٢ وقال الشافعی : المنی طاھر، و الحجة علیہ مارویناہ٣ و قال علیہ السلام: انما یغسل الثوب من خمس و ذکر منھا المنی، ٤ و لو اصاب البدن قال مشائخنا یطھربالفرک لان البلوی فیہ اشد
رگڑنے سے بھی کپڑا پاک ہو جائے گا۔
ترجمہ: ٢ اور امام شافعی نے فرمایا کہ منی پاک ہے ، اور انکے اوپر حجت وہ روایت ہے جسکو میں نے بیان کیا
تشریح : امام شافعی کے نزدیک منی پاک ہے۔کپڑے میں لگ جائے تو دھونے کی ضرورت نہیں۔ کتاب الام میں ہے ۔ قال الشافعی: و المنی لیس بنجس ۔ ( موسوعة للامام شافعی ، باب المنی ، ج اول ، ص ٢١٩ ، نمبر ٧٤٤ )
وجہ : (١) انکا استدلال ان احادیث سے جن میں ہے کہ حضورۖ کی منی کو کپڑے سے رگڑ کر صاف کیا کرتی تھی۔اگر ناپاک ہوتی تو رگڑنے سے پاک نہیں ہوتی اس لئے منی پاک ہے ۔عن عائشة لقد رأیتنی افرکہ من ثوب رسول اللہ ۖ فرکا فیصلی فیہ ( مسلم شریف،باب حکم المنی ص ١٤٠ نمبر ٢٨٨ترمذی شریف،باب ماجاء فی المنی یصیب الثوب ص ٣١ نمبر ١١٦) اس حدیث میں ہے کہ منی کو رگڑتی تھی اور رگڑنے سے نجاست مکمل نہیں نکلے گی پھر بھی پاک قرار دیا تو اسکا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ منی پاک ہے (٢) منی سے انسان بلکہ انبیاء پیدا ہوتے ہیں جو پاک ہیں اس لئے منی بھی پاک ہونی چاہئے (٣) وہ عبد اللہ ابن عباس کی اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں عن ابن عباس قال سئل النبی ۖ عن المنی یصیب الثوب قال انما ھو بمنزلة المخاط والبزاق وانما یکفیک ان تمسحہ بخرقة او باذخر ۔(دار قطنی، باب ما ورد فی طہارة المنی وحکمہ رطبا و یابسا ج اول ص ١٣١ نمبر ٤٤١)ہم کہتے ہیں اس کی سند کمزور ہے۔انکے خلاف وہ احادیث حجت ہیں جنکو ہمنے بیان کیا ۔
ترجمہ : ٣ حضور ۖ نے فرمایا کہ کپڑا پانچ چیزوں سے دھویا جائے گا اور ان میں سے منی کا بھی ذکر کیا ۔ حدیث یہ ہے ۔ عن عمار بن یاسر .... یا عمارانمایغسل الثوب من خمس، من الغائط والبول والقیء والدم والمنی (دار قطنی، باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ ج اول ص ١٣٤ نمبر ٤٥٢) اس حدیث میں ہے کہ منی دھوئی جائے گی ۔
ترجمہ:٤ اور اگر منی بدن کو لگ جائے تو ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ رگڑنے سے پاک ہو جائے گا اسلئے کہ اس میں کپڑے سے زیادہ ابتلاء ہے ،
تشریح : منی بدن پر لگ جائے تو ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ اس سے بھی رگڑنے سے پاک ہو جائے گا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ کپڑے میں جتنی مشقت ہے اس سے زیادہ مشقت بدن دھونے میں ہے اور جتنا عموم بلوی کپڑے میں ہے اس سے زیادہ بلوی بدن میں ہے اسلئے حدیث کی بنا پر جب کپڑے کو رگڑنے سے پاک ہو تا ہے تو بدن کو بھی رگڑنے سے پاک ہو نا چاہئے ۔