Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

289 - 627
بالارض فان الارض لھما طھور ٤ و لان الجلد لصلابتہ لا یتداخلہ اجزاء النجاسة الا قلیل ثم یجتذبہ الجرم اذا جف فاذا زال زال ما قام بہ (١٦٣) و فی الرطب لا یجوز حتی یغسلہ)  ١ لان المسح بالارض یکثرہ و لا یطھرہ 

تشریح :   یہ جملہ دو حدیثوں کا مجموعہ ہے ، وہ دونوں ابو داود شریف اور مسند احمد کی حدیث اوپر گزر گئی پھر بھی حدیث یہ ہے ۔  مسند احمد اور ابو داود میں لمبی حدیث کے آخیر میں یہ جملہ ہے۔عن ابی سعید الخدری ....فاذا جاء أحدکم الی المسجد فلینظر فی نعلیہ ، فان رأی فیھما قذراً او قال اذی فلیمسحھما (مسند احمد ، مسند ابی سعید الخدری،  ج ثالث ، ص ٥١٩، نمبر ١١٤٦٧  ابو داود شریف ،باب الصلوة فی النعل،  ص ١٠٢،نمبر ٦٥٠) اور دوسری حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا وطی احدکم بنعلہ الاذی فان التراب لہ طھور ۔ (ابو داؤد شریف، باب فی الاذی یصیب النعل ص ٦١ نمبر ٣٨٥)ھدایہ کا جملہ ان دو حدیثوں کا مجموعہ ہے ۔    
ترجمہ:  ٤   اور اسلئے کہ چمڑا سخت ہونے کی وجہ سے نجاست کے اجزا اسکے اندر داخل نہیں ہو نگے مگر بہت تھوڑے پھرنجاست کا جرم اسکو جذب کر لے گا جب خشک ہو گی ، پس جب جرم  زائل ہو گا تو وہ نجاست بھی زائل ہو جائے گی جو جرم کے ساتھ لگی تھی ۔
تشریح:   یہ دلیل عقلی ہے ،اور امام محمد  کو جواب ہے ۔ کہ چمڑا کافی سخت اور ٹھوس ہو تا ہے اسلئے نجاست کے اجزا ء اندر بہت کم داخل ہونگے پھر موزے کے اوپر نجاست کا جرم جب سوکھے گا تو چمڑے کے اندرگھسی ہوئی نجاست جو تر پانی کی شکل میں ہے اسکو  وہ جذب کرے گا ، اور چمڑے کے اندر کی نجاست اوپر کے جرم کے ساتھ چپک جائے گی اور جب یہ جرم گرے گا تو اسکے ساتھ یہ نجاست بھی گر جائے گی اور زائل  ہو جائے گی اور چمڑے کے اندر کا حصہ بھی پاک ہو جائے گا اور جرم گرنے سے اوپر کا حصہ بھی پاک ہو جائے گا ۔ اور پہلے قاعدہ گزر چکا ہے کہ نجاست کے زائل ہو نے سے چیز پاک ہو جاتی ہے ۔ اصل تو اوپر کی حدیث ہے ۔
لغت:   جرم  :  جسم دار، روث : گوبر ۔ العذرة : پاخانہ  جفت  :  خشک ہو گیا،  دلک  :  رگڑا ۔متداخل : دخل سے مشتق ہے ، جو اندر گھس جائے ،اذی : گندگی ، نجاست ۔صلابت : سخت ہو نا ، ٹھوس ہو نا ۔یجتذب : جذب سے مشتق ہے ، جذب کر نا ،چوسنا ۔
ترجمہ:  (١٦٣)  تر نجاست میں نہیں جائز ہے مگر یہ کہ اسکو دھوئے۔
ترجمہ  ١   اسلئے کہ زمین کے ساتھ رگڑنے سے نجاست کو پھیلاے گا ، اسکو پاک نہیں کر گا۔   
تشریح :   نجاست خشک ہو تب تورگڑنے سے پاک ہو جاء گا ، لیکن اگر تر ہو تو پانی سے چمڑے کو دھوئے گا تب پاک ہو گا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ نجاست زائل ہو نے سے چمڑا پاک ہو تا ہے ، اور تر نجاست کو زمین کے ساتھ رگڑیں تو نجاست مکمل زائل نہیں ہو گی بلکہ اور پھیل جائے گی اور بہت کچھ نجاست چمڑے کے اندر اور کچھ باہر باقی رہے گی  اسلئے تر نجاست کو رگڑنے سے چمڑا پاک نہیں ہو گا ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter