١ و قال زفر و الشافی:لاتجوز لانہ لم یوجد المزیل و لھذا لا یجوزالتیمم بھا ٢ و لنا قولہ علیہ السلام:ذکاة الارض یبسھا
وجہ: (١) حدیث میں ہے قال عبد اللہ ابن عمر کنت ابیت فی المسجد فی عہد رسول اللہ ۖ وکنت فتی شابا عزبا،وکانت الکلاب تبول و تقبل وتدبر فی المسجد فلم یکونوا یرشون شیئا من ذلک ۔ (ابو داود شریف، باب فی طھور الارض اذا یبست، ص ٦٠ نمبر ٣٨٢) کتا مسجد میں پیشاب کرتا ہو پھر اس کو کوئی دھوتا نہ ہو اور اسی پر نماز پڑھتا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پیشاب خشک ہونے کے بعد اور اس کے اثرات چلے جانے کے بعد جگہ پاک ہو گئی ۔ابو قلابہ کے قول میں تو صاف ہے کہ زمین خشک ہو گئی تو پاک ہو گئی۔ (٢) عن ابی قلابة قال اذا جفت الارض فقد زکت۔ (مصنف ابن ابی شیبة ٧٢ من قال اذا کانت جافة فھو زکاتہا، ج اول ،ص ٥٩،نمبر ٦٢٥)
ترجمہ: ١ امام زفر اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ جائز نہیں ہے اسلئے کہ زائل کر نے والی چیز نہیں پائی گئی ، اسی لئے اس سے تیمم جائز نہیں ہے ۔
تشریح : امام شافعی اور امام زفر فرماتے ہیں کہ زمین پر نجاست لگ جائے تو صرف سوکھ جانے سے وہ پاک نہیں ہو گی جب تک کہ پانی سے دھل نہ جائے ، یا اس پر اتنا پانی بہا دیا جائے کہ نجاست مغلوب ہو جائے اور پانی غالب ہو جائے ،موسوعة میں یہ ہے ۔فلا تطھر الارض حتی ٰیصب علیھا من الماء قدر ما یذھبہ ۔( موسوعة للامام شافعی ،باب ما یطھرالارض و ما لا یطھرھا ، ج اول ، ص ٢٠٦ ، نمبر ٦٩٩ )
وجہ: (١) پاک کرنے والی کوئی چیز نہیں پائی گئی (٢) حدیث میں ہے ان ابا ھریرة قال قام اعرابی فبال فی المسجد فتناولہ الناس فقال لھم النبی ۖ دعوہ وھر یقوا علی بولہ سجلا من ماء او ذنوبا من ماء فانما بعثتم میسرین لم تبعثوا معسرین ۔ (بخاری شریف ،باب صب الماء علی البول فی المسجد ص ٣٥ نمبر ٢٢٠ ابو داود شریف ، باب الارض یصیبھا البول ، ص ٦٠ نمبر ٣٨٠ ) اس حدیث میں ہے کہ پیشاب پر پانی بہایا جس سے معلوم ہوا کہ نجاست پر پانی بہانے سے ہی زمین پاک ہو گی ۔ (٣) تیسری دلیل یہ ہے کہ اگر زمین خشک ہو نے سے پاک ہو جاتی تو اس سے تیمم کر نا جائز ہوتا ، لیکن اس زمین سے آپکے یہاں بھی تیمم کر نا جائز نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ مٹی خشک ہو نے سے پاک نہیں ہو گی ۔
ہم کہتے ہیں کہ تر نجاست ہو تو ہم بھی کہتے ہیں کہ پانی بہانے سے پاک ہوگی۔یہاں پیشاب تر تھا اور جلدی میں نماز پڑھنی تھی اس لئے پانی سے پاک کی گئی۔البتہ خشک کے لئے اوپر کی حدیث پر عمل ہوا۔
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل حضور ۖ کا قول ہے کہ زمین کا پاک ہو نا اسکا خشک ہو نا ہے ۔شاید یہ حدیث نہیں قول صحابی ہے وہ یہ