Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

294 - 627
٥ وعن ابی حنیفة: انہ لا یطھر الا بالغسل لان حرارة البدن جاذبة فلا یعود الی الجرم،  و البدن لا یمکن فرکہ،  (١٦٧)و النجاسة اذا اصابت المرأة،  او السیف اکتفی بمسحھما)  ١ لانہ لاتتداخلھما النجاسة وماعلی ظاھرہ یزول بالمسح، (١٦٨) وان اصابت الارض نجسةفجفت بالشمس و ذھب اثرھا جازت الصلوة علی مکانھا)  

ترجمہ:  ٥   اور امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ دھوئے بغیر پاک نہیں ہو گا ، اسلئے کہ بدن کی گرمی اندر کھینچتی ہے اسلئے نجاست جرم کی طرف واپس نہیں آئے گی ، پھر یہ کہ بدن کو رگڑنا بھی ممکن نہیں ۔
تشریح:   امام ابو حنیفہ کی روایت یہ ہے کہ منی بدن پر لگ جائے تو اسکو رگڑنے سے پاک نہیں ہو گا ،دھونا ہی ہو گا ، اسکی دو وجہ ہیں ، ایک تو یہ ہے کہ بدن کی گرمی منی کی رطوبت کو اندر کی طرف کھینچ لیتی ہے جس کی وجہ سے جب منی خشک ہو رہی ہوگی اسوقت یہ رطوبت واپس منی کے جرم کی طرف نہیں آئے گی اور جب منی کے جرم کو رگڑئیں گے تو رطوبت زائل نہیںہو گی اسلئے جسم پاک نہیں ہو گا ، دوسری وجہ یہ ہے کہ جسم کو کپڑے کی طرح رگڑنا بھی ممکن نہیں کہ منی کا جرم مکمل جھڑ جائے اسلئے بدن کو رگڑنے سے پاک نہیں ہو گا ۔
 ترجمہ:  (١٦٧)  نجاست جب کہ آئینہ کو یا تلوار کو لگ جائے تو کافی ہوگا ان دونوں کو پونچھ دینا۔  
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ نجاست انکے اندر نہیں جائے گی ، اور جو اسکے اوپر ہے وہ پونچھنے سے زائل ہو جائے گی ۔ 
وجہ:   (١)آئینہ اور تلوار چکنے ہوں کہ پونچھنے سے تمام نجاست صاف ہو جائے تو پونچھ دینے سے پاک ہوجائیںگے ۔کیونکہ نجاست مکمل صاف ہونے کے بعد نجاست باقی نہیں رہی۔اس لئے پاک ہو جائیںگے۔لیکن اگر تلوار یا آئینہ نقشین ہو یا کھردرا ہو اور نجاست مکمل صاف نہیں ہوتی تو پونچھنے سے پاک نہیں ہونگے۔دھونا پڑے گا۔(٢)صحابہ کرام قتال کرتے تھے اور تلوار کو صاف کرکے نماز پڑھ لیتے تھے دھونے کا اتفاق کم ہوتا تھا جس سے معلوم ہوا کہ کہ چکنی چیز پوچھ دینے سے صاف ہو جائے تو پاک ہو جائے گی۔  (٣) موزہ اتنا چکنا نہیں  ہو تا پھر بھی رگڑنے سے پاک ہو جاتا ہے تو چکنا آئینہ اور تلوار بدرجہ اولی رگڑنے سے پاک ہو جائے گا ۔
لغت:   المرآة  :  آئینہ۔ 
ترجمہ:   (١٦٨)  اگر زمین پر ناپاکی لگ جائے اور سورج سے خشک ہو جائے  اور ناپاکی کا اثر ختم ہو جائے تو اس جگہ پر نماز جائز ہے ۔  
تشریح:   پیشاب یا پا خانہ یا کوئی اور ناپاکی زمین پر لگی ہو لیکن سورج نے اس ناپاکی کو خشک کر دیا اور ناپاکی کے اثر ات ختم ہو گئے اب پتہ نہیںچلتا کہ اس جگہ پیشاب یا پا خانہ تھا تو اب وہ جگہ پاک ہو گئی اس پر نماز پڑھنا جائز ہے۔

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter