٢ وقال محمد:لا یجوز،وھوالقیاس الافی المنی خاصة لان المتداخل فی الخف لایزیلہ الجفاف والدلک،بخلاف المنی علی ما نذکرہ ٣ ولھما قولہ علیہ السلام فان کان بھما اذی فلیمسحھما
موزہ پاک نہ ہو کیونکہ چمڑے کے اندر ابھی بھی نجاست موجود ہے ، لیکن آگے والی حدیث کی وجہ سے استحسانا موزے کو پاک قرار دیا ہے ۔
وجہ: (١) چمڑے میں جو ناپاکی سرایت کی ہوگی وہ کم ہے اور سوکھنے کی وجہ سے ناپاکی کے جسم نے واپس چوس لیا اور چمڑے کے اندر بہت کم ناپاکی رہ گئی اور اوپر کے حصے کو زمین سے رگڑ دیا تو نجاست زائل ہو گئی اور پہلے بتایا گیا ہے کہ نجاست کے زائل ہونے سے کپڑا یا چمڑا پاک ہوجاتا ہے۔اس لئے یہ جوتے یا موزے پاک ہو جائیںگے(٢) حدیث میں ہے عن ابی ھریرة ان رسول اللہ ۖ قال اذا وطی احدکم بنعلہ الاذی فان التراب لہ طھور ۔ (ابو داؤد شریف، باب فی الاذی یصیب النعل ص ٦١ نمبر ٣٨٥) مسند احمد اور ابو داود میں لمبی حدیث کے آخیر میں یہ جملہ بھی ہے۔عن ابی سعیدن الخدری ....فاذا جاء أحدکم الی المسجد فلینظر فی نعلیہ ، فان رأی فیھما قذراً او قال اذی فلیمسحھما (مسند احمد ، مسند ابی سعید الخدری، ج ثالث ، ص ٥١٩، نمبر ١١٤٦٧ ابو داود شریف ،باب الصلوة فی النعل، ص ١٠٢،نمبر ٦٥٠) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مٹی سے رگڑنے کے بعد جوتا یا موزہ پاک ہو جائے گا
اصول: نجاست حقیقیہ کے زائل ہونے سے چیز پاک ہو جائیگی۔
ترجمہ: ٢ اور امام محمد نے فرمایا کہ رگڑنے سے جائز نہیں ہے اور یہی قیاس کا تقاضا ہے ، مگر خاص طور پر منی کے بارے میں ،اسکی وجہ یہ ہے کہ موزے کے اندر جو نجاست داخل ہو گئی خشک ہو نا اور رگڑنا اسکو زائل نہیںکرے گی ، بخلاف منی کے جیسا کہ ہم اسکوذکر کریں گے ۔
تشریح : امام محمد فرماتے ہیں کہ موزے یا چمڑے کی چیز میں جرم والی نجاست لگ جائے اور خشک ہو جائے تو رگڑنے سے پاک نہیں ہو گی اسکو دھونا ہی پڑے گا ، اور قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے ، اسلئے کہ موزے کے اندر جو نجاست گھس گئی ہے خشک ہونے اور اسکو رگڑنے سے کیسے نکلے گی!رگڑنے سے زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ اوپر کی نجاست جھڑ جائیگی لیکن اندر تو نجاست موجود ہے اسلئے چمڑا ناپاک رہے گا (٢)انکی دلیل وہ حدیث بھی ہے جس میں نجاست کو پانی سے دھونے کا تذکرہ ہے ۔البتہ منی کپڑے پر لگ جائے تو اسکو رگڑنے سے پاک ہو جائے گا ، کیونکہ حدیث میں ہے کہ رگڑنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا ۔یہ بحث آگے آرہی ہے ۔
ترجمہ: ٣ امام ابو حنیفة اور امام ابو یوسف کی دلیل حضور ۖ کا قول ہے ، کہ ان دونوں موزوں میں کوئی گندگی ہوتو ان دونوں کو زمین سے رگڑ دو اسلئے کہ زمین دونوں کو پاک کرنے والی چیز ہے ۔