Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

292 - 627
الفرک) ١لقولہ علیہ السلام لعائشة  : فاغسلیہ ان کان رطباً و افرکیہ ان کان یابساً 

ہے۔
تشریح:   اس عبارت میں تین باتیں بیان کی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ منی ناپاک ہے ۔ دوسری بات یہ کہ ترمنی کپڑے پر ہو تو اسکو دھونے سے پاک ہو گا ، اور تیسری بات یہ ہے کہ اگر منی خشک ہو جائے تو کپڑے کو اچھی طرح رگڑ دیا جاے تو اس سے کپڑا پاک ہو جائے گا ۔منی ناپاک ہے اسکی دلیل یہ  حدیث ہے ۔ اور تر منی کو دھونے کی دلیل بھی یہی حدیث ہے ۔  
وجہ:  (١) منی نکلنے سے غسل واجب ہوتا ہے۔جس چیز پر غسل واجب ہو ظاہر ہے کہ وہ چیز خود بھی ناپاک ہوگی (٢) حدیث میں ہے  حضرت عائشہ تر منی کو حضورۖ کے کپڑے سے دھویا کرتی تھی اگر وہ ناپاک نہ ہوتی تو دھونے کی ضرورت نہیں تھی۔حدیث میں ہے  ۔سألت عائشة عن المنی یصیب الثوب؟ فقالت کنت اغسلہ من ثوب رسول اللہ ۖ فیخرج الی الصلوة و اثر الغسل فی ثوبہ بقع الماء  (بخاری شریف ، باب غسل المنی و فرکہ ص ٣٦ نمبر٢٣٠ مسلم شریف، باب حکم المنی ص ١٤٠ نمبر ٢٨٩) دوسری حدیث ہے۔ عن عمار بن یاسر ....  یا عمارانمایغسل الثوب من خمس، من الغائط والبول والقیء والدم والمنی (دار قطنی، باب نجاسة البول والامر بالتنزہ منہ ج اول ص ١٣٤ نمبر ٤٥٢)   اس حدیث میں ہے کہ منی ناپاک ہے تب ہی تو دھونے کی ضرورت پڑی !اور یہ بھی پتہ چلا کہ کپڑے کو دھونا ہی پڑے گا تب ہی توحضرت عائشہ  دھویا کر تی تھیں ۔(٢) دوسری حدیث میں اسکی صراحت ہے   عن عائشة قالت کنت افرک المنی من ثوب رسول اللہ ۖ اذا کان یابسا واغسلہ اذا کان رطبا ۔(دار قطنی، باب ما ورد فی طہارة المنی و حکمہ رطبا و یابسا ج اول ص ١٣١ نمبر ٤٤٣)  اس حدیث میں ہے کہ تر منی ہو تو میں اسکو دھوتی تھی ،جس سے معلوم ہوا کہ تر منی کو دھونا پڑے گا ۔
اور منی کپڑے پر خشک ہو جائے تو رگڑنے سے پاک قرار دیا جائے گا اسکی دلیل  یہ ہے کہ رگڑنے سے منی جھڑ جائے گی اور جو تھوڑا  بہت باقی رہے گی وہ معفو عنہ ہے اسکے لئے  حدیث یہ ہے ۔عن عائشة لقد رأیتنی افرکہ من ثوب رسول اللہ ۖ فرکا فیصلی فیہ۔ ( مسلم شریف،باب حکم المنی ص ١٤٠ نمبر ٢٨٨ترمذی شریف،باب ماجاء فی المنی یصیب الثوب ص ٣١ نمبر ١١٦)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خشک منی ہو تو اچھی طرح رگڑنے سے بھی کپڑا پاک ہو جائے گا۔  
ترجمہ:   ١   حضرت عائشہ  کے لئے حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ منی کو دھو دو اگر تر ہے اور اسکو کھرچ دو اگر خشک ہے ۔یہ جملہ اس حدیث کا مفہوم ہے۔
عن عائشة قالت کنت افرک المنی من ثوب رسول اللہ ۖ اذا کان یابسا واغسلہ اذا کان رطبا ۔(دار قطنی، باب ما ورد فی طہارة المنی و حکمہ رطبا و یابسا ،ج اول ،ص ١٣١ ،نمبر ٤٤٣) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ خشک منی ہو تو اچھی طرح 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter