Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

278 - 627
(١٥٥)  و اقل النفاس لا حد لہ )  ١ لان تقدم الولد علم الخروج من الرحم فاغنی عن امتداد جعل علماً علیہ،  بخلاف الحیض 

انگلیوں کے نشانات بنے ہیں (جسکو سقط کہتے ہیں ) تو اس سے بھی عورت نفاس والی ہو جائے گی ، اسکی وجہ یہ ہے کہ اس بچے کے پیدا ہونے سے بھی رحم کا منہ کا کھل جاتا ہے اسلئے یہ عورت نفاس والی ہو گی اور اس پر نفاس کے تمام احکام جاری ہو نگے ۔ مثلا(١)اگر باندی تھی اور آقا سے سقط پیدا ہوا تو باندی ام ولد بن جائے گی، جس طرح پورا بچہ پیدا ہو نے سے ام ولد بنتی ہے ۔ (٢) اگر حمل کی حالت میں طلاق ہوئی تھی اور وضع حمل اسکی  عدت تھی تو سقط پیدا ہونے سے عدت گزر جائے گی ۔کیونکہ یہ مکمل نفساء ہے  ۔    
ترجمہ: (١٥٥)  نفاس کی کم سے کم مدت کے لئے کوئی حد نہیں ہے۔
وجہ :   نفاس کی کم سے کم  کوئی مدت نہیں ہے ، وہ چند منٹ بھی ہو سکتی ہے ۔ اسکی دلیل یہ حدیث ہے   عن انس قال قال رسول اللہ ۖ وقت النفاس اربعون یوما الا ان تری الطہر قبل ذلک ۔ (دار قطنی ، کتاب الحیض ،ج اول ص ٢٢٦ ، نمبر ٨٤١ترمذی شریف حدیث نمبر١٣٩) الا ان تری الطہر قبل ذلک سے معلوم ہوا کہ چالیس دن سے پہلے خون بند ہو جائے تو چاہے چند گھنٹے کے بعد خون بند ہو جائے عورت پاک ہو جائے گی۔(٢) عن عبد اللہ بن عمرو قال :قال رسول اللہ  ۖ : تنتظر النفساء أربعین لیلة ، فان رأت الطھر قبل ذالک فھی طاھر ، و ان جاوزت الاربعین فھی بمنزلة المستحاضة ، تغتسل و تصلی ، فان غلبھا الدم توضأت لکل صلوة ۔ ( دار قطنی ، باب الحیض ، ج اول ، ص ٢٢٨ ، نمبر ٨٤٧ )  اس حدیث میں ہے کہ چالیس دن سے پہلے بھی طھر دیکھے تو وہ پاک شمار کی جائے گی (٣) حدیث میں ہے ۔ عن معاذ بن جبل عن النبی  ۖ قال : اذا مضی للنفساء سبع ثم رأت الطھر فلتغتسل و لتصل ۔ ( سنن للبیھقی ، باب النفاس ، ج اول ، ص ٥٠٥ ، نمبر ١٦١٧ ) اس حدیث میں ہے کہ سات روز کے بعد پاک ہو جائے تو بھی پاک سمجھی جائے گی ، اس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم کی کوئی حد نہیں ہے ۔
ترجمہ : ١   اسلئے کہ بچے کا پہلے آنا رحم سے نکلنے کی علامت ہے پس ایسے امتداد سے بے پروائی ہوئی جسکو اس پر علامت قرار دیا جائے بخلاف حیض کے۔ 
تشریح :   حیض میں تین دن تک کی مدت کو حیض آنے کی علامت قرار دی گئی کہ تین دن تک آئے تو سمجھا جائے گا کہ یہ حیض ہے اور اس سے کم آئے تو سمجھا جائے گا کہ یہ استحاضہ ہے ۔ لیکن نفاس معلوم کر نے کے لئے کسی مدت کو متعین کر نے کی ضرورت نہیں ہے اسلئے کہ رحم سے بچہ نکل چکا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اسکے بعد کا خون بہر حال نفاس ہے اور جب کسی مدت کو متعین کر نے کی ضرورت نہیں تو کم سے کم مدت متعین کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اسلئے نفاس کے لئے کم سے کم مدت نہیں ہے ۔یہ دلیل عقلی ہے 
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter