٣ وقدرناہ بقدر الدرھم آخذا عن موضع الاستنجاء ٤ ثم یروی اعتبار الدرھم من حیث المساحةو ھو قدر عرض الکف، فی الصحیح
ترجمہ: ٣ اور ہمنے اسکو متعین کیا درھم کی مقدار استنجاء کی جگہ سے لیتے ہو ئے ۔
تشریح : ایک درھم تک نجاست غلیظہ معاف ہے اور اس سے زیادہ دھونا پڑے گا ، تو ایک درھم کے تعین کی وجہ بتا رہے ہیں ۔کہ ابھی حدیث کے اندر گزرا کہ پتھر سے پیخانے کے مقام کو صاف کرے تو جائز ہے اور پیخانے کے مقام کی لمبائی چوڑائی تقریبا ایک درھم ہو تی ہے اس سے ہم متعین کر تے ہیں کہ ایک درھم کی مقدار نجاست معاف ہے ۔ (٢) دوسری حدیث میں درھم کی مقدار کی صراحت ہے اس سے بھی درھم کی مقدار لی جاتی ہے ، حدیث یہ ہے ۔ عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ ۖ اذا کان فی الثوب قدر الدرھم من الدم غسل الثوب و أعیدت الصلاة (دار قطنی ، باب قدر النجاسة التی تبطل الصلوة ص ٣٨٥ نمبر ١٤٨٠سنن للبیھقی ، باب ما یجب غسلہ من الدم ، ج اول ، ص ٥٦٦ ، نمبر ٤٠٩٣) اس حدیث میں ہے کہ درھم کے برابر نجاست ہو تو نماز لوٹائے گا ، ورنہ نہیں ۔
ترجمہ: ٤ پھر روایت کیا درھم کا اعتبار مساحت کے اعتبار سے اور وہ ہتھیلی کی چوڑائی کی مقدار ہے صحیح روایت میں ۔
تشریح : نجاست کی معافی کے لئے درھم کا اعتبار کیا ، تو درھم کی دو حیثیتیں ہیں ایک اسکی چوڑائی کا اعتبار ، اور ایک اسکے وزن کا اعتبار ۔ تو فرماتے ہیں کہ صحیح روایت یہ ہے کہ درھم کی چوڑائی کا اعتبار ہے ۔ ہتھیلی کے درمیان میں جو چوڑا حصہ ہے وہ درھم کے برابر ہے اسی کا اعتبار ہے۔ مفتی رشید صاحب لدھیانوی نے احسن الفتاوی میں لکھا ہے کہ ۔حضرات فقہاء نے ہتھیلی کے گہراوء کی وسعت کو معلوم کر نے کے لئے یہ طریقہ لکھا ہے کہ چلو میں پانی بھر کر ہتھیلی کو پھیلا دیا جائے ، جتنی جگہ میں پانی ٹھرا رہے اتنی وسعت مراد ہے اکابر نے اسکی مقدار ایک روپئے کے برابر تحریر فرمائی ہے ، مگر آج کل دھات کا روپیہ بالکل غائب ہو چکا ہے ، اور ہتھیلی کی پیمائش آسان نہیں اسلئے اسکی پیمائش کو ضبط کرنے کی ضرورت کو محسوس کر کے بندہ نے بطریق مذکور متعدد بار احتیاط سے پیمائش کی تو قطر 1.1=انچ ، یا 2.75سینٹی میٹر ہوا ،اس کے بعد اتفاق سے ایک روپیہ دھات کا مل گیا تو اسکا قطر بھی اسکے مطابق پایا ۔(احسن الفتاوی ، باب نجاست غلیظہ کی قدر عفو کی تحقیق ،ج دوم ، ص ٨٩)اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نجاست پتلی ہو اور اور گولائی میں لگی تو اسکے درمیان کا قطر 2.75 سینٹی میٹر ہو ، اور نجاست کی گولائی 8.6394سینٹی میٹر ہو ،یا قطر1.1 انچ ہو اور نجاست کی گولائی 3.4557 انچ ہو تو وہ ایک درھم کے برابر ہے ، یا ہتھیلی کے برابر ہے اسلئے اسکا دھونا ضروری ہے ۔
نوٹ : درھم کے مساحت کے بارے میں کوئی اور تفصیل نہیں ملی اسلئے احسن الفتاوی کے قول پر حساب کی بنیاد رکھ دی ، برطانیہ میں پچاس پینس کا جو سکہ ہو تا ہے وہ بھی اوپر والے درھم کے برابر ہی ہو تا ہے