Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

306 - 627
٢ وقالایجزیہ حتی یفحش لان للاجتھاد فیہ مساغاً،وبھذا یثبت التخفیف عندھما 

تعارض نصین کی بنا پر ہو تی ہے  ۔
تشریح :   کپڑے پر ایک درھم سے زیادہ لید لگ جائے ، یا گائے کا گوبرلگ جائے تو امام ابو حنیفہ  کے نزدیک اس سے نماز پڑھنا جائز نہیں ، اسکی وجہ یہ ہے کہ یہ نجاست غلیظہ ہے ، اور نجاست غلیظہ ہو نے کی وجہ یہ ہے کہ حضور ۖ نے لید پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ  ناپاک ہے ، حدیث یہ ہے انہ سمع عبد اللہ یقول : أتی النبی  ۖ الغائط فأمرنی ان أتیہ بثلاثة احجار فوجدت حجرین و التمست الثالث فلم أجد ، فأخذت روثة فأتیتہ بھا فأخذالحجرین و ألقی الروثة و قال ھذا رکس ۔ ( بخاری شریف ، باب لا یستنجی بروث ، ص ٢٧ ، نمبر ١٥٦ ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الاستنجاء بالحجرین ، ص ١٠ ،نمبر ١٧)اس حدیث میں ہے کہ لید ناپاک ہے اسلئے و نجاست غلیظہ ہو گا کیونکہ اسکے مخالف کوئی اور نص نہیں ہے۔اور گوبر کے سلسلے میں یہ حدیث ہے۔ عن سلمان  قال قیل لہ لقد علمکم نبیکم کل شیء حتی الخراء ة...و ان لایستنجی أحدنا بأقل من ثلاثة أحجار ، أو نستنجی برجیع أو عظم ۔ (ابوداود شریف ، باب کراھیة استقبال القبلة عند قضاء الحاجة ، ص ٣ ،نمبر ٣٧ترمذی شریف ، باب الاستنجاء بالحجارة ، ص١٠، نمبر ١٦) اس  میں ہے کہ گوبر سے استنجاء کر نے سے منع فرمایا اور اسکی وجہ یہ ہے کہ گوبر نجاست ہے اور اسکے مخالف کوئی دلیل نہیں ہے اسلئے یہ نجاست غلیظہ ہوگا 
ترجمہ:  ٢   اور صاحبین فرماتے ہیں کہ انسان کو کافی ہو گا یہاں تک کہ بہت زیادہ ہو جائے اسلئے کہ اجتہاد کی اس میں گنجائش ہے ، اور اتنے ہی سے صاحبین کے نزدیک تخفیف ثابت ہو جاتی ہے ۔ 
تشریح :  امام ابو یوسف   اور امام محمد  فرماتے ہیں کہ ماکول اللحم کا پیخانہ جب تک بہت زیادہ نہ لگ جائے تب تک کپڑے کو پاک سمجھا جائے  ، اسکی وجہ یہ ہے کہ جب ماکول اللحم کے پیشاب میں نص کی وجہ سے اختلاف ہے اور اجتہاد کی گنجاش ہے تو اسی پیٹ سے پیخانہ بھی نکلتا ہے  اسلئے اس پر قیاس کرکے اسکا پیخانہ بھی نجاست خفیفہ ہو نا چاہئے  ۔ کیونکہ جس میں بھی تعارض نص ہو ، یا اجتہاد کی گنجائش ہو صاحبین کے نزدیک اس میں تخفیف  ہو جاتی ہے اور وہ نجاست خفیفہ ہو جاتی ہے  ۔(٢) اس حدیث  کے مفہوم سے بھی یہ ٹپکتا ہے کہ ماکول اللحم کا پیخانہ نجاست خفیفہ ہے ۔  قلت لام سلمة ان امرأة اطیل ذیلی وامشی فی المکان القذر؟ فقالت قال رسول اللہ ۖ یطھرہ ما بعدہ (٣) وعن عبد اللہ ابن مسعود قال کنا نصلی مع رسول اللہ ۖ ولا نتوضأ من الموطی (ترمذی شریف، باب ماجاء فی الوضوء من الموطی ص٣٦ نمبر ١٤٣ ابو داؤد شریف، باب فی الرجل یطأ الاذی برجلہ ص ٣٠ نمبر ٢٠٤)  اس حدیث میں  ہے کہ روندی ہوئی چیز سے وضو نہیں کر تے تھے ، اور روندی ہو ئی  چیز ماکول اللحم کا پیخانہ بھی ہو سکتا ہے جس سے اندازہ ہو تا ہے کہ ماکو اللحم کا پیخانہ نجاست خفیفہ ہے۔ (٤) اسکے لئے اثر بھی ہے ۔عن قتادةقال : کا ن لا یری بأرواث الدواب شیئا ً ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب أبوال الدواب و روئثھا ، ج اول ، ص ٣٧٧ ، نمبر ١٤٧٨) اس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter