رسول اللہ ۖ فی ابل الصدقة وقال اشربوا من البانھا وابوالھا ۔(ترمذی شریف، باب ما جاء فی بول ما یؤکل لحمہ ص ٢١ نمبر ٧٢) آپۖ نے اہل عرینہ کو اونٹ کا پیشاب پینے کا حکم دیا۔وہ پاک ہوگا تب ہی تو پیشاب پینے کا حکم دیا ہوگا؟ (٢)عن البراء قال قال رسول اللہ ۖ لا بأس ببول ما اکل لحمہ ۔(دار قطنی، باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ والحکم فی بول ما یؤکل لحمہ ص ١٣٥ نمبر ٤٥٤) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مأکول اللحم کا پیشاب پاک ہے۔ پیشاب کے ناپاک ہونے کی دلیل (١)عن ابن عباس... فقال النبی ۖ یعذبان وما یعذبان فی کبیر ثم قال بلی کان احدھما لا یستتر من بولہ وکان الآخر یمشی بالنمیمة ۔ (بخاری شریف، باب من الکبائر ان لا یستتر من بولہ ص ٣٥ نمبر ٢٢٦ ترمذی شریف ، باب التشدید فی البول ص٣١ نمبر ٧٠) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی بھی پیشاب لگنا گناہ کبیرہ ہے۔اس لئے وہ ناپاک ہے(٢) عن انس قال قال رسول اللہ ۖ تنزھوا من البول فان عامة عذاب القبر منہ ۔(دارقطنی ،باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ ج اول ص ١٣٥ نمبر ٤٥٣) یہ دونوں قسم کی احادیث مأکول اللحم کے بارے میں ہیں۔اس لئے اس کے پیشاب کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہو گیا۔ اس لئے اس کا پیشاب امام ابو حنیفہ کے نزدیک نجاست خفیفہ ہے اور دوسرے جانور یا انسان کے بارے میں پاکی کی احادیث نہیں ہیں اس لئے ان کا پیشاب نجاست غلیظہ ہے۔
نجاست خفیفہ کے بارے میں اصل روایت یہ ہے کہ اتنا لگ جائے کہ لوگ اس کو کثیر اور زیادہ سمجھیں تو کپڑا ناپاک ہو جائے گا۔دوسری روایت ہے کہ کپڑے کی چوتھائی ہو تو وہ گویا کہ کثیر ہو گیااور کپڑا ناپاک ہوگا۔کیونکہ ستر کھلنے میں چوتھائی ستر کھل جائے تو وہ کل ستر کھلنے کے قائم مقام ہے ۔احرام کی حالت میں سر منڈوانے میں چوتھائی سر منڈوائے تو کل سر منڈوانے کے قائم مقام ہے اسی طرح یہاں بھی چوتھائی کپڑے پر لگ جائے تو پورے کپڑے میں لگنے کے قائم مقام ہوگااور کپڑا ناپاک ہو جائے گا۔
وجہ : گائے ، بھینس کے چرواہے کے لئے ان کے پیشاب سے بچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔اگر چوتھائی کپڑے میں پیشاب لگنے اور کیچڑ لگنے کو معاف نہ کیا جائے تو ان کے لئے حرج ہو جائے گا۔ اس لئے امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ نجاست خفیفہ چوتھائی کپڑے پر لگ جائے تو اس میں نماز جائزہوگی اگر چہ دھو لینا چاہئے ۔ اس سہولت کی وجہ یہ حدیث ہے۔قلت لام سلمة ان امرأة اطیل ذیلی وامشی فی المکان القذر؟ فقالت قال رسول اللہ ۖ یطھرہ ما بعدہ (٢) وعن عبد اللہ ابن مسعود قال کنا نصلی مع رسول اللہ ۖ ولا نتوضأ من الموطی (ترمذی شریف، باب ماجاء فی الوضوء من الموطی ص٣٦ نمبر ١٤٣ ابو داؤد شریف، باب فی الرجل یطأ الاذی برجلہ ص ٣٠ نمبر ٢٠٤) دامن میں تھوڑی بہت ناپاکی لگ جائے اور بعدکے مکان اس کو جھاڑ دے تو نماز ہو جائے گی ۔اس سے اشارہ ملتا ہے کہ نجاست غلیظہ ایک درہم سے کم ہو یا خفیفہ چوتھائی کپڑے سے کم ہو تو معفو عنہ ہیں ورنہ حرج ہوگا۔
فائدہ: امام محمد کے نزدیک حدیث عرینہ کی بنا پر مأکول اللحم کا پیشاب پاک ہے۔(١)حدیث عرینہ اوپر ترمذی شریف ، نمبر ٧٢