(١٥٨) و ان لم تکن لھا عادة فابتداء نفاسھا اربعون یوماً ) ١ لانہ امکن جعلہ نفاساً (١٥٩) فان ولدت ولدین فی بطن واحد فنفاسھا من الولد الاول عند ابی حنیفة ، وابی یوسف و ان کان بین الولدین اربعون یوماً، و قال محمد من الولد الآخر)
غسلھا وصلواتھا ص ١٥١ نمبر ٣٣٤)اس حدیث میں ہے کہ عادت کے بعد سب استحاضہ ہو گا (٢) عن النبی ۖ قال فی المستحاضة یدع الصلوة ایام اقرائھا التی کانت تحیض فیھا ثم تغتسل وتتوضأ عند کل صلوة وتصوم وتصلی۔ (ترمذی شریف، باب ماجاء ان المستحاضة تتوضأ لکل صلوة ص ٣٣ نمبر ١٢٦ابوداود شریف ، باب اذا اقبلت الحیضة تدع الصلاة ، ص ٤٣ ، نمبر ٢٨٤) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کے حیض کے لئے عادت معروفہ ہو اور دس دن سے زیادہ خون آگیا تو عادت سے زیادہ جتنا زیادہ ہو گا سب استحاضہ ہو گا اور اسی پر قیاس کر کے نفاس میں بھی عادت سے جتنا زیادہ ہو گا وہ سب استحاضہ ہوگا
ترجمہ: (١٥٨) اور اگر اس کی عادت نہ ہو تو اس کے نفاس کی مدت چالیس دن ہے۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ اسکو نفاس قرار دینا ممکن ہے ۔
تشریح : اور جسکی عادت نہیں ہے اور اسکو مثلا پچاس دن خون آگیا تو اسکے لئے چالیس دن نفاس ہو گا اور باقی دن استتحاضہ ہو گا ۔ اسکی دلیل یہ حدیث ہے ۔ عن عبد اللہ بن عمرو قال :قال رسول اللہ ۖ : تنتظر النفساء أربعین لیلة ، فان رأت الطھر قبل ذالک فھی طاھر ، و ان جاوزت الاربعین فھی بمنزلة المستحاضة ، تغتسل و تصلی ، فان غلبھا الدم توضأت لکل صلوة ۔ ( دار قطنی ، باب الحیض ، ج اول ، ص ٢٢٨ ، نمبر ٨٤٧ ) اس حدیث میں ہے کہ چالیس دن سے جو زیادہ ہو وہ استحاضہ ہے ۔
ترجمہ: (١٥٩) کسی عورت نے ایک ہی حمل سے دو بچے دیئے تو اس کا نفاس وہ خون ہے جو پہلے بچے کے بعد نکلے امام ابو حنیفہ کے نزدیک۔اگر چہ دونوں بچوں کے درمیان چالیس دن ہی کیوں نہ ہوں ،اور امام محمد اور امام زفر نے فرمایا کہ دوسرے بچے کے بعد۔
تشریح : عورت نے ایک ہی حمل سے دو بچے دئے تو پہلے بچے کے بعد جو خون آئے گا وہیں سے نفاس شروع ہو جائے گا ، چاہے دونوں بچے کے پیدا ہو نے کے درمیان چالیس دن کا وقفہ ہو ۔ کیونکہ چھ مہینے سے پہلے جو بچہ پیدا ہو گا وہ ایک ہی حمل سے شمار کیا جائے گا ۔ اور امام محمد فرماتے ہیں کہ پہلے بچے کے بعد جو خون آئے گاوہ استحاضہ ہے ، اور دوسرے بچے کے بعد جو خون آئے گا وہ نفاس کا خون ہو گا ۔
وجہ: امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ ایک بچہ پیدا ہونے کے بعد رحم کا منہ کھل گیا اور انسان بھی پیدا ہو گیا جس سے