١ و ھو قول زفر لانھا حامل بعد الوضع الاول فلا تصیر نفسائ، کما انھا لا تحیض، و لھذا تنقضی العدة بالاخیر بالاجماع ٢ و لھما ان الحامل انما لا تحیض لانسداد فم الرحم علی ما ذکر نا، و قد انفتح بخروج الاول و تنفس بالدم فکان نفاساً
لفظ نفاس مشتق ہے ۔ اس لئے پہلے بچے کے بعد جو خون نکلے گا وہ سب نفاس شمار کیا جائے گا۔اور امام محمد اور زفر فرماتے ہیں کہ ایک بچہ پیٹ میں موجود ہے اس لئے عورت ابھی حاملہ ہے اور حمل کی حالت میں جو خون آتا ہے وہ استحاضہ کا خون ہوتا ہے۔اس لئے پہلے بچے کے بعد جو خون ہے وہ استحاضہ کا خون ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ ابھی رحم کا منہ بھی پورا کھلا ہوا نہیں ہے جب تک کہ دوسرا بچہ پیدا ہو کر منہ پورا نہ کھل جائے نفاس کا خون کیسے شمار کیا جائے گا۔
حاصل: طرفین کی نظر بچہ پیدا ہونے کی طرف گئی اور امام محمد کی نظر اندر جو بچہ ابھی تک موجود ہے اس کی طرف گئی۔
ترجمہ: ١ یہی امام زفر کا قول ہے ، اسلئے کہ عورت پہلا بچہ دینے کے بعد ابھی بھی حاملہ ہے اسلئے وہ نفاس والی نہیں ہو گی جیسے کہ حیض والی نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ عدت بالاجماع آخیر سے پوری ہو تی ہے ۔
تشریح : پہلا بچہ دینے کے بعد ابھی بھی پیٹ میں بچہ موجود ہے اسلئے وہ ابھی بھی حاملہ ہے اسلئے وہ نفاس والی نہیں ہو سکتی ۔ اور چونکہ پیٹ میں حمل ہے اسلئے اس کے پیٹ سے حیض بھی نہیں نکل سکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ بالاتفاق یہ مسئلہ ہے کہ دوسرا بچہ پیدا ہو گا تب اسکی عدت پوری ہوگی ، پہلابچہ پیدا ہو نے کے بعد عدت پوری نہیں ہو گی ، جس سے معلوم ہوا کہ دوسرے بچے کے بعد نفاس ہوگا۔
ترجمہ: ٢ اور امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ رحم کا منہ بند ہو نے کی وجہ سے حیض نہیں آسکتا ، تاہم پہلا بچہ نکلنے کی وجہ سے کچھ منہ کھل چکا ہے اور خون باہر نکلا ہے اسلئے نفاس والی ہو گی ۔
تشریح : یہ امام محمد کو جواب ہے کہ حیض تو اس وقت آتاہے جب رحم کے اندر بچہ نہ ہو اور یہاں بچہ موجود ہے اسلئے حیض تو نہیں آسکتا ، البتہ ایک بچہ باہر نکلنے کی وجہ سے رحم کا منہ کچھ نہ کچھ کھل چکا ہے اور اسی وجہ سے خون بھی آرہا ہے اسلئے یہ خون نفاس کا ہی ہے (٢) ڈاکٹری اعتبار سے بھی یہ خون نفاس کا ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جب پہلا بچہ رحم سے باہر نکلا تو اس بچے کا آنول جو رحم کی جھلیوں کے ساتھ چپکا ہوا تھا وہ اکھڑ گیا ، اس اکھڑنے کی وجہ سے یہ خون آرہا ہے ، اور آنول اکھڑنے کے بعد جھلیوں سے جو خون آتا ہے اسی کو نفاس کا خون کہتے ہیں ، اور یہ وہی ہے ، اسلئے یہ نفاس کا خون ہے ۔اور جب رحم بچے سے خالی ہو تا ہے تو رحم کے چاروں طرف جھلیاں پیدا ہوتی ہیں پھر حیض کے موقع پر حیض کے خون کے ساتھ کٹ کٹ کر گرتی ہے اسی خون کا نام حیض ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ بچہ پیدا ہو نے کے بعد جھلیاں کٹ کر نہیں گرے گی اسلئے یہ خون حیض نہیں ہے ، نفاس ہی ہے۔ اور رحم میں کوئی زخم ہو اس سے خون آئے