Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

265 - 627
 ١ ھکذا نقل عن ابراھیم النخعی وانہ لا یعرف الاتوفیفاً،  (١٤٦) و لا غایة لاکثرہ)  ١  لانہ یمتد الی سنة وسنتین فلا یتقدر بتقدیر، ٢  الا اذا استمر بھا الدم یعرف ذالک فی کتاب الحیض

ترجمہ:  ١   ایسے ہی ابراھیم  سے نقل کیا گیا ہے ، اور انکو بزرگوں سے سن کر ہی معلوم ہوا ہو گا ۔
تشریح:  دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پندرہ دن طہر ہوگا، یہ بات حضرت ابراھیم نخعی  سے منقول ہے ، اور یہ حضرت بڑوں سے سن کر ہی بیان کئے ہونگے۔
نوٹ:  یہ قول مجھے نہیں ملا اورنہ صاحب درایہ کو ملا ہے (٢)  البتہ اقامت کی مدت پندرہ دن ہے اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے  کہ طہر کی مدت پندرہ دن ہو۔
ترجمہ:  (١٤٦)  اور اکثر مدت کے لئے کوئی انتہاء نہیں۔
ترجمہ:  ١   اسلئے کہ ایک سال اور دو سال بھی لمبی مدت ہو تی ہے اسلئے کوئی متعین بات نہیں کہی جا سکتی۔ 
تشریح :   دو حیض کے درمیان کتنی مدت عورت پاک رہ سکتی ہے اسکے بارے میں  کوئی متعین دن نہیں کہا جا سکتا ، کیونکہ بعض عورت کو دو دو سال تک حیض کا خون نہیں آتا ، اسلئے کوئی متعین مقدار کہنا مشکل ہے ۔
ترجمہ:  ٢   مگر جبکہ خون بہتا ہی رہتا ہو ۔ تو یہ مسئلہ امام  کے کتاب الحیض میں آپکو ملے گا ۔
تشریح :   اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کو شروع میں مثلا دس روز حیض آیا ، پھر ایک سال طھر رہا ، اسکے بعد خون جاری ہوا تو کبھی بند ہی نہیں ہوا تو اس عورت کے بارے میں وقت متعین کیا جائے گا ۔ یعنی اسکی عادت کی طرف پھیرا جائے گا ، کہ ہر سال میں دس روز حیض ہو گا اور اسکے بعد ایک سال تک طھر شمار کیا جائے گا اسی طرح اس مستحاضہ کو زندگی بھر رکھا جائے گا ، کیونکہ شروع میں اسکی عادت ہی ایسی بن گئی ہے ۔ اسکی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن ام سلمة زوجة النبی  ۖ قالت : ان امرة کانت تھراق الدماء علی عھد رسول اللہ  ۖ فاستفتت لھاأم سلمة رسول اللہ ۖ فقال : لتنظرعدة  اللیالی و الایام  التی کانت تحیضھن  من الشھر قبل ان یصیبھا الذی اصابھا فلتترک الصلوة قدر ذالک من الشھر فاذا خلفت ذالک فلتغتسل ۔ (ابو داود شریف ، باب فی المرأة تستحاض ، ص ٤١ ، نمبر ٢٧٤   بخاری شریف ، باب اقبال الحیض و ادبارھا ، ٤٧ ، نمبر ٣٢٠)  اس حدیث میں ہے کہ  حیض آنے کی جو پہلے عادت ہے اسی کو حیض شمار کیا جائے اور باقی کو طھر شمار کیا جائے ۔
 لغت :   توفیقاً: وقف سے مشتق ہے واقف ہو نا ، یہاں مراد ہے بڑوں سے سن کر کسی بات کو کہنا ۔غایة :  انتہاء ۔ یمتد : مد سے مشتق ہے ،لمبا ہونا  استمر : جاری رہنا ، بہتا رہنا ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter