٣ ولان فیہ ضرورة لامتلاء الطرق بھا و ھی موء ثرة فی التخفیف، ٤ بخلاف بول الحمارلان الارض تنشفہ ٥قلنا:الضرورة فی النعال و قد اثرت فی التخفیف مرة حتی تطھر بالمسح فتکفی موء نتھا ٦ و لا فرق بین مأکول اللحم و غیرما کول اللحم،
اثر میں ہے کہ جانوروں کے پیخانہ سے کوئی حر ج نہیں سمجھتے تھے ، جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ وہ نجاست خفیفہ ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور اسلئے کہ اس میں ضرورت ہے اس سے راستہ بھر جانے کی وجہ سے اور یہ تخفیف میں اثر انداز ہو تا ہے ۔
تشریح : گوبر اور لید نجاست خفیفہ ہے اسکے لئے یہ بھی دلیل ہے کہ گوبر اور لید کو نجاست خفیفہ قرار دینے کی سخت ضرورت ہے ، کیونکہ گوبر اور لید سے راستے بھرے ہو تے ہیں اور چلتے وقت وہ لگتے بھی ہیں اور عموم بلوی بھی ہے ، اور ضرورت اور عموم بلوی سے تخفیف آتی ہے اسلئے اس میں بھی تخفیف آنی چاہئے ۔ یہ پاچویں دلیل ہے ۔
ترجمہ: ٤ بخلاف گدھے کے پیشاب کے اسلئے کہ زمین اسکو چوس لیتی ہے ۔
تشریح : صاحبین کی جانب سے یہ ایک اشکال کا جواب ہے ۔ اشکال یہ ہے کہ گدھے کے پیشاب کو حضرات صاحبین بھی اوپرنجاست غلیظہ کہہ آئے ہیں ، حالانکہ اس سے بھی تو راستے بھرے ہو تے ہیں ا ور عموم بلوی بھی ہے تو اسکو نجاست خفیفہ کیوں قرار نہیں دیتے ! تو اسکا جوب دے رہے ہیں کہ پیشاب میں جرم نہیں ہو تا وہ پتلا ہو تا ہے اسلئے زمین اسکو چوس لیتی ہے ، اور اس سے راستہ بھرا نہیں ہو تا اسلئے اسکو نجاست خفیفہ قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اور لید اور گوبر جسم والے ہیں وہ راستے میں ہفتوں موجود ہوتے ہیں اسلئے ان میں تخفیف کر نے کی ضرورت ہے ۔۔ تخفیف کی اصل وجہ تو اوپر کی حدیث ہے ۔
ترجمہ: ٥ ہم کہتے ہیں کہ کہ ضرورت جوتے میں ہے اور اس میں ایک مرتبہ تخفیف اثر انداز ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ جوتا رگڑنے سے پاک ہو جاتا ہے ، بس اتنا ہی تخفیف کافی ہے ۔
تشریح : یہ امام ابو حنیفہ کی جانب سے صاحبین کو جواب ہے ۔ کہ ٹھیک ہے کہ لید اور گوبر سے راستے بھرے ہوتے ہیں لیکن اسکے لئے تخفیف کی ضرورت کپڑے میں نہیں ہے بلکہ اسکے لئے جوتے میں سہولت دینے کی ضرورت ہے کیونکہ راستے کی لید اور گوبر جو تے میںلگتے ہے ، اور جوتے میں یہ سہولت دی جا چکی ہے کہ اسکو زمین سے رگڑنے سے پاک ہو جاتا ہے ، اور اتنا ہی کافی ہے اسلئے لید اور گوبر کو نجاست خفیفہ قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٦ اورجن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہو اور جن جانووں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ہو ان میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
تشریح : جن جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اور جن جانور کا گوشت نہیں کھایا جاتا ہو دونوں کا پاخانہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک نجاست غلیظہ ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ جنکا گوشت کھایا جاتا ہو اسکا پاخانہ نجاست خفیفہ ہو اور جسکا گوشت نہیں