للمجاورة، فاذا انتھت اجزاء النجس یبقی طاھراً٥ وجواب الکتاب لایفرق بین الثوب والبدن،وھذا قول ابی حنیفة واحدی الروایتین عن ابی یوسف، و عنہ انہ فرق بینھما فلم یجز فی البدن بغیر الماء (١٦٢) و اذا اصاب الخف نجاسة لھاجرم کالروث،والعذرة، والمنی فجفت فدلکہ بالارض جاز ) ١ وھذا استحسان
تشریح : یہ امام محمد وغیرہ کو جواب ہے ،انہوں نے فر مایا تھا کہ نجاست پانی کے ساتھ ملنے کی وجہ سے اسکو بھی ناپاک کرتی رہے گی اور کسی چیز کو کبھی پاک نہیں ہو نے دیگی ۔ اسکا جواب یہ ہے کہ پانی یا بہنے والی چیز اس وقت تک ناپاک رہتی ہے جب تک اسکے ساتھ نجاست ملی ہوئی اور مجاور رہتی ہے ، لیکن بار بار پانی ڈالنے کی وجہ سے جب ناپاکی وہاں سے بالکل نکل گئی اور اسکا ایک جز بھی وہاں نہیں رہا اب جو پانی وہاں ڈالیں گے اس میں نہ ناپاکی آئی اور نہ وہ پانی ناپاک ہوا اسلئے اب وہ ناپاک چیز بھی پاک ہو گئی ۔
ترجمہ: ٥ اور قدوری کتاب میں جو حکم مذکور ہے وہ کپڑے اور بدن میں کوئی فرق نہیں کرتا یہی قول امام ابو حنیفة کا ہے اور امام ابو یوسف سے بھی یہی ایک روایت ہے ، اور امام ابو یوسف سے دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے دونوں میں فرق کیا ہے اسلئے بدن پاک کر نے میں پانی کے علاوہ جائز نہیں ۔
تشریح : قدوری کا جو متن ہے اس سے تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ بدن اور کپڑے پاک کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں کو کسی بہنے والی چیز سے پاک کر سکتے ہیں ، امام ابو حنیفة کی ایک روایت یہی ہے ، لیکن امام ابو یوسف کی ایک دوسری روایت بھی ہے کہ بدن اور کپڑا میں فرق ہے ۔ کپڑے کو کسی بہنے والی چیز سے پاک کر سکتے ہیں لیکن بدن کی نجاست کو صرف پانی سے پاک کر سکتے ہیں کسی اور چیز سے نہیں ۔
لغت: مائع : ہربہنے والی چیز، الخل : سرکا، ماء الورد : گلاب کا پانی۔ اعصر : نچوڑے اور اسی سے ہے انعصر : خود نچڑ جائے ۔قالع : اکھیڑنے والی چیز ۔مجاورة ؛ ملا ہوا ہو ، ساتھ ہو ۔
نوٹ: جس بہنے والی چیز میں نجاست زائل کرنے کی صلاحیت نہ ہو اس سے کپڑا پاک نہیں ہوگا۔
ترجمہ: (١٦٢) اگر موزے کو ایسی نجاست لگ جائے جس کو جسم ہے ، جیسے لید اور پاخانہ اور مٹی پھر وہ خشک ہو جائے پس اس کو رگڑ دے زمین سے تو اس موزے میں نماز جائز ہے۔
ترجمہ: ١ یہ مسئلہ استحسان پر ہے ۔
تشریح: جس نجاست کو جسم ہے جیسے پاخانہ ، لید ، گوبر وغیرہ وہ چمڑے کے موزے یا جوتے پر لگ جائے پھر خشک ہو جائے پھر اس کو زمین سے اتنا رگڑ دے کہ پاخانہ لگا ہوا محسوس نہ ہو تو وہ جوتا یا موزہ پاک ہو جائے گا۔ قیاس کا تقاضا تو یہی ہے کہ رگڑنے سے