٥ وعن ابی حنیفة: انہ لا یطھر الا بالغسل لان حرارة البدن جاذبة فلا یعود الی الجرم، و البدن لا یمکن فرکہ، (١٦٧)و النجاسة اذا اصابت المرأة، او السیف اکتفی بمسحھما) ١ لانہ لاتتداخلھما النجاسة وماعلی ظاھرہ یزول بالمسح، (١٦٨) وان اصابت الارض نجسةفجفت بالشمس و ذھب اثرھا جازت الصلوة علی مکانھا)
ترجمہ: ٥ اور امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ دھوئے بغیر پاک نہیں ہو گا ، اسلئے کہ بدن کی گرمی اندر کھینچتی ہے اسلئے نجاست جرم کی طرف واپس نہیں آئے گی ، پھر یہ کہ بدن کو رگڑنا بھی ممکن نہیں ۔
تشریح: امام ابو حنیفہ کی روایت یہ ہے کہ منی بدن پر لگ جائے تو اسکو رگڑنے سے پاک نہیں ہو گا ،دھونا ہی ہو گا ، اسکی دو وجہ ہیں ، ایک تو یہ ہے کہ بدن کی گرمی منی کی رطوبت کو اندر کی طرف کھینچ لیتی ہے جس کی وجہ سے جب منی خشک ہو رہی ہوگی اسوقت یہ رطوبت واپس منی کے جرم کی طرف نہیں آئے گی اور جب منی کے جرم کو رگڑئیں گے تو رطوبت زائل نہیںہو گی اسلئے جسم پاک نہیں ہو گا ، دوسری وجہ یہ ہے کہ جسم کو کپڑے کی طرح رگڑنا بھی ممکن نہیں کہ منی کا جرم مکمل جھڑ جائے اسلئے بدن کو رگڑنے سے پاک نہیں ہو گا ۔
ترجمہ: (١٦٧) نجاست جب کہ آئینہ کو یا تلوار کو لگ جائے تو کافی ہوگا ان دونوں کو پونچھ دینا۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ نجاست انکے اندر نہیں جائے گی ، اور جو اسکے اوپر ہے وہ پونچھنے سے زائل ہو جائے گی ۔
وجہ: (١)آئینہ اور تلوار چکنے ہوں کہ پونچھنے سے تمام نجاست صاف ہو جائے تو پونچھ دینے سے پاک ہوجائیںگے ۔کیونکہ نجاست مکمل صاف ہونے کے بعد نجاست باقی نہیں رہی۔اس لئے پاک ہو جائیںگے۔لیکن اگر تلوار یا آئینہ نقشین ہو یا کھردرا ہو اور نجاست مکمل صاف نہیں ہوتی تو پونچھنے سے پاک نہیں ہونگے۔دھونا پڑے گا۔(٢)صحابہ کرام قتال کرتے تھے اور تلوار کو صاف کرکے نماز پڑھ لیتے تھے دھونے کا اتفاق کم ہوتا تھا جس سے معلوم ہوا کہ کہ چکنی چیز پوچھ دینے سے صاف ہو جائے تو پاک ہو جائے گی۔ (٣) موزہ اتنا چکنا نہیں ہو تا پھر بھی رگڑنے سے پاک ہو جاتا ہے تو چکنا آئینہ اور تلوار بدرجہ اولی رگڑنے سے پاک ہو جائے گا ۔
لغت: المرآة : آئینہ۔
ترجمہ: (١٦٨) اگر زمین پر ناپاکی لگ جائے اور سورج سے خشک ہو جائے اور ناپاکی کا اثر ختم ہو جائے تو اس جگہ پر نماز جائز ہے ۔
تشریح: پیشاب یا پا خانہ یا کوئی اور ناپاکی زمین پر لگی ہو لیکن سورج نے اس ناپاکی کو خشک کر دیا اور ناپاکی کے اثر ات ختم ہو گئے اب پتہ نہیںچلتا کہ اس جگہ پیشاب یا پا خانہ تھا تو اب وہ جگہ پاک ہو گئی اس پر نماز پڑھنا جائز ہے۔