٣ وانما لایجوز التیمم لان طھارة الصعید ثبت شرطا ً بنص الکتاب فلا تتادی بما ثبت بالحدیث(١٦٩) و قدرالدرھم و مادونہ من النجس المغلظ کالدم، و البول، و الخمر، و خرء الدجاج، و بول الحمار جازت الصلوة معہ و ان زاد لم تجز)
ہے ۔ عن ابی جعفر قال : زکاة الارض یبسھا ۔(مصنف ابن ابی شیبة ، ٧١ فی الرجل یطأ الموضع القذر یطأ بعدہ ما ھو انظف ، ج اول ، ص ٥٩ ، نمبر ٦٢٤ ) اس اثر میں ہے کہ زمین کا خشک ہونا اسکا پاک ہو نا ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور تیمم جائز اسلئے نہیں ہے کہ مٹی کا پاک ہو نا آیت قرآنی سے شرط ثابت ہو ئی ہے اسلئے اس سے ادا نہیں ہو گا جو حدیث سے ثابت ہو ۔
تشریح : یہ امام شافعی کو جواب ہے ۔ انہوں نے استدلال کیا تھا کہ ایسی مٹی پر تیمم جائز نہیں جس سے معلوم ہو ا کہ یہ مٹی خشک ہو نے سے پاک نہیں ہوئی ۔ اسکا جواب دے رہے ہیں کہ تیمم کیلئے مکمل پاک ہو نا آیت سے شرط ہے اسلئے حدیث کی بنا پر آیت کو نہیں چھوڑ سکتے ۔ آیت یہ ہے ۔ فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا۔(آیت ٤٣،سورة النساء ٤ ) اس آیت میں ہے کہ بالکل پاک مٹی ہو نی چاہئے اسلئے نجاست والی زمین خشک ہو جائے تو اس سے تیمم جائز نہیں ہو گا ، البتہ اس پر نماز جائز ہے
نوٹ: نجاست تر ہو یا اس کے اثراتباقی ہوں تو دھوئے بغیر زمین پاک نہیں ہوگی۔
لغت: جفت : خشک ہو گئی۔مزیل : زائل کر نے والی چیز ۔یبس : خشک ہو نا ۔
ترجمہ: (١٦٩) درھم کی مقدار یا اس سے کم نجاست مغلظہ ہو جیسے خون ، اور پیشاب ، اور شراب ، اور مرغی کی بیٹ ، اور گدھے کا پیشاب تو اسکے ساتھ نماز جائز ہے ، اور اگر زیادہ ہو تو جائز نہیں ہے۔
تشریح : جس نجاست کے بارے میںائمہ کا اتفاق ہو کہ یہ نجاست ہے اسکو نجاست مغلظہ کہتے ہیں ، اور جس کے بارے میں اختلاف ہوا سکو نجاست مخففہ کہتے ہیں ۔ نجاست مغلظہ جیسے خون ، پیشاب ، شراب ، مرغی کی بیٹ ، اور گدھے کا پیشاب ایک درم کی مقدار سے زیادہ کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو وہ ناپاک ہو گیا اسکے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ۔اور ایک درھم سے کم ہو تو اس سے کپڑا یا بدن ناپاک نہیں ہو گا اسکے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے ، کیونکہ اتنی مقدار شریعت نے معاف کیا ہے ۔البتہ اسکو دھو لینا بہتر ہے ۔
وجہ : نجاست مغلظہ ایک درھم سے کم معاف ہے اسکی دلیل یہ حدیث ہے (١) پتھر کے ذریعہ استنجا کی حدیث میں ہے کہ پتھر سے مقام پاخانہ صاف کر دیا جائے تو نماز جائز ہو جائے گی۔حالانکہ پتھر کے ذریعہ صفائی سے نجاست مکمل صاف نہیں ہوگی صرف کمی ہوگی اس کے با وجود نماز جائز کر دی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی مقدار نجاست غلیظہ معاف ہے۔ حدیث میں ہے عن عائشة قالت ان رسول اللہ ۖ قال اذا ذہب احدکم الی الغائط فلیذھب معہ بثلاثة احجار یستطیب بھن فانھا