١ وقال الشافعی:حیض اعتباراً بالنفاس، اذ ھما جمیعا من الرحم، ٢ و لنا ان بالحمل ینسد فم الرحم کذا العادة،و النفاس بعد انفتاحہ بخروج الولد،٣ ولھذا کان نفاساً بعد خروج بعض الولد فیما یروی عن ابی حنیفة و محمد لانہ ینفتح فیتنفس بہ (١٥٤)و السقط الذی استبان بعض خلقہ ولد) ١ حتی تصیر بہ نفسائ، و تصیر الامة ام ولد بہ، و کذا العدة تنقضی بہ
ترجمہ: ١ اور امام شافعی نے فرمایا کہ یہ حیض ہے نفاس پر قیاس کر تے ہوئے اسلئے کہ دونوں خون رحم سے ہیں ۔
تشریح : امام شافعی فرماتے ہیں کہ حاملہ عورت کے رحم سے جو خون نکلے وہ حیض کا خون ہے ، اور اس پر حیض کے احکام جاری ہونگے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد تو نفاس ہے اس سے قبل حیض ہو نا چاہئے کیونکہ دونوں خون رحم سے ہی آتے ہیں ۔نوٹ : ۔ اس سے زیادہ مطلب سمجھ میں نہیں آتا ۔(٢) عن الزھری و قتادة قالا: اذا رأت الحامل الدم و ان حیضتھا علی قدر أقرا ئھا فانھا تمسک عن الصلوة کما تصنع الحائض ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب الحامل تری الدم ، ج اول، ص ٣١٦ ، نمبر ١٢٠٩ ) اس اثر میں ہے کہ حاملہ عورت کا خون حیض کا خون ہو گا ۔
ترجمہ: ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے عادت یہی ہے ، اور نفاس بچے کے نکلنے کی وجہ سے رحم کے کھلنے کے بعد ہوتا ہے۔
تشریح : حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے اسلئے نہ حیض نکل سکتا ہے اور نہ نفاس نکل سکتا ہے اسلئے اب استحاضہ ہی نکلے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ نفاس بچہ نکلنے کے بعد آتا ہے ۔اسلئے وہ استحاضہ ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ اسی لئے نفاس بچے کا کچھ حصہ نکلنے کے بعد ہو تا ہے ، جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد سے روایت ہے اسلئے کہ اب رحم کھل گیا پس اسکی وجہ سے نفاس ہو گا ۔
تشریح : چونکہ بچہ نکلنے کے بعدرحم کا منہ کھلتا ہے اور نفاس ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد کی ایک روایت ہے کہ بچے کا کچھ حصہ رحم سے نکل جائے اور اسکے بعد خون آئے تو اس خون کو بھی نفاس کہا جائے گا کیونکہ بچے کا کچھ حصہ تو نکل گیا ۔ لیکن بچے کا کچھ حصہ بھی نہ نکلا ہو تو نفاس نہیں کہا جائے گا ، وہ استحاضہ ہو گا ۔
ترجمہ: (١٥٤) اور ناتمام بچہ جسکی بعض خلقت ظاہر ہو چکی ہووہ پورا بچہ ہے ۔
ترجمہ: ١ یہاں تک کہ اس سے عورت نفساء ہو جائے گی ، اور باندی ام ولد ہو جائے گی ، ایسے ہی اس سے عدت پوری ہو جائے گی ۔
تشریح: پورا بچہ پیدا ہو تو اس سے عورت نفاس والی ہوتی ہے لیکن ایسا بچہ پیدا ہو جو ابھی مکمل نہیں ہے صرف ہاتھ پائوں اور