٥ وانما کان مخففا عند ابی حنیفة وابی یوسفلمکان الاختلاف فی نجاستہ، اولتعارض النصین علی اختلاف الاصلین (١٧١)و اذا اصاب الثوب من الروث، اومن اخثاء البقر اکثر من قدر الدرھم لم تجز الصلوة فیہ عند ابی حنیفة ) ١ لان النص الوارد فی نجاستہ، وھوماروی انہں: رمی بالروثة و قال : ھذا رجس، او رکس، و لم یعارضہ غیرہ، و بھذا یثبت التغلیظ عندہ و التخفیف بالتعارض
ترجمہ: ٤ اور امام ابو یوسف سے روایت ہے ایک بالشت لمبی اور ایک بالشت چوڑی معاف ہے۔
تشریح : یہ امام ابو حنیفہ کی چوتھی روایت ہے جو امام ابو یوسف سے ہے کہ ایک بالشت لمبی اور ایک بالشت چوڑی سے کم نجاست لگی ہو تو معاف ہے ۔
ترجمہ: ٥ امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک جن جانورں کا گوشت کھایا جاتا ہے اسکا پیشاب نجاست خفیفہ ہے نجاست میں اختلاف ہو نے کی وجہ سے ، یا دو نصوں کے تعارض ہو نے کی وجہ سے ، دونوں کے اصول کے اختلاف کی بنیاد پر ۔
تشریح : جن جانوروں کا گوشت کھایا جاتا ہے اسکا پیشاب نجاست خفیفہ ہے ، امام ابو حنیفہ کے نزدیک تو اسلئے کہ اسکی نجاست کے بارے میں دو قسم کے نص ہیں جو اوپر گزر گئے ایک سے معلوم ہو تا ہے کہ اسکا پیشاب ناپاک ہے اور دو سرے حدیث عرینہ سے معلوم ہو تا ہے کہ اسکا پیشاب پاک ہے ان دونوں حدیثوں کے تعارض کی بنا پر اسکا پیشاب نجاست غلیظہ کے بجائے نجاست خفیفہ ہو گیا ۔
اور امام ابویو سف کے نزدیک نجاست خفیفہ اسلئے ہو گیا کہ اس میں مجتہدین کا اختلاف ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک ماکول اللحم کا پیشاب ناپاک ہے اور امام محمد کے نزدیک حدیث عرینہ کی بنا پر پاک ہے اسلئے اسکی نجاست میں تخفیف آگئی ۔
اصول : دو نصوں کاتعارض ہوتو امام ابو حنیفہ کے نزدیک نجاست خفیفہ ہوجاتی ہے ۔ اور دو مجتہد کا اختلاف ہو تو امام ابویوسف کے نزدیک نجاست خفیفہ ہو جاتی ہے ۔
لغت: مخففة : ہلکی نجاست ۔ میزر : تہبند ، لنگی ۔الذیل : دامن ۔الدخریص: کلی ۔شبر : بالشت ۔
ترجمہ: (١٧١) اگر کپڑے کو لید یا گائے کا گوبر درھم کی مقدار سے زیادہ لگ جائے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس میں نماز جائز نہیں ہے ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ نص اسکی نجاست کے بارے میں وارد ہوئی اور وہ روایت ہے کہ حضور ۖ نے لید کو پھنک دیا اور فرمایا کہ یہ رجس ، یا رکس یعنی ناپاک ہے اور اسکے معارض کوئی حدیث نہیں اور اس سے انکے نزدیک تغلیط ثابت ہو تی ہے ، اور تخفیف