٢ و عن ابی یوسف انہ اذا مسحہ بالارض حتی لم یبق اثرالنجاسة یطھر لعموم البلوی، و اطلاق ما یروی، و علیہ مشائخنا (١٦٤)فان اصابہ بول فیبس لم یجز حتی یغسلہ) ١ وکذا کل ما لاجرم لہ
ترجمہ: ٢ امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ اگر تر نجاست کو زمین سے اتنا رگڑ ے کہ نجاست کا اثر باقی نہ رہے تو چمڑا پاک ہو جائے گا ، عموم بلوی کی وجہ سے ۔اور اس حدیث کے مطلق ہو نے کی وجہ سے جسکو میں نے روایت کی ۔ اوراسی پر ہمارے مشائخ کا فتوی ہے ۔
تشریح : امام ابو یوسف کی روایت ہے کہ چمڑے پر تر نجاست ہو لیکن اسکوزمین سے اتنا رگڑے کے نجاست کا اثر باقی نہ رہے تو چمڑا پاک ہو جائے گا ، اسکی تین وجہ ہے (١) ایک تو یہ ہے کہ نجاست بہت کم باقی رہے گی جو معفو عنہ ہے ، (٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ عموم بلوی ہے ، یعنی لوگ عام طور سے اس میں مبتلاء ہیں اگر رگڑنے سے پاک قرار نہ دیں تو لوگ حرج عظیم میں پڑ جائیں گے اسلئے رگڑنے سے پاک قرار دیا جائے ۔ (٣) تیسری وجہ یہ ہے کہ حدیث میں ہے کہ رگڑنے سے پاک ہو جائے گا اس میں یہ نہیں ہے کہ خشک نجاست پاک ہو گی اور تر نجاست پاک نہیں ہو گی چونکہ حدیث میں عام ہے کہ پاک ہو جاے گی اسلئے ترنجاست بھی رگڑنے سے پاک ہو جائے گی ۔ حدیث یہ ہے ۔عن ابی سعیدن الخدری ....فاذا جاء أحدکم الی المسجد فلینظر فی نعلیہ ، فان رأی فیھما قذراً او قال اذی فلیمسحھما (مسند احمد ، مسند ابی سعید الخدری، ج ثالث ، ص ٥١٩، نمبر ١١٤٦٧ ابو داود شریف ،باب الصلوة فی النعل، ص ١٠٢،نمبر ٦٥٠) اور دوسری حدیث یہ ہے ۔عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا وطی احدکم بنعلہ الاذی فان التراب لہ طھور ۔ (ابو داؤد شریف، باب فی الاذی یصیب النعل ص ٦١ نمبر ٣٨٥) اس حدیث میں قذرا عام ہے تر ہو یا خشک ہو دونوںپاک ہو جائیں گے ۔(٤) اس اثر میں تر نجاست کی صراحت ہے عن معمر قال : سألت عن رجل وطی روثا رطبا ً فقال : ان شاء مسح رجلیہ بالارض ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب أبوال الدواب و روثھا ، ج اول ، ص ٣٧٧ ، نمبر ١٤٧٦ ) اس اثر میں ہے تر نجاست کو بھی رگڑنے سے پاک ہو گا ۔
ترجمہ: (١٦٤) پس اگر چمڑے کو پیشاب لگ گیا اور وہ خشک ہو گیا تو جائز نہیں ہو گا یہاں تک کہ اسکو دھو دے ۔
ترجمہ: ١ ایسے ہی ہر اس نجاست کا حکم ہے جسکا جرم نہیں ہے جیسے شراب ۔ اسلئے کہ اجزا اس میں پی لئے جاتے ہیں ، اور کوئی جذب کر نے والی چیز نہیں ہے جو اسکو جذب کر کے نکال لے ۔
تشریح : چمڑے پر ایسی نجاست لگی جسکو جرم اور جسم نہیں ہے ، جیسے پیشاب ، شراب وغیرہ تو اسکو دھونے سے ہی پاک ہو گا، رگڑنا کافی نہیں ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ پیشاب یا شراب چمڑے کے اندر کافی گھس گیا ہے ، اور اسکا کوئی جرم اور جسم نہیں ہے کہ اسکو جذب کر کے نکالے اسلئے سوکھنے کے بعد پیشاب چمڑے کے اندر ہی رہ جائے گا ،نجاست کا زیلان نہیں پایا گیا ، اسلئے پانی سے ہی دھونا ہو گا ۔