Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

287 - 627
للمجاورة، فاذا انتھت اجزاء النجس یبقی طاھراً٥ وجواب الکتاب لایفرق بین الثوب والبدن،وھذا قول ابی حنیفة واحدی الروایتین عن ابی یوسف، و عنہ انہ فرق بینھما فلم یجز فی البدن بغیر الماء (١٦٢) و اذا اصاب الخف نجاسة لھاجرم کالروث،والعذرة، والمنی فجفت فدلکہ بالارض جاز )             ١ وھذا استحسان

تشریح :    یہ امام محمد  وغیرہ کو جواب ہے ،انہوں نے فر مایا تھا کہ نجاست پانی کے ساتھ ملنے کی وجہ سے اسکو بھی ناپاک کرتی رہے گی اور کسی چیز کو کبھی پاک نہیں ہو نے دیگی ۔ اسکا جواب یہ ہے کہ پانی یا بہنے والی چیز اس وقت تک ناپاک رہتی ہے جب تک اسکے ساتھ نجاست ملی ہوئی اور مجاور رہتی ہے ، لیکن بار بار پانی ڈالنے کی وجہ سے جب ناپاکی وہاں سے بالکل نکل گئی اور اسکا ایک جز بھی وہاں نہیں رہا اب جو پانی وہاں ڈالیں گے اس میں نہ ناپاکی آئی اور نہ وہ پانی ناپاک ہوا اسلئے اب وہ ناپاک چیز بھی پاک ہو گئی  ۔
ترجمہ:  ٥   اور قدوری کتاب میں جو حکم مذکور ہے وہ کپڑے اور بدن میں کوئی فرق نہیں کرتا یہی قول امام ابو حنیفة  کا ہے اور امام ابو یوسف سے بھی یہی ایک روایت ہے ، اور امام ابو یوسف  سے دوسری روایت یہ ہے کہ انہوں نے دونوں میں فرق کیا ہے اسلئے بدن پاک کر نے میں پانی کے علاوہ جائز نہیں ۔ 
تشریح :   قدوری کا جو متن ہے اس سے تو یہ معلوم ہو تا ہے کہ بدن اور کپڑے پاک کرنے میں کوئی فرق نہیں ہے دونوں کو کسی بہنے والی چیز سے پاک کر سکتے ہیں ، امام ابو حنیفة  کی ایک روایت یہی ہے ، لیکن امام ابو یوسف  کی ایک دوسری روایت بھی ہے کہ بدن اور کپڑا میں فرق ہے ۔ کپڑے کو کسی بہنے والی چیز سے پاک کر سکتے ہیں لیکن بدن کی نجاست کو صرف پانی سے پاک کر سکتے ہیں کسی اور چیز سے نہیں ۔ 
 لغت:   مائع  :  ہربہنے والی چیز،  الخل  :  سرکا،  ماء الورد  :  گلاب کا پانی۔  اعصر : نچوڑے اور اسی سے ہے انعصر : خود نچڑ جائے ۔قالع : اکھیڑنے والی چیز  ۔مجاورة ؛  ملا ہوا ہو ، ساتھ ہو ۔
نوٹ:   جس بہنے والی چیز میں نجاست زائل کرنے کی صلاحیت نہ ہو اس سے کپڑا پاک نہیں ہوگا۔ 
ترجمہ: (١٦٢)  اگر موزے کو ایسی نجاست لگ جائے جس کو جسم ہے ، جیسے لید اور پاخانہ اور مٹی پھر وہ خشک ہو جائے پس اس کو رگڑ دے زمین سے تو اس موزے میں نماز جائز ہے۔
ترجمہ:   ١   یہ مسئلہ  استحسان پر ہے ۔
 تشریح:   جس نجاست کو جسم ہے جیسے پاخانہ ، لید ، گوبر وغیرہ وہ چمڑے کے موزے یا جوتے پر لگ جائے پھر خشک ہو جائے پھر اس کو زمین سے اتنا رگڑ دے کہ پاخانہ لگا ہوا محسوس نہ ہو تو وہ جوتا یا موزہ پاک ہو جائے گا۔  قیاس کا تقاضا تو یہی ہے کہ رگڑنے سے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter