٣ والعدة تعلقت بوضع حمل مضاف الیھا فیتناول الجمیع
تو اسکو استحاضہ کہتے ہیں ۔
ترجمہ: ٣ اور عدت تعلق رکھتی ہے وضع حمل کے ساتھ جو منسوب ہے عورت کی طرف تو تمام کو شامل ہو گا ۔
تشریح : یہ امام زفر کو جواب ہے ، انہوں نے استدلا ل فرمایا تھا کہ عدت دوسرے بچے کے نکلنے کے بعدپوری ہو تی ہے اسلئے نفاس بھی دوسرے بچے کے نکلنے کے بعد شروع ہو گی ، اسکا جواب یہ ہے کہ آیت ، و اولات الأحمال أجلھن أن یضعن حملھن ۔ (آیت ٤ سورة الطلاق ٦٥) میں یہ فرمایا کہ حمل والی عورت کی عدت حمل جننے سے پوری ہو گی ، اور حمل جننا اسی وقت ہو گا جب پورا حمل جن دے اور وہ کسی طرح بھی حاملہ نہ کہلائے ، ابھی ایک بچہ پیٹ میں ہے تو پورا حمل باہر نہیں نکلا اسلئے ابھی اسکی عدت پوری نہیں ہو گی جب تک دونوں بچے باہر نہ نکل جائے
لغت: عقیب : بعد میں۔ انقضی : پوری ہوئی ۔ انسد : سد سے مشتق ہے ، منہ کا بند ہو نا ۔تنفس : خون کا باہر نکلنا ۔