١ یروی ذالک عن ابی حنیفة ، لان التقدیر فیہ بالکثیر الفاحش و الربع ملحق بالکل فی بعض الاحکام ٢ و عنہ ربع ادنی ثوب تجوز فیہ الصلوة کالمیزر ٣ و قیل ربع الموضع الذی اصابہ کالذیل والدخریص٤ وعن ابی یوسف شبرفی شبر
کی حدیث گزری ، (٢)اور دار قطنی نمبر ٤٥٤کی حدیث گزری جس کی بنا پر گوشت کھائے جانے والے جانور کا پیشاب پاک کہتے ہیں ۔(٣) اور یہ اثر بھی ہے عن جعفر عن أبیہ و نافع قال : کانا لا یریان بأسا ببول البعیر ، قال : و أصابنی فلم یریابہ بأسا ۔ (مصنف ابن ابی شیبة ، باب١٤١) فی بول البعیر و الشاة یصیب الثوب ، ج اول ، ص ١٠٩، نمبر ١٢٣١ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ اونٹ یعنی ماکول اللحم کے پیشاب میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ یعنی وہ پاک ہے ۔
ترجمہ: ١ یہ روایت امام ابو حنیفہ کا ہے اسلئے کہ اندازہ اس میںکثیر فاحش کا ہے اور چوتھائی کل کے ساتھ ملحق ہے بعض احکام میں
تشریح : نجاست خفیفہ کتنی معاف ہے اس بارے میں کئی اقوال ہیں ، امام ابو حنیفہ کا ایک قول تو اوپر گزرا کہ پورے کپڑے کی چوتھائی سے کم ہو تو نجاست خفیفہ معاف ہے اور چوتھائی ہو تو دھونا پڑے گا ۔کیونکہ اصل قاعدہ یہ ہے کہ دیکھنے والا اسکو بہت زیادہ سمجھے تو وہ کثیر فاحش ہے ۔اور یہ نجاست خفیفہ معاف نہیں ، اور چوتھائی چیز بعض احکام میں کل کے قائم مقام ہے اسلئے وہ کثیر فاحش ہو گیا اسلئے چوتھائی کپڑا معاف نہیں ۔ جیسے ستر کھلنے میں چوتھائی ستر کھل جائے تو وہ کل ستر کھلنے کے قائم مقام ہے ۔احرام کی حالت میں سر منڈوانے میں چوتھائی سر منڈوائے تو کل سر منڈوانے کے قائم مقام ہے اسی طرح یہاں بھی چوتھائی کپڑے پر لگ جائے تو پورے کپڑے میں لگنے کے قائم مقام ہوگااور کپڑا ناپاک ہو جائے گا۔
ترجمہ: ٢ حضرت امام ابو حنیفہ سے دوسری روایت ہے کہ ادنی کپڑا جس میں نماز جائز ہو جیسے لنگی ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کی یہ دوسری روایت ہے کہ کم سے کم جتنے کپڑے میں مرد کی نماز جائز ہو جاتی ہے اتنے کپڑے کی چوتھائی میں نجاست خفیفہ معاف ہے ، جیسے لنگی اور تہ بند کہ اس سے مرد کا اتنا ستر ڈھک جاتا ہے کہ اس میں نماز جائز ہو جاتی ہے اب لنگی کی چوتھائی سے کم نجاست خفیفہ لگ جائے تو نماز جائزہے ۔
ترجمہ: ٣ اور کہا گیا ہے کہ اس جگہ کی چوتھائی جہاں نجاست لگی ہو ، جیسے دامن اور کلی ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ کی تیسری روایت یہ ہے کہ کپڑے کے جس حصے میں نجاست لگی ہو اسکی چوتھائی مراد ہے جیسے کرتے کی کلی میں نجاست لگی تو کلی کی چوتھائی مراد ہے ، یا کرتے کے دامن میں نجاست لگی ہو تو اسکی چوتھائی معاف ہے اور اس سے زیادہ ہو تو دھونا پڑے گا ۔