Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

293 - 627
٢ وقال الشافعی : المنی طاھر، و الحجة علیہ مارویناہ٣ و قال علیہ السلام: انما یغسل الثوب من خمس و ذکر منھا المنی، ٤ و لو اصاب البدن قال مشائخنا یطھربالفرک لان البلوی فیہ اشد

رگڑنے سے بھی کپڑا پاک ہو جائے گا۔  
ترجمہ:   ٢   اور امام شافعی نے فرمایا کہ منی پاک ہے ، اور انکے اوپر حجت وہ روایت ہے جسکو میں نے بیان کیا 
تشریح :    امام شافعی کے نزدیک منی پاک ہے۔کپڑے میں لگ جائے تو دھونے کی ضرورت نہیں۔ کتاب الام میں ہے ۔ قال الشافعی: و المنی لیس بنجس ۔ ( موسوعة للامام شافعی ، باب المنی ، ج اول ، ص ٢١٩ ، نمبر ٧٤٤ ) 
وجہ :    (١)  انکا استدلال ان احادیث سے  جن میں ہے کہ حضورۖ کی منی کو کپڑے سے رگڑ کر صاف کیا کرتی تھی۔اگر ناپاک ہوتی تو رگڑنے سے پاک نہیں ہوتی اس لئے منی پاک ہے ۔عن عائشة لقد رأیتنی افرکہ من ثوب رسول اللہ ۖ فرکا فیصلی فیہ ( مسلم شریف،باب حکم المنی ص ١٤٠ نمبر ٢٨٨ترمذی شریف،باب ماجاء فی المنی یصیب الثوب ص ٣١ نمبر ١١٦)  اس حدیث میں ہے کہ منی کو رگڑتی تھی اور رگڑنے سے نجاست مکمل نہیں نکلے گی پھر بھی پاک قرار دیا تو اسکا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ منی پاک ہے  (٢) منی سے انسان  بلکہ انبیاء پیدا ہوتے ہیں  جو پاک ہیں اس لئے منی بھی پاک ہونی چاہئے (٣) وہ عبد اللہ ابن عباس کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں  عن ابن عباس قال سئل النبی ۖ عن المنی یصیب الثوب قال انما ھو بمنزلة المخاط والبزاق وانما یکفیک ان تمسحہ بخرقة او باذخر ۔(دار قطنی، باب ما ورد فی طہارة المنی وحکمہ رطبا و یابسا ج اول ص ١٣١ نمبر ٤٤١)ہم کہتے ہیں اس کی سند کمزور ہے۔انکے خلاف وہ احادیث حجت ہیں جنکو ہمنے بیان کیا ۔
ترجمہ : ٣   حضور ۖ نے فرمایا کہ کپڑا پانچ چیزوں سے دھویا جائے گا اور ان میں سے منی کا بھی ذکر کیا ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن عمار بن یاسر ....  یا عمارانمایغسل الثوب من خمس، من الغائط والبول والقیء والدم والمنی (دار قطنی، باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ ج اول ص ١٣٤ نمبر ٤٥٢)  اس حدیث میں ہے کہ منی دھوئی جائے گی ۔
ترجمہ:٤   اور اگر منی بدن کو لگ جائے تو ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ رگڑنے سے پاک ہو جائے گا اسلئے کہ اس میں کپڑے سے زیادہ ابتلاء ہے ،
تشریح :   منی بدن پر لگ جائے تو ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ اس سے بھی رگڑنے سے پاک ہو جائے گا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ کپڑے میں جتنی مشقت ہے اس سے زیادہ مشقت بدن دھونے میں ہے اور جتنا عموم بلوی کپڑے  میں ہے اس سے زیادہ بلوی بدن میں ہے اسلئے  حدیث کی بنا پر جب کپڑے کو رگڑنے سے پاک ہو تا ہے تو بدن کو بھی رگڑنے سے پاک ہو نا چاہئے ۔
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter