Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

296 - 627
٣ وانما لایجوز التیمم لان  طھارة الصعید ثبت شرطا ً بنص الکتاب فلا تتادی بما ثبت بالحدیث(١٦٩)  و قدرالدرھم و مادونہ من النجس المغلظ کالدم،  و البول،  و الخمر،  و خرء الدجاج،  و بول الحمار جازت الصلوة معہ و ان زاد لم تجز)          

ہے ۔ عن ابی جعفر قال :  زکاة الارض یبسھا ۔(مصنف ابن ابی شیبة ، ٧١ فی الرجل یطأ الموضع القذر یطأ بعدہ ما ھو انظف ، ج اول ، ص ٥٩ ، نمبر ٦٢٤ ) اس اثر میں ہے کہ زمین کا خشک ہونا اسکا پاک ہو نا ہے ۔
ترجمہ:  ٣   اور تیمم جائز اسلئے نہیں ہے کہ مٹی کا پاک ہو نا آیت قرآنی سے شرط ثابت ہو ئی ہے اسلئے اس سے ادا نہیں ہو گا جو حدیث سے ثابت ہو ۔
تشریح :   یہ امام شافعی  کو جواب ہے ۔ انہوں نے استدلال کیا تھا کہ ایسی مٹی پر تیمم جائز نہیں جس سے معلوم ہو ا کہ یہ مٹی خشک ہو نے سے پاک نہیں ہوئی ۔ اسکا جواب دے رہے ہیں کہ تیمم کیلئے مکمل پاک ہو نا آیت سے شرط ہے اسلئے حدیث کی بنا پر آیت کو نہیں چھوڑ سکتے ۔ آیت یہ ہے ۔ فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا۔(آیت ٤٣،سورة النساء ٤ ) اس  آیت میں ہے کہ بالکل پاک مٹی ہو نی چاہئے اسلئے نجاست والی زمین خشک ہو جائے تو اس سے تیمم جائز نہیں ہو گا ، البتہ اس پر نماز جائز  ہے 
 نوٹ:   نجاست تر ہو یا اس کے اثراتباقی ہوں تو دھوئے بغیر زمین پاک نہیں ہوگی۔  
لغت:   جفت  :  خشک ہو گئی۔مزیل : زائل کر نے والی چیز ۔یبس : خشک ہو نا ۔ 
ترجمہ:  (١٦٩)  درھم کی مقدار یا اس سے کم نجاست مغلظہ ہو جیسے خون ، اور پیشاب ، اور شراب ، اور مرغی کی بیٹ ، اور گدھے کا پیشاب تو اسکے ساتھ نماز جائز ہے ، اور اگر زیادہ ہو تو جائز نہیں ہے۔
تشریح :   جس نجاست کے بارے میںائمہ کا اتفاق ہو کہ یہ نجاست ہے اسکو نجاست مغلظہ کہتے ہیں ، اور جس کے بارے میں اختلاف ہوا سکو نجاست مخففہ کہتے ہیں ۔ نجاست مغلظہ جیسے خون ، پیشاب ، شراب ، مرغی کی بیٹ ، اور گدھے کا پیشاب ایک درم کی مقدار سے زیادہ کپڑے یا بدن پر لگ جائے تو وہ ناپاک ہو گیا اسکے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہیں ۔اور ایک درھم سے کم ہو تو اس سے کپڑا یا بدن ناپاک نہیں ہو گا اسکے ساتھ نماز پڑھنا جائز ہے ، کیونکہ اتنی مقدار شریعت نے معاف کیا ہے ۔البتہ اسکو دھو لینا بہتر ہے ۔
وجہ :   نجاست مغلظہ ایک درھم سے کم معاف ہے اسکی دلیل یہ حدیث ہے  (١) پتھر کے ذریعہ استنجا کی حدیث میں ہے کہ پتھر سے مقام پاخانہ صاف کر دیا جائے تو نماز جائز ہو جائے گی۔حالانکہ پتھر کے ذریعہ صفائی سے نجاست مکمل صاف نہیں ہوگی صرف کمی ہوگی اس کے با وجود نماز جائز کر دی گئی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اتنی مقدار نجاست غلیظہ معاف ہے۔ حدیث میں ہے  عن عائشة قالت ان رسول اللہ ۖ قال اذا ذہب احدکم الی الغائط فلیذھب معہ بثلاثة احجار یستطیب بھن فانھا 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter