Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

290 - 627
٢   و عن ابی یوسف انہ اذا مسحہ بالارض حتی لم یبق اثرالنجاسة یطھر لعموم البلوی،  و اطلاق ما یروی،  و علیہ مشائخنا (١٦٤)فان اصابہ بول فیبس لم یجز حتی یغسلہ)   ١    وکذا کل ما لاجرم لہ 

ترجمہ:  ٢    امام ابو یوسف  سے روایت ہے کہ اگر تر نجاست کو زمین سے اتنا رگڑ ے کہ نجاست کا اثر باقی نہ رہے تو چمڑا پاک ہو جائے گا ، عموم بلوی کی وجہ سے ۔اور اس حدیث کے مطلق ہو نے کی وجہ سے جسکو میں نے روایت کی ۔ اوراسی پر ہمارے مشائخ کا فتوی ہے ۔   
 تشریح :   امام ابو یوسف  کی روایت ہے کہ چمڑے پر تر نجاست ہو لیکن اسکوزمین سے اتنا رگڑے کے نجاست کا اثر باقی نہ رہے تو چمڑا پاک ہو جائے گا ، اسکی تین وجہ ہے (١) ایک تو یہ ہے کہ نجاست بہت کم باقی رہے گی جو معفو عنہ ہے ، (٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ عموم بلوی ہے ، یعنی لوگ عام طور سے اس میں مبتلاء ہیں اگر رگڑنے سے پاک قرار نہ دیں  تو لوگ حرج عظیم میں پڑ جائیں گے اسلئے رگڑنے سے پاک قرار دیا جائے ۔ (٣) تیسری وجہ یہ ہے کہ حدیث میں ہے کہ رگڑنے سے پاک ہو جائے گا اس میں یہ نہیں ہے کہ خشک نجاست پاک ہو گی اور تر نجاست پاک نہیں ہو گی چونکہ حدیث میں عام ہے کہ پاک ہو جاے گی اسلئے ترنجاست بھی رگڑنے سے پاک ہو جائے گی ۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابی سعیدن الخدری ....فاذا جاء أحدکم الی المسجد فلینظر فی نعلیہ ، فان رأی فیھما قذراً او قال اذی فلیمسحھما (مسند احمد ، مسند ابی سعید الخدری،  ج ثالث ، ص ٥١٩، نمبر ١١٤٦٧  ابو داود شریف ،باب الصلوة فی النعل،  ص ١٠٢،نمبر ٦٥٠) اور دوسری حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا وطی احدکم بنعلہ الاذی فان التراب لہ طھور ۔ (ابو داؤد شریف، باب فی الاذی یصیب النعل ص ٦١ نمبر ٣٨٥) اس حدیث میں قذرا عام ہے تر ہو یا خشک ہو دونوںپاک ہو جائیں گے ۔(٤) اس اثر میں تر نجاست کی صراحت ہے  عن معمر قال :  سألت عن رجل وطی روثا رطبا ً فقال : ان شاء مسح رجلیہ بالارض ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب أبوال الدواب و روثھا ، ج اول ، ص ٣٧٧ ، نمبر ١٤٧٦ )  اس اثر میں ہے تر نجاست کو بھی رگڑنے سے پاک ہو گا ۔
ترجمہ:  (١٦٤)  پس اگر چمڑے کو پیشاب لگ گیا اور وہ خشک ہو گیا تو جائز نہیں ہو گا یہاں تک کہ اسکو دھو دے ۔
ترجمہ:   ١   ایسے ہی ہر اس نجاست کا حکم ہے جسکا جرم نہیں ہے جیسے شراب ۔ اسلئے کہ اجزا اس میں پی لئے جاتے ہیں ، اور کوئی جذب کر نے والی چیز نہیں ہے جو اسکو جذب کر کے نکال لے ۔ 
تشریح :   چمڑے پر ایسی نجاست لگی جسکو جرم اور جسم نہیں ہے ، جیسے پیشاب ، شراب وغیرہ تو اسکو دھونے سے ہی پاک ہو گا، رگڑنا کافی نہیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پیشاب یا شراب چمڑے کے اندر کافی گھس گیا ہے ، اور اسکا کوئی جرم اور جسم نہیں ہے کہ اسکو جذب کر کے نکالے اسلئے سوکھنے کے بعد پیشاب چمڑے کے اندر ہی رہ جائے گا ،نجاست کا زیلان نہیں پایا گیا ، اسلئے پانی سے ہی دھونا ہو گا ۔  

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter