بالارض فان الارض لھما طھور ٤ و لان الجلد لصلابتہ لا یتداخلہ اجزاء النجاسة الا قلیل ثم یجتذبہ الجرم اذا جف فاذا زال زال ما قام بہ (١٦٣) و فی الرطب لا یجوز حتی یغسلہ) ١ لان المسح بالارض یکثرہ و لا یطھرہ
تشریح : یہ جملہ دو حدیثوں کا مجموعہ ہے ، وہ دونوں ابو داود شریف اور مسند احمد کی حدیث اوپر گزر گئی پھر بھی حدیث یہ ہے ۔ مسند احمد اور ابو داود میں لمبی حدیث کے آخیر میں یہ جملہ ہے۔عن ابی سعید الخدری ....فاذا جاء أحدکم الی المسجد فلینظر فی نعلیہ ، فان رأی فیھما قذراً او قال اذی فلیمسحھما (مسند احمد ، مسند ابی سعید الخدری، ج ثالث ، ص ٥١٩، نمبر ١١٤٦٧ ابو داود شریف ،باب الصلوة فی النعل، ص ١٠٢،نمبر ٦٥٠) اور دوسری حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا وطی احدکم بنعلہ الاذی فان التراب لہ طھور ۔ (ابو داؤد شریف، باب فی الاذی یصیب النعل ص ٦١ نمبر ٣٨٥)ھدایہ کا جملہ ان دو حدیثوں کا مجموعہ ہے ۔
ترجمہ: ٤ اور اسلئے کہ چمڑا سخت ہونے کی وجہ سے نجاست کے اجزا اسکے اندر داخل نہیں ہو نگے مگر بہت تھوڑے پھرنجاست کا جرم اسکو جذب کر لے گا جب خشک ہو گی ، پس جب جرم زائل ہو گا تو وہ نجاست بھی زائل ہو جائے گی جو جرم کے ساتھ لگی تھی ۔
تشریح: یہ دلیل عقلی ہے ،اور امام محمد کو جواب ہے ۔ کہ چمڑا کافی سخت اور ٹھوس ہو تا ہے اسلئے نجاست کے اجزا ء اندر بہت کم داخل ہونگے پھر موزے کے اوپر نجاست کا جرم جب سوکھے گا تو چمڑے کے اندرگھسی ہوئی نجاست جو تر پانی کی شکل میں ہے اسکو وہ جذب کرے گا ، اور چمڑے کے اندر کی نجاست اوپر کے جرم کے ساتھ چپک جائے گی اور جب یہ جرم گرے گا تو اسکے ساتھ یہ نجاست بھی گر جائے گی اور زائل ہو جائے گی اور چمڑے کے اندر کا حصہ بھی پاک ہو جائے گا اور جرم گرنے سے اوپر کا حصہ بھی پاک ہو جائے گا ۔ اور پہلے قاعدہ گزر چکا ہے کہ نجاست کے زائل ہو نے سے چیز پاک ہو جاتی ہے ۔ اصل تو اوپر کی حدیث ہے ۔
لغت: جرم : جسم دار، روث : گوبر ۔ العذرة : پاخانہ جفت : خشک ہو گیا، دلک : رگڑا ۔متداخل : دخل سے مشتق ہے ، جو اندر گھس جائے ،اذی : گندگی ، نجاست ۔صلابت : سخت ہو نا ، ٹھوس ہو نا ۔یجتذب : جذب سے مشتق ہے ، جذب کر نا ،چوسنا ۔
ترجمہ: (١٦٣) تر نجاست میں نہیں جائز ہے مگر یہ کہ اسکو دھوئے۔
ترجمہ ١ اسلئے کہ زمین کے ساتھ رگڑنے سے نجاست کو پھیلاے گا ، اسکو پاک نہیں کر گا۔
تشریح : نجاست خشک ہو تب تورگڑنے سے پاک ہو جاء گا ، لیکن اگر تر ہو تو پانی سے چمڑے کو دھوئے گا تب پاک ہو گا ، اسکی وجہ یہ ہے کہ نجاست زائل ہو نے سے چمڑا پاک ہو تا ہے ، اور تر نجاست کو زمین کے ساتھ رگڑیں تو نجاست مکمل زائل نہیں ہو گی بلکہ اور پھیل جائے گی اور بہت کچھ نجاست چمڑے کے اندر اور کچھ باہر باقی رہے گی اسلئے تر نجاست کو رگڑنے سے چمڑا پاک نہیں ہو گا ۔