Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

277 - 627
  ١ وقال الشافعی:حیض اعتباراً بالنفاس،  اذ ھما جمیعا من الرحم،  ٢  و لنا ان بالحمل ینسد فم الرحم کذا العادة،و النفاس بعد انفتاحہ بخروج الولد،٣ ولھذا کان نفاساً بعد خروج بعض الولد فیما یروی عن ابی حنیفة  و محمد لانہ ینفتح فیتنفس بہ (١٥٤)و السقط الذی استبان بعض خلقہ ولد) ١ حتی تصیر بہ نفسائ،  و تصیر الامة ام ولد بہ،  و کذا العدة تنقضی بہ 

ترجمہ:  ١   اور امام شافعی نے فرمایا کہ یہ حیض ہے نفاس پر قیاس کر تے ہوئے اسلئے کہ دونوں خون رحم سے ہیں ۔
تشریح :    امام شافعی  فرماتے ہیں کہ حاملہ عورت کے رحم سے جو خون نکلے وہ حیض کا خون ہے ، اور اس پر حیض کے احکام جاری ہونگے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد تو نفاس ہے اس سے قبل حیض ہو نا چاہئے کیونکہ دونوں خون رحم سے ہی آتے ہیں ۔نوٹ : ۔ اس سے زیادہ مطلب سمجھ میں نہیں آتا ۔(٢) عن الزھری و قتادة قالا: اذا رأت الحامل الدم و ان حیضتھا علی قدر أقرا ئھا فانھا تمسک عن الصلوة کما تصنع الحائض ۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب الحامل تری الدم ، ج اول، ص ٣١٦ ، نمبر ١٢٠٩ ) اس اثر میں ہے کہ حاملہ عورت کا خون حیض کا خون ہو گا ۔  
ترجمہ: ٢   ہماری دلیل یہ ہے کہ حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے عادت یہی ہے ، اور نفاس بچے کے نکلنے کی وجہ سے رحم کے کھلنے کے بعد ہوتا ہے۔
تشریح :    حمل کی وجہ سے رحم کا منہ بند ہو جاتا ہے اسلئے نہ حیض نکل سکتا ہے اور نہ نفاس نکل سکتا ہے اسلئے اب استحاضہ ہی نکلے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ نفاس بچہ نکلنے کے بعد آتا ہے ۔اسلئے وہ استحاضہ ہو گا ۔
ترجمہ: ٣   اسی لئے نفاس بچے کا کچھ حصہ نکلنے کے بعد ہو تا ہے ، جیسا کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد   سے روایت ہے اسلئے کہ اب رحم کھل گیا پس اسکی وجہ سے نفاس ہو گا ۔ 
تشریح :    چونکہ بچہ نکلنے کے بعدرحم کا منہ کھلتا ہے اور نفاس ہو تا ہے یہی وجہ ہے کہ امام ابو حنیفہ اور امام محمد  کی ایک روایت ہے کہ بچے کا کچھ حصہ رحم سے نکل جائے اور اسکے بعد خون آئے تو اس خون کو بھی نفاس کہا جائے گا کیونکہ بچے کا کچھ حصہ تو نکل گیا ۔ لیکن بچے کا کچھ حصہ بھی نہ نکلا ہو تو نفاس نہیں کہا جائے گا ، وہ استحاضہ ہو گا ۔
ترجمہ: (١٥٤) اور ناتمام بچہ جسکی بعض خلقت ظاہر ہو چکی ہووہ پورا بچہ ہے ۔ 
ترجمہ:  ١   یہاں تک کہ اس سے عورت نفساء ہو جائے گی ، اور باندی ام ولد ہو جائے گی ، ایسے ہی اس سے عدت پوری ہو جائے گی ۔ 
تشریح:   پورا بچہ پیدا ہو تو اس سے عورت نفاس والی ہوتی ہے لیکن ایسا بچہ پیدا ہو جو ابھی مکمل نہیں ہے صرف ہاتھ پائوں اور 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter