Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

299 - 627
٣ وقدرناہ بقدر الدرھم آخذا عن موضع الاستنجاء  ٤ ثم یروی اعتبار الدرھم من حیث المساحةو ھو قدر عرض الکف،  فی الصحیح 

ترجمہ:  ٣   اور ہمنے اسکو متعین کیا درھم کی مقدار استنجاء کی جگہ سے لیتے ہو ئے ۔
 تشریح :   ایک درھم تک نجاست غلیظہ معاف ہے اور اس سے زیادہ دھونا پڑے گا ، تو ایک درھم کے تعین کی وجہ بتا رہے ہیں ۔کہ ابھی حدیث کے اندر گزرا کہ پتھر سے پیخانے کے مقام کو صاف کرے تو جائز ہے اور پیخانے  کے مقام کی لمبائی چوڑائی تقریبا ایک درھم ہو تی ہے اس سے ہم متعین کر تے ہیں کہ ایک درھم کی مقدار نجاست معاف ہے ۔ (٢) دوسری حدیث میں درھم کی مقدار کی صراحت ہے اس سے بھی درھم کی مقدار لی جاتی ہے ، حدیث یہ ہے  ۔ عن ابی ھریرة قال : قال رسول اللہ  ۖ اذا کان فی الثوب قدر الدرھم من الدم غسل الثوب و أعیدت الصلاة (دار قطنی ، باب قدر النجاسة التی تبطل الصلوة ص ٣٨٥ نمبر ١٤٨٠سنن للبیھقی ، باب ما یجب غسلہ من الدم ، ج اول ، ص ٥٦٦ ، نمبر ٤٠٩٣)  اس حدیث میں ہے کہ درھم کے برابر نجاست ہو تو نماز لوٹائے گا ، ورنہ نہیں ۔
ترجمہ:  ٤   پھر روایت کیا درھم کا اعتبار مساحت کے اعتبار سے اور وہ ہتھیلی کی چوڑائی کی مقدار ہے صحیح روایت میں ۔ 
تشریح :  نجاست کی معافی کے لئے درھم کا اعتبار کیا ، تو درھم کی دو حیثیتیں ہیں ایک اسکی چوڑائی کا اعتبار ، اور ایک اسکے وزن کا اعتبار ۔ تو فرماتے ہیں کہ صحیح روایت یہ ہے کہ درھم کی چوڑائی کا اعتبار ہے ۔ ہتھیلی کے درمیان میں جو چوڑا حصہ ہے وہ درھم کے برابر ہے اسی کا اعتبار ہے۔ مفتی رشید صاحب لدھیانوی  نے احسن الفتاوی میں لکھا ہے کہ ۔حضرات فقہاء  نے ہتھیلی کے گہراوء کی وسعت کو معلوم کر نے کے لئے  یہ طریقہ لکھا ہے کہ چلو میں پانی بھر کر ہتھیلی کو پھیلا دیا جائے ، جتنی جگہ میں پانی ٹھرا رہے اتنی وسعت مراد ہے اکابر نے اسکی مقدار ایک روپئے کے برابر تحریر فرمائی ہے ، مگر آج کل دھات کا روپیہ بالکل غائب ہو چکا ہے ، اور ہتھیلی کی پیمائش آسان نہیں اسلئے اسکی پیمائش کو ضبط کرنے  کی ضرورت کو محسوس کر کے بندہ نے بطریق مذکور متعدد بار احتیاط سے پیمائش کی تو قطر 1.1=انچ ، یا 2.75سینٹی میٹر ہوا ،اس کے بعد اتفاق سے ایک روپیہ دھات کا مل گیا تو اسکا قطر بھی اسکے مطابق پایا ۔(احسن الفتاوی ،  باب نجاست غلیظہ کی قدر عفو کی تحقیق ،ج دوم ، ص ٨٩)اس عبارت سے معلوم ہوا کہ نجاست پتلی ہو اور اور گولائی میں لگی تو اسکے درمیان کا قطر 2.75  سینٹی میٹر ہو ، اور نجاست کی گولائی 8.6394سینٹی میٹر ہو ،یا قطر1.1  انچ ہو اور نجاست کی گولائی 3.4557 انچ ہو تو وہ ایک درھم کے برابر ہے ، یا ہتھیلی کے برابر ہے اسلئے اسکا دھونا ضروری ہے ۔
نوٹ :  درھم کے مساحت کے بارے میں کوئی اور تفصیل نہیں ملی اسلئے احسن الفتاوی کے قول پر حساب کی بنیاد رکھ دی ، برطانیہ میں پچاس پینس کا جو سکہ ہو تا ہے وہ بھی اوپر والے درھم کے برابر ہی ہو تا ہے  
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter