Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

280 - 627
(١٥٨) و ان لم تکن لھا عادة فابتداء نفاسھا اربعون یوماً ) ١  لانہ امکن جعلہ نفاساً (١٥٩)  فان ولدت ولدین فی بطن واحد فنفاسھا  من الولد الاول عند ابی حنیفة ،  وابی یوسف  و ان کان بین الولدین اربعون  یوماً،  و قال محمد من الولد الآخر)    

غسلھا وصلواتھا ص ١٥١ نمبر ٣٣٤)اس حدیث میں ہے کہ عادت کے بعد سب استحاضہ ہو گا (٢) عن النبی ۖ قال فی المستحاضة یدع الصلوة ایام اقرائھا التی کانت تحیض فیھا ثم تغتسل وتتوضأ عند کل صلوة وتصوم وتصلی۔ (ترمذی شریف، باب ماجاء ان المستحاضة تتوضأ لکل صلوة ص ٣٣ نمبر ١٢٦ابوداود شریف ، باب اذا اقبلت الحیضة تدع الصلاة ، ص ٤٣ ، نمبر ٢٨٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے حیض کے لئے عادت معروفہ ہو اور دس دن سے زیادہ خون آگیا تو عادت سے زیادہ جتنا زیادہ ہو گا سب استحاضہ ہو گا اور اسی پر قیاس کر کے نفاس میں بھی عادت سے جتنا زیادہ ہو گا وہ سب استحاضہ ہوگا 
ترجمہ:   (١٥٨)  اور اگر اس کی عادت نہ ہو تو اس کے نفاس کی مدت چالیس دن ہے۔  
ترجمہ:   ١   اسلئے کہ اسکو نفاس قرار دینا ممکن ہے ۔
تشریح :    اور جسکی عادت نہیں ہے اور اسکو مثلا پچاس دن خون آگیا تو اسکے لئے چالیس دن نفاس ہو گا اور باقی دن استتحاضہ ہو گا ۔ اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن عبد اللہ بن عمرو قال :قال رسول اللہ  ۖ : تنتظر النفساء أربعین لیلة ، فان رأت الطھر قبل ذالک فھی طاھر ، و ان جاوزت الاربعین فھی بمنزلة المستحاضة ، تغتسل و تصلی ، فان غلبھا الدم توضأت لکل صلوة ۔ ( دار قطنی ، باب الحیض ، ج اول ، ص ٢٢٨ ، نمبر ٨٤٧ ) اس حدیث میں ہے کہ چالیس دن سے جو زیادہ ہو وہ استحاضہ ہے ۔
ترجمہ:  (١٥٩)  کسی عورت نے ایک ہی حمل سے دو بچے دیئے تو اس کا نفاس وہ خون ہے جو پہلے بچے کے بعد نکلے امام ابو حنیفہ کے نزدیک۔اگر چہ دونوں بچوں کے درمیان چالیس دن ہی کیوں نہ ہوں ،اور امام محمد اور امام زفر نے فرمایا کہ دوسرے بچے کے بعد۔
تشریح :    عورت نے ایک ہی حمل سے دو بچے دئے تو پہلے بچے کے بعد جو خون آئے گا وہیں سے نفاس شروع ہو جائے گا ، چاہے دونوں بچے کے پیدا ہو نے کے درمیان چالیس دن کا وقفہ ہو ۔ کیونکہ چھ مہینے سے پہلے جو بچہ پیدا ہو گا وہ ایک ہی حمل سے شمار کیا جائے گا ۔ اور امام محمد  فرماتے ہیں کہ پہلے بچے کے بعد جو خون آئے گاوہ استحاضہ ہے ، اور دوسرے بچے کے بعد جو خون آئے گا وہ نفاس کا خون ہو گا ۔
وجہ:  امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد رحم کا منہ کھل گیا اور انسان بھی پیدا ہو گیا جس سے 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter