Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

288 - 627
٢ وقال محمد:لا یجوز،وھوالقیاس الافی المنی خاصة لان المتداخل فی الخف لایزیلہ الجفاف والدلک،بخلاف المنی علی ما نذکرہ ٣ ولھما قولہ علیہ السلام فان کان بھما اذی فلیمسحھما 

موزہ پاک نہ ہو کیونکہ چمڑے کے اندر ابھی بھی نجاست موجود ہے ، لیکن آگے والی حدیث کی وجہ سے استحسانا موزے کو پاک قرار دیا ہے ۔
وجہ:   (١) چمڑے میں جو ناپاکی سرایت کی ہوگی وہ کم ہے اور سوکھنے کی وجہ سے ناپاکی کے جسم نے واپس چوس لیا اور چمڑے کے اندر بہت کم ناپاکی رہ گئی اور اوپر کے حصے کو زمین سے رگڑ دیا تو نجاست زائل ہو گئی اور پہلے بتایا گیا ہے کہ نجاست کے زائل ہونے سے کپڑا یا چمڑا پاک ہوجاتا ہے۔اس لئے یہ جوتے یا موزے پاک ہو جائیںگے(٢) حدیث میں ہے  عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا وطی احدکم بنعلہ الاذی فان التراب لہ طھور ۔ (ابو داؤد شریف، باب فی الاذی یصیب النعل ص ٦١ نمبر ٣٨٥) مسند احمد اور ابو داود میں لمبی حدیث کے آخیر میں یہ جملہ بھی ہے۔عن ابی سعیدن الخدری ....فاذا جاء أحدکم الی المسجد فلینظر فی نعلیہ ، فان رأی فیھما قذراً او قال اذی فلیمسحھما (مسند احمد ، مسند ابی سعید الخدری،  ج ثالث ، ص ٥١٩، نمبر ١١٤٦٧  ابو داود شریف ،باب الصلوة فی النعل،  ص ١٠٢،نمبر ٦٥٠) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی سے رگڑنے کے بعد جوتا یا موزہ پاک ہو جائے گا  
اصول:   نجاست حقیقیہ کے زائل ہونے سے چیز پاک ہو جائیگی۔  
ترجمہ:  ٢   اور امام محمد  نے فرمایا کہ رگڑنے سے جائز نہیں ہے اور یہی قیاس کا تقاضا ہے ، مگر خاص طور پر منی کے بارے میں ،اسکی وجہ یہ ہے کہ موزے  کے اندر جو نجاست داخل ہو گئی خشک ہو نا اور رگڑنا اسکو زائل نہیںکرے گی ، بخلاف منی کے جیسا کہ ہم اسکوذکر کریں گے ۔ 
تشریح :  امام محمد  فرماتے ہیں کہ موزے یا چمڑے کی چیز میں جرم والی نجاست لگ جائے اور خشک ہو جائے تو رگڑنے سے پاک نہیں ہو گی اسکو دھونا ہی پڑے گا ، اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے ، اسلئے کہ موزے کے اندر جو نجاست گھس گئی ہے خشک ہونے اور اسکو رگڑنے سے کیسے نکلے گی!رگڑنے سے زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ اوپر کی نجاست جھڑ جائیگی لیکن اندر تو نجاست موجود ہے اسلئے چمڑا ناپاک رہے گا (٢)انکی دلیل وہ حدیث بھی ہے جس میں نجاست کو پانی سے دھونے کا تذکرہ ہے ۔البتہ منی کپڑے پر لگ جائے تو اسکو رگڑنے سے پاک ہو جائے گا ، کیونکہ حدیث میں ہے کہ رگڑنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا ۔یہ بحث آگے آرہی ہے ۔
ترجمہ:  ٣   امام ابو حنیفة اور امام ابو یوسف  کی دلیل حضور ۖ کا قول ہے ، کہ ان دونوں موزوں میں کوئی گندگی ہوتو ان دونوں کو زمین سے رگڑ دو اسلئے کہ زمین دونوں کو پاک کرنے والی چیز ہے ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter