبین کے نزدیک دونوں کا پاخانہ نجاست خفیفہ ہے ، دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٧ اور زفر نے فرق کیا دونوں کے درمیان پس غیر ماکول اللحم میںامام ابو حنیفہ کی موافقت کی ، اور ماکول اللحم میں صاحبین کی موافقت کی ۔
تشریح : امام زفر نے گوشت نہ کھائے جانے والے جانور میں امام ابو حنیفہ کی موافقت کی اور فرمایا کہ غیر ماکول اللحم کا پاخانہ نجاست غلیظہ ہے ۔ اور ماکول اللحم کے بارے میں صاحبین کی موافقت کی اور فر مایا گوشت کھائے جانے والے جانور کا پا خانہ نجاست خفیفہ ہے ۔
ترجمہ: ٨ اور امام محمد سے منقول ہے کہ جب وہ ری تشریف لے گئے اور بلوی عام دیکھا تو فتوی دیا کہ کثیر فاحش بھی نماز سے نہیں روکے گا ۔
تشریح : امام محمد جب ریّ تشریف لے گئے اور راستوں کو دیکھا کہ گوبر اور لید سے بھرے ہوئے ہیں اور بلوی عام میں لوگ مبتلا ہیں تو یہ فتوی دینے لگے کہ مٹی میں ملے ہوئے گوبر اور لید کتنے ہی لگ جائے پھر بھی نماز جائز ہے ، شاید انہوں نے اس حدیث اور اثر سے استدلال فرمایا جس میں ہے کہ کہ روندنے والی گندگی سے ہم لوگ وضو نہیں کرتے ۔یا اثر میں ہے کہ جانور کی لید سے حضرت قتادہ نماز کو ممنوع نہیں سمجھتے ، حدیث اور اثر یہ ہیں ۔وعن عبد اللہ ابن مسعود قال کنا نصلی مع رسول اللہ ۖ ولا نتوضأ من الموطی (ترمذی شریف، باب ماجاء فی الوضوء من الموطی ص٣٦ نمبر ١٤٣ ابو داؤد شریف، باب فی الرجل یطأ الاذی برجلہ ص ٣٠ نمبر ٢٠٤) اس حدیث میں ہے کہ روندی ہوئی چیز سے وضو نہیں کر تے تھے ، اور روندی ہو ئی چیز ماکول اللحم کا پیخانہ بھی ہو سکتا ہے جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ماکو اللحم کا پیخانہ نجاست خفیفہ ہے۔ (٤) اسکے لئے اثر بھی ہے ۔عن قتادةقال : کا ن لا یری بأرواث الدواب شیئا ً ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب أبوال الدواب و روئثھا ، ج اول ، ص ٣٧٧ ، نمبر ١٤٧٨) اس اثر میں ہے کہ جانور کے پیخانے میں کوئی حرج نہیںہے۔
ترجمہ: ٩ اور اس پر بخارا کی مٹی کو قیاس کیا ، اور اسی وقت موزے کے بارے میں ان سے رجوع ثابت ہے ۔
تشریح : بخارا کی مٹی میں بھی گوبر اور لید ملی ہوئی ہو تی ہے اسلئے بخارا کی مٹی کو بھی ریّ کے راستے پر قیاس کیا کہ وہ بھی کثیر فاحش