الفرک) ١لقولہ علیہ السلام لعائشة : فاغسلیہ ان کان رطباً و افرکیہ ان کان یابساً
ہے۔
تشریح: اس عبارت میں تین باتیں بیان کی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ منی ناپاک ہے ۔ دوسری بات یہ کہ ترمنی کپڑے پر ہو تو اسکو دھونے سے پاک ہو گا ، اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر منی خشک ہو جائے تو کپڑے کو اچھی طرح رگڑ دیا جاے تو اس سے کپڑا پاک ہو جائے گا ۔منی ناپاک ہے اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔ اور تر منی کو دھونے کی دلیل بھی یہی حدیث ہے ۔
وجہ: (١) منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے۔جس چیز پر غسل واجب ہو ظاہر ہے کہ وہ چیز خود بھی ناپاک ہوگی (٢) حدیث میں ہے حضرت عائشہ تر منی کو حضورۖ کے کپڑے سے دھویا کرتی تھی اگر وہ ناپاک نہ ہوتی تو دھونے کی ضرورت نہیں تھی۔حدیث میں ہے ۔سألت عائشة عن المنی یصیب الثوب؟ فقالت کنت اغسلہ من ثوب رسول اللہ ۖ فیخرج الی الصلوة و اثر الغسل فی ثوبہ بقع الماء (بخاری شریف ، باب غسل المنی و فرکہ ص ٣٦ نمبر٢٣٠ مسلم شریف، باب حکم المنی ص ١٤٠ نمبر ٢٨٩) دوسری حدیث ہے۔ عن عمار بن یاسر .... یا عمارانمایغسل الثوب من خمس، من الغائط والبول والقیء والدم والمنی (دار قطنی، باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ ج اول ص ١٣٤ نمبر ٤٥٢) اس حدیث میں ہے کہ منی ناپاک ہے تب ہی تو دھونے کی ضرورت پڑی !اور یہ بھی پتہ چلا کہ کپڑے کو دھونا ہی پڑے گا تب ہی توحضرت عائشہ دھویا کر تی تھیں ۔(٢) دوسری حدیث میں اسکی صراحت ہے عن عائشة قالت کنت افرک المنی من ثوب رسول اللہ ۖ اذا کان یابسا واغسلہ اذا کان رطبا ۔(دار قطنی، باب ما ورد فی طہارة المنی و حکمہ رطبا و یابسا ج اول ص ١٣١ نمبر ٤٤٣) اس حدیث میں ہے کہ تر منی ہو تو میں اسکو دھوتی تھی ،جس سے معلوم ہوا کہ تر منی کو دھونا پڑے گا ۔
اور منی کپڑے پر خشک ہو جائے تو رگڑنے سے پاک قرار دیا جائے گا اسکی دلیل یہ ہے کہ رگڑنے سے منی جھڑ جائے گی اور جو تھوڑا بہت باقی رہے گی وہ معفو عنہ ہے اسکے لئے حدیث یہ ہے ۔عن عائشة لقد رأیتنی افرکہ من ثوب رسول اللہ ۖ فرکا فیصلی فیہ۔ ( مسلم شریف،باب حکم المنی ص ١٤٠ نمبر ٢٨٨ترمذی شریف،باب ماجاء فی المنی یصیب الثوب ص ٣١ نمبر ١١٦)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خشک منی ہو تو اچھی طرح رگڑنے سے بھی کپڑا پاک ہو جائے گا۔
ترجمہ: ١ حضرت عائشہ کے لئے حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ منی کو دھو دو اگر تر ہے اور اسکو کھرچ دو اگر خشک ہے ۔یہ جملہ اس حدیث کا مفہوم ہے۔
عن عائشة قالت کنت افرک المنی من ثوب رسول اللہ ۖ اذا کان یابسا واغسلہ اذا کان رطبا ۔(دار قطنی، باب ما ورد فی طہارة المنی و حکمہ رطبا و یابسا ،ج اول ،ص ١٣١ ،نمبر ٤٤٣) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خشک منی ہو تو اچھی طرح