(١٥٦) و اکثرہ اربعون یوماً، و الزائد علیہ استحاضة ) ١ لحدیث ام سلمة ان النبی علیہ السلام وقت للنفساء اربعین یوماً ٢ وھوحجة علی الشافعی فی اعتبارالستین (١٥٧)ولوجاوزالدم الاربعین وکانت ولدت قبل ذالک ولھا عادة فی النفاس ردت الی ایام عادتھا لما بینا فی الحیض )
ترجمہ: (١٥٦) اور اس کی زیادہ مدت چالیس دن ہیں اور جو اس سے زیادہ ہو وہ استحاضہ ہے۔
ترجمہ: ١ حضرت ام سلمہ کی حدیث کی وجہ سے کہ حضور ۖ نے نفساء کے لئے چالیس دن مقرر فرمایا ۔
وجہ: حدیث میں ہے عن ام سلمة قالت کانت النفساء تجلس علی عھد رسول اللہ ۖ اربعین یوما ۔ ( ترمذی شریف، باب ماجاء فی کم تمکث النفساء ص ٣٥ نمبر ١٣٩)اور ابو داؤد شریف کی روایت میں یہ جملہ زیادہ ہے۔ لا یأمر ھا النبی ۖ بقضاء صلواة النفاس۔ (ابوداؤد شریف، باب ماجاء فی وقت النفساء ص٤٩ نمبر ٣١٢) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے ۔اس کے بعد جو خون آئے گا وہ استحاضہ ہوگا۔اور کم کی کوئی حد نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ حدیث ہے ۔
ترجمہ: ٢ یہ حدیث امام شافعی پر حجت ہے ساٹھ دن کے اعتبار کر نے میں ۔
امام شافعی کا کوئی ضعیف قول ہے کہ ساٹھ دن تک بھی خون آئے تو وہ نفاس کا ہو گا اس پر یہ حدیث حجت ہو گی ، انکی دلیل یہ اثر ہو سکتا ہے ۔ قال الشعبی : تنتظر کأ قصی ما ینتظر ، قال حسبتہ قال : شھرین ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب البکر و النفساء ، ج اول ، ص ٣١٣ ، نمبر ١١٩٩سنن للبیھقی ، باب النفاس ، ج اول ، ص ٥٠٥، نمبر ١٦١٤) اس اثر میں ہے کہ ساٹھ دن بھی عورت نفاس والی رہ سکتی ہے ۔
ترجمہ: (١٥٧) نفاس کا خون چالیس دن سے تجاوز کر جائے حالانکہ یہ عورت اس سے پہلے بچہ جن چکی تھی اور اس کے لئے نفاس میں عادت تھی تو نفاس کا خون لوٹایا جائے گا اس کی عادت کی طرف( جیسے کہ کتاب الحیض میں بیان کیا )۔
تشریح: جس عورت کو پہلے بچہ پیدا ہو چکا ہو اور نفاس کے لئے اس کی ایک عادت ہو مثلا پچیس روز نفاس آتا ہو اب اس کو پچاس روز تک خون آ گیا تو دس روز تو یقینا استحاضہ ہے اس لئے اس دس روز کے ساتھ باقی پندرہ دن بھی استحاضہ شمار کیا جائے گا۔ اور اس کی پہلی عادت کے مطابق پچیس روز ہی نفاس ہوگا۔ کیونکہ چالیس دن کے بعد والے دس دن استحاضہ ہے تو معلوم ہوا کہ پچیس دن کے بعد بھی استحاضہ ہی آیا ہے۔ اور اگر اس عورت کی کوئی عادت نہیں ہے تو حدیث کے مطابق چالیس روز نفاس ہوگا اور باقی دن استحاضہ ہوگا۔عادت کی طرف پھیرنے کی دلیل یہ حیض والی حدیث ہے ۔ قالت عائشہ رأیت مرکنھا ملآن دما فقال لھا رسول اللہ ۖ امکثی قدر ما کانت تحبسک حیضتک ثم اغتسلی و صلی(مسلم شریف، باب المستحاضة و