(١٥٥) و اقل النفاس لا حد لہ ) ١ لان تقدم الولد علم الخروج من الرحم فاغنی عن امتداد جعل علماً علیہ، بخلاف الحیض
انگلیوں کے نشانات بنے ہیں (جسکو سقط کہتے ہیں ) تو اس سے بھی عورت نفاس والی ہو جائے گی ، اسکی وجہ یہ ہے کہ اس بچے کے پیدا ہونے سے بھی رحم کا منہ کا کھل جاتا ہے اسلئے یہ عورت نفاس والی ہو گی اور اس پر نفاس کے تمام احکام جاری ہو نگے ۔ مثلا(١)اگر باندی تھی اور آقا سے سقط پیدا ہوا تو باندی ام ولد بن جائے گی، جس طرح پورا بچہ پیدا ہو نے سے ام ولد بنتی ہے ۔ (٢) اگر حمل کی حالت میں طلاق ہوئی تھی اور وضع حمل اسکی عدت تھی تو سقط پیدا ہونے سے عدت گزر جائے گی ۔کیونکہ یہ مکمل نفساء ہے ۔
ترجمہ: (١٥٥) نفاس کی کم سے کم مدت کے لئے کوئی حد نہیں ہے۔
وجہ : نفاس کی کم سے کم کوئی مدت نہیں ہے ، وہ چند منٹ بھی ہو سکتی ہے ۔ اسکی دلیل یہ حدیث ہے عن انس قال قال رسول اللہ ۖ وقت النفاس اربعون یوما الا ان تری الطہر قبل ذلک ۔ (دار قطنی ، کتاب الحیض ،ج اول ص ٢٢٦ ، نمبر ٨٤١ترمذی شریف حدیث نمبر١٣٩) الا ان تری الطہر قبل ذلک سے معلوم ہوا کہ چالیس دن سے پہلے خون بند ہو جائے تو چاہے چند گھنٹے کے بعد خون بند ہو جائے عورت پاک ہو جائے گی۔(٢) عن عبد اللہ بن عمرو قال :قال رسول اللہ ۖ : تنتظر النفساء أربعین لیلة ، فان رأت الطھر قبل ذالک فھی طاھر ، و ان جاوزت الاربعین فھی بمنزلة المستحاضة ، تغتسل و تصلی ، فان غلبھا الدم توضأت لکل صلوة ۔ ( دار قطنی ، باب الحیض ، ج اول ، ص ٢٢٨ ، نمبر ٨٤٧ ) اس حدیث میں ہے کہ چالیس دن سے پہلے بھی طھر دیکھے تو وہ پاک شمار کی جائے گی (٣) حدیث میں ہے ۔ عن معاذ بن جبل عن النبی ۖ قال : اذا مضی للنفساء سبع ثم رأت الطھر فلتغتسل و لتصل ۔ ( سنن للبیھقی ، باب النفاس ، ج اول ، ص ٥٠٥ ، نمبر ١٦١٧ ) اس حدیث میں ہے کہ سات روز کے بعد پاک ہو جائے تو بھی پاک سمجھی جائے گی ، اس سے معلوم ہوا کہ کم سے کم کی کوئی حد نہیں ہے ۔
ترجمہ : ١ اسلئے کہ بچے کا پہلے آنا رحم سے نکلنے کی علامت ہے پس ایسے امتداد سے بے پروائی ہوئی جسکو اس پر علامت قرار دیا جائے بخلاف حیض کے۔
تشریح : حیض میں تین دن تک کی مدت کو حیض آنے کی علامت قرار دی گئی کہ تین دن تک آئے تو سمجھا جائے گا کہ یہ حیض ہے اور اس سے کم آئے تو سمجھا جائے گا کہ یہ استحاضہ ہے ۔ لیکن نفاس معلوم کر نے کے لئے کسی مدت کو متعین کر نے کی ضرورت نہیں ہے اسلئے کہ رحم سے بچہ نکل چکا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ اسکے بعد کا خون بہر حال نفاس ہے اور جب کسی مدت کو متعین کر نے کی ضرورت نہیں تو کم سے کم مدت متعین کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے اسلئے نفاس کے لئے کم سے کم مدت نہیں ہے ۔یہ دلیل عقلی ہے