Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

307 - 627
٣   ولان فیہ ضرورة لامتلاء الطرق بھا و ھی موء ثرة فی التخفیف، ٤  بخلاف بول الحمارلان الارض تنشفہ ٥قلنا:الضرورة فی النعال و قد اثرت فی التخفیف مرة حتی تطھر بالمسح فتکفی موء نتھا ٦  و لا فرق بین مأکول اللحم و غیرما کول اللحم،   

اثر میں ہے کہ جانوروں کے پیخانہ سے کوئی حر ج نہیں سمجھتے تھے ، جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ وہ نجاست خفیفہ ہے ۔  
ترجمہ:  ٣   اور اسلئے کہ اس میں ضرورت ہے اس سے راستہ بھر جانے کی وجہ سے اور یہ تخفیف میں اثر انداز ہو تا ہے ۔
تشریح :   گوبر اور لید نجاست خفیفہ ہے اسکے لئے یہ بھی دلیل ہے کہ گوبر اور لید کو نجاست خفیفہ قرار دینے کی سخت ضرورت ہے ، کیونکہ گوبر اور لید سے راستے بھرے ہو تے ہیں اور چلتے وقت وہ لگتے بھی ہیں اور عموم بلوی بھی ہے ، اور ضرورت اور عموم بلوی سے تخفیف آتی ہے اسلئے اس میں بھی تخفیف آنی چاہئے ۔ یہ پاچویں دلیل ہے ۔
ترجمہ:  ٤   بخلاف گدھے کے پیشاب کے اسلئے کہ زمین اسکو چوس لیتی ہے ۔
تشریح :   صاحبین کی جانب سے یہ ایک اشکال کا جواب ہے ۔ اشکال یہ ہے کہ گدھے کے پیشاب کو حضرات صاحبین بھی  اوپرنجاست غلیظہ   کہہ آئے ہیں ، حالانکہ اس سے بھی تو راستے بھرے ہو تے ہیں ا ور عموم بلوی بھی ہے تو اسکو نجاست خفیفہ کیوں قرار نہیں دیتے !  تو اسکا جوب دے رہے ہیں کہ پیشاب میں جرم نہیں ہو تا وہ پتلا ہو تا ہے اسلئے زمین اسکو چوس لیتی ہے ، اور اس سے راستہ بھرا نہیں ہو تا اسلئے اسکو نجاست خفیفہ قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے  ۔ اور لید اور گوبر جسم والے ہیں وہ راستے میں ہفتوں موجود ہوتے ہیں اسلئے ان میں تخفیف کر نے کی ضرورت ہے ۔۔ تخفیف کی اصل وجہ تو اوپر کی حدیث ہے ۔
ترجمہ:  ٥   ہم کہتے ہیں کہ کہ ضرورت جوتے میں ہے اور اس میں ایک مرتبہ تخفیف اثر انداز ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ جوتا رگڑنے سے پاک ہو جاتا ہے ، بس اتنا ہی تخفیف کافی ہے ۔
  تشریح :   یہ امام ابو حنیفہ  کی جانب سے صاحبین کو جواب ہے ۔ کہ ٹھیک ہے کہ لید اور گوبر سے راستے بھرے ہوتے ہیں لیکن اسکے لئے تخفیف کی ضرورت کپڑے میں نہیں ہے بلکہ اسکے لئے جوتے میں سہولت دینے کی ضرورت ہے کیونکہ راستے کی لید اور گوبر جو تے میںلگتے ہے ، اور جوتے میں یہ سہولت دی جا چکی ہے کہ اسکو زمین سے رگڑنے سے پاک ہو جاتا ہے ، اور اتنا ہی کافی ہے اسلئے لید اور گوبر کو نجاست خفیفہ قرار دینے کی ضرورت نہیں ہے  ۔
ترجمہ:   ٦   اورجن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہو اور جن جانووں کا گوشت نہیں کھایا جاتا ہو ان میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
تشریح :   جن جانور کا گوشت کھایا جاتا ہو اور جن جانور کا گوشت نہیں کھایا جاتا ہو دونوں کا پاخانہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک نجاست غلیظہ ہے اس میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ یہ نہیں ہے کہ جنکا گوشت کھایا جاتا ہو اسکا پاخانہ نجاست خفیفہ ہو اور جسکا گوشت نہیں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter