Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

279 - 627
(١٥٦) و اکثرہ اربعون یوماً،  و الزائد علیہ استحاضة ) ١ لحدیث ام سلمة  ان النبی علیہ السلام وقت للنفساء اربعین یوماً ٢ وھوحجة علی الشافعی فی اعتبارالستین (١٥٧)ولوجاوزالدم الاربعین وکانت ولدت قبل ذالک ولھا عادة فی النفاس ردت الی ایام عادتھا  لما بینا فی الحیض  )

ترجمہ:   (١٥٦)  اور اس کی زیادہ مدت چالیس دن ہیں اور جو اس سے زیادہ ہو وہ استحاضہ ہے۔ 
ترجمہ:   ١   حضرت ام سلمہ  کی حدیث کی وجہ سے کہ حضور ۖ نے نفساء کے لئے چالیس دن مقرر فرمایا ۔ 
وجہ:  حدیث میں ہے  عن ام سلمة قالت کانت النفساء تجلس علی عھد رسول اللہ ۖ اربعین یوما  ۔ ( ترمذی شریف، باب ماجاء فی کم تمکث النفساء ص ٣٥ نمبر ١٣٩)اور ابو داؤد شریف کی روایت میں یہ جملہ زیادہ ہے۔  لا یأمر ھا النبی ۖ بقضاء صلواة النفاس۔ (ابوداؤد شریف، باب ماجاء فی وقت النفساء ص٤٩ نمبر ٣١٢) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے ۔اس کے بعد جو خون آئے گا وہ استحاضہ ہوگا۔اور کم کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے ۔
ترجمہ:  ٢   یہ حدیث امام شافعی  پر حجت ہے ساٹھ دن کے اعتبار کر نے میں ۔
امام شافعی کا کوئی ضعیف قول ہے کہ ساٹھ دن تک بھی خون آئے تو وہ نفاس کا ہو گا اس پر یہ حدیث حجت ہو گی ، انکی دلیل یہ اثر ہو سکتا ہے ۔ قال الشعبی  : تنتظر کأ قصی ما ینتظر ، قال حسبتہ قال : شھرین ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب البکر و النفساء ، ج اول ، ص ٣١٣ ، نمبر ١١٩٩سنن للبیھقی ، باب النفاس ، ج اول ، ص ٥٠٥، نمبر ١٦١٤)  اس اثر میں ہے کہ ساٹھ دن بھی عورت نفاس والی رہ سکتی ہے ۔
ترجمہ: (١٥٧)  نفاس کا خون چالیس دن سے تجاوز کر جائے حالانکہ یہ عورت اس سے پہلے بچہ جن چکی تھی اور اس کے لئے نفاس میں عادت تھی تو نفاس کا خون لوٹایا جائے گا اس کی عادت کی طرف( جیسے کہ کتاب الحیض میں بیان کیا )۔
تشریح:   جس عورت کو پہلے بچہ پیدا ہو چکا ہو اور نفاس کے لئے اس کی ایک عادت ہو مثلا پچیس روز نفاس آتا ہو اب اس کو پچاس روز تک خون آ گیا تو دس روز تو یقینا استحاضہ ہے اس لئے اس دس روز کے ساتھ باقی پندرہ دن بھی استحاضہ شمار کیا جائے گا۔ اور اس کی پہلی عادت کے مطابق پچیس روز ہی نفاس ہوگا۔ کیونکہ چالیس دن کے بعد والے دس دن استحاضہ ہے تو معلوم ہوا کہ پچیس دن کے بعد بھی استحاضہ ہی آیا ہے۔ اور اگر اس عورت کی کوئی عادت نہیں ہے تو حدیث کے مطابق چالیس روز نفاس ہوگا اور باقی دن استحاضہ ہوگا۔عادت کی طرف پھیرنے کی دلیل یہ  حیض والی حدیث ہے ۔ قالت عائشہ رأیت مرکنھا ملآن دما فقال لھا رسول اللہ ۖ امکثی قدر ما کانت تحبسک حیضتک ثم اغتسلی و صلی(مسلم شریف، باب المستحاضة و 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter