٢ وقالایجزیہ حتی یفحش لان للاجتھاد فیہ مساغاً،وبھذا یثبت التخفیف عندھما
تعارض نصین کی بنا پر ہو تی ہے ۔
تشریح : کپڑے پر ایک درھم سے زیادہ لید لگ جائے ، یا گائے کا گوبرلگ جائے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس سے نماز پڑھنا جائز نہیں ، اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ نجاست غلیظہ ہے ، اور نجاست غلیظہ ہو نے کی وجہ یہ ہے کہ حضور ۖ نے لید پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ ناپاک ہے ، حدیث یہ ہے انہ سمع عبد اللہ یقول : أتی النبی ۖ الغائط فأمرنی ان أتیہ بثلاثة احجار فوجدت حجرین و التمست الثالث فلم أجد ، فأخذت روثة فأتیتہ بھا فأخذالحجرین و ألقی الروثة و قال ھذا رکس ۔ ( بخاری شریف ، باب لا یستنجی بروث ، ص ٢٧ ، نمبر ١٥٦ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الاستنجاء بالحجرین ، ص ١٠ ،نمبر ١٧)اس حدیث میں ہے کہ لید ناپاک ہے اسلئے و نجاست غلیظہ ہو گا کیونکہ اسکے مخالف کوئی اور نص نہیں ہے۔اور گوبر کے سلسلے میں یہ حدیث ہے۔ عن سلمان قال قیل لہ لقد علمکم نبیکم کل شیء حتی الخراء ة...و ان لایستنجی أحدنا بأقل من ثلاثة أحجار ، أو نستنجی برجیع أو عظم ۔ (ابوداود شریف ، باب کراھیة استقبال القبلة عند قضاء الحاجة ، ص ٣ ،نمبر ٣٧ترمذی شریف ، باب الاستنجاء بالحجارة ، ص١٠، نمبر ١٦) اس میں ہے کہ گوبر سے استنجاء کر نے سے منع فرمایا اور اسکی وجہ یہ ہے کہ گوبر نجاست ہے اور اسکے مخالف کوئی دلیل نہیں ہے اسلئے یہ نجاست غلیظہ ہوگا
ترجمہ: ٢ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ انسان کو کافی ہو گا یہاں تک کہ بہت زیادہ ہو جائے اسلئے کہ اجتہاد کی اس میں گنجائش ہے ، اور اتنے ہی سے صاحبین کے نزدیک تخفیف ثابت ہو جاتی ہے ۔
تشریح : امام ابو یوسف اور امام محمد فرماتے ہیں کہ ماکول اللحم کا پیخانہ جب تک بہت زیادہ نہ لگ جائے تب تک کپڑے کو پاک سمجھا جائے ، اسکی وجہ یہ ہے کہ جب ماکول اللحم کے پیشاب میں نص کی وجہ سے اختلاف ہے اور اجتہاد کی گنجاش ہے تو اسی پیٹ سے پیخانہ بھی نکلتا ہے اسلئے اس پر قیاس کرکے اسکا پیخانہ بھی نجاست خفیفہ ہو نا چاہئے ۔ کیونکہ جس میں بھی تعارض نص ہو ، یا اجتہاد کی گنجائش ہو صاحبین کے نزدیک اس میں تخفیف ہو جاتی ہے اور وہ نجاست خفیفہ ہو جاتی ہے ۔(٢) اس حدیث کے مفہوم سے بھی یہ ٹپکتا ہے کہ ماکول اللحم کا پیخانہ نجاست خفیفہ ہے ۔ قلت لام سلمة ان امرأة اطیل ذیلی وامشی فی المکان القذر؟ فقالت قال رسول اللہ ۖ یطھرہ ما بعدہ (٣) وعن عبد اللہ ابن مسعود قال کنا نصلی مع رسول اللہ ۖ ولا نتوضأ من الموطی (ترمذی شریف، باب ماجاء فی الوضوء من الموطی ص٣٦ نمبر ١٤٣ ابو داؤد شریف، باب فی الرجل یطأ الاذی برجلہ ص ٣٠ نمبر ٢٠٤) اس حدیث میں ہے کہ روندی ہوئی چیز سے وضو نہیں کر تے تھے ، اور روندی ہو ئی چیز ماکول اللحم کا پیخانہ بھی ہو سکتا ہے جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ماکو اللحم کا پیخانہ نجاست خفیفہ ہے۔ (٤) اسکے لئے اثر بھی ہے ۔عن قتادةقال : کا ن لا یری بأرواث الدواب شیئا ً ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب أبوال الدواب و روئثھا ، ج اول ، ص ٣٧٧ ، نمبر ١٤٧٨) اس