٧ و انما کانت نجاسة ھذہ الاشیاء مغلظةلانھا ثبتت بدلیل مقطوع بہ (١٧٠) و ان کانت مخففة کبول مایوئکل لحمہ جازت الصلوة معہ حتی یبلغ ربع الثوب )
فارمولہ
کتنے برابر کتنے کتنے برابر کتنے
1769گرام آدھا صاع
( چھوٹا ،بڑا درھم )
درہم مثقال قیراط تولہ گرام کتنی زکوة ہوگی
1بڑا درہم 1مثقال 20 0.375 4.375 ..........
1مروج درہم 0.7 40 0.262 3.061 ..........
درہم200 140 2800 52.50 612.36 15.309 گرام
ترجمہ: ٧ ان چیزوں کی نجاست مغلظہ اسلئے ہوئی کہ یقینی دلیل سے ثابت ہو ئی ہے
تشریح : اس عبارت میں نجاست کے غلیظہ اور خفیفہ ہو نے کا معیار بتا رہے ہیں کہ جس نجاست کی ناپاکی دلیل قطعی سے ثابت ہو اسکو نجاست غلیظہ کہتے ہیں ،اور جو دلیل ظنی سے ثابت ہو وہ نجاست خفیفہ ہے
دوسری روایت یہ ہے کہ جس میں ایک ہی قسم کی دلیل ہو وہ نجاست غلیظہ ہے اور جس نجاست کی ناپاکی کے بارے میںدونوں قسم کے احادیث ہوں وہ نجاست خففیہ ہے ۔
تیسری روایت یہ ہے کہ جس نجاست کے بارے میں ائمہ کا اتفاق ہو وہ نجاست غلیظہ ہے اور جس نجاست کی ناپاکی کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہو وہ نجاست خفیفہ ہے ۔
لغت : خرء : بیٹ ، خرء الدجاج ،مرغی کی بیٹ ۔التحرج : بچنا ۔ المساحة : لمبائی چوڑائی ناپنے کے حساب کو مساحت کہتے ہیں رقیق : پتلا ۔کثیف : گاڑھا ۔دلیل مقطوع : قطعی دلیل ، یقینی دلیل ۔
ترجمہ: (١٧٠) اور اگر کپڑے یا بدن کو نجاست خفیفہ لگ جائے جیسے گوشت کھائے جانے والے جانور کا پیشاب تو اس کے ساتھ نماز جائز ہے جب تک چوتھائی کپڑے کو نہ پہنچ جائے۔
تشریح: نجاست خفیفہ اس کو کہتے ہیں جس کے پاک ہونے اور ناپاک ہونے میں دونوں قسم کے دلائل ہوں، یا علماء میں اختلاف ہو۔جیسے ان جانوروں کا پیشاب جن کا گوشت کھایا جاتا ہے کہ ان کے پاک اور ناپاک ہونے میں دونوں قسم کی احادیث ہیں۔پاک ہونے کی دلیل یہ ہے حدیث میں ہے (١) عن انس ان ناسا من عرینة قدموا المدینة فاجتووھا فبعثھم