Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

295 - 627
  ١ و قال زفر و الشافی:لاتجوز لانہ لم یوجد المزیل و لھذا لا یجوزالتیمم بھا ٢  و لنا قولہ علیہ السلام:ذکاة الارض یبسھا
 
وجہ:   (١) حدیث میں ہے  قال عبد اللہ ابن عمر کنت ابیت فی المسجد فی عہد رسول اللہ ۖ وکنت فتی شابا عزبا،وکانت الکلاب تبول و تقبل وتدبر فی المسجد فلم یکونوا یرشون شیئا من ذلک ۔ (ابو داود شریف، باب فی طھور الارض اذا یبست، ص ٦٠ نمبر ٣٨٢)  کتا مسجد میں پیشاب کرتا ہو پھر اس کو کوئی دھوتا نہ ہو اور اسی پر نماز پڑھتا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پیشاب خشک ہونے کے بعد اور اس کے اثرات چلے جانے کے بعد جگہ پاک ہو گئی ۔ابو قلابہ کے قول میں تو صاف ہے کہ زمین خشک ہو گئی تو پاک ہو گئی۔   (٢) عن ابی قلابة قال اذا جفت الارض فقد زکت۔ (مصنف ابن ابی شیبة ٧٢ من قال اذا کانت جافة فھو زکاتہا، ج اول ،ص ٥٩،نمبر ٦٢٥) 
ترجمہ:  ١   امام زفر  اور امام شافعی  فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے اسلئے کہ زائل کر نے والی چیز نہیں پائی گئی ، اسی لئے اس سے تیمم جائز نہیں ہے ۔
 تشریح :   امام شافعی  اور امام زفر  فرماتے ہیں کہ زمین پر نجاست لگ جائے تو صرف سوکھ جانے سے وہ پاک نہیں ہو گی جب تک کہ پانی سے دھل نہ جائے ، یا اس پر اتنا پانی بہا دیا جائے کہ نجاست مغلوب ہو جائے اور پانی غالب ہو جائے ،موسوعة میں یہ ہے ۔فلا تطھر الارض حتی ٰیصب علیھا من الماء قدر ما یذھبہ ۔( موسوعة للامام شافعی  ،باب ما یطھرالارض و ما لا یطھرھا ، ج اول ، ص ٢٠٦ ، نمبر ٦٩٩ )
وجہ:   (١) پاک کرنے والی کوئی چیز نہیں پائی گئی (٢) حدیث میں ہے  ان ابا ھریرة قال قام اعرابی فبال فی المسجد فتناولہ الناس فقال لھم النبی ۖ دعوہ وھر یقوا علی بولہ سجلا من ماء او ذنوبا من ماء فانما بعثتم میسرین لم تبعثوا معسرین ۔ (بخاری شریف ،باب صب الماء علی البول فی المسجد ص ٣٥ نمبر ٢٢٠ ابو داود شریف ، باب الارض یصیبھا البول ، ص ٦٠ نمبر ٣٨٠ ) اس حدیث میں ہے کہ پیشاب پر پانی بہایا جس سے معلوم ہوا کہ نجاست پر پانی بہانے سے ہی   زمین پاک ہو گی ۔ (٣) تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر زمین خشک ہو نے سے پاک ہو جاتی تو اس سے تیمم کر نا جائز ہوتا ، لیکن اس زمین سے آپکے یہاں بھی تیمم کر نا جائز نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ مٹی خشک ہو نے سے پاک نہیں ہو گی ۔ 
ہم کہتے ہیں کہ تر نجاست ہو تو ہم بھی کہتے ہیں کہ پانی بہانے سے پاک ہوگی۔یہاں پیشاب تر تھا اور جلدی میں نماز پڑھنی تھی اس لئے پانی سے پاک کی گئی۔البتہ خشک کے لئے اوپر کی حدیث پر عمل ہوا۔ 
ترجمہ:  ٢   اور ہماری دلیل حضور ۖ کا قول ہے کہ زمین کا پاک ہو نا اسکا خشک ہو نا ہے ۔شاید یہ حدیث نہیں قول صحابی ہے وہ یہ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter