١ ھکذا نقل عن ابراھیم النخعی وانہ لا یعرف الاتوفیفاً، (١٤٦) و لا غایة لاکثرہ) ١ لانہ یمتد الی سنة وسنتین فلا یتقدر بتقدیر، ٢ الا اذا استمر بھا الدم یعرف ذالک فی کتاب الحیض
ترجمہ: ١ ایسے ہی ابراھیم سے نقل کیا گیا ہے ، اور انکو بزرگوں سے سن کر ہی معلوم ہوا ہو گا ۔
تشریح: دو حیضوں کے درمیان کم سے کم پندرہ دن طہر ہوگا، یہ بات حضرت ابراھیم نخعی سے منقول ہے ، اور یہ حضرت بڑوں سے سن کر ہی بیان کئے ہونگے۔
نوٹ: یہ قول مجھے نہیں ملا اورنہ صاحب درایہ کو ملا ہے (٢) البتہ اقامت کی مدت پندرہ دن ہے اس سے استدلال کیا جا سکتا ہے کہ طہر کی مدت پندرہ دن ہو۔
ترجمہ: (١٤٦) اور اکثر مدت کے لئے کوئی انتہاء نہیں۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ ایک سال اور دو سال بھی لمبی مدت ہو تی ہے اسلئے کوئی متعین بات نہیں کہی جا سکتی۔
تشریح : دو حیض کے درمیان کتنی مدت عورت پاک رہ سکتی ہے اسکے بارے میں کوئی متعین دن نہیں کہا جا سکتا ، کیونکہ بعض عورت کو دو دو سال تک حیض کا خون نہیں آتا ، اسلئے کوئی متعین مقدار کہنا مشکل ہے ۔
ترجمہ: ٢ مگر جبکہ خون بہتا ہی رہتا ہو ۔ تو یہ مسئلہ امام کے کتاب الحیض میں آپکو ملے گا ۔
تشریح : اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کو شروع میں مثلا دس روز حیض آیا ، پھر ایک سال طھر رہا ، اسکے بعد خون جاری ہوا تو کبھی بند ہی نہیں ہوا تو اس عورت کے بارے میں وقت متعین کیا جائے گا ۔ یعنی اسکی عادت کی طرف پھیرا جائے گا ، کہ ہر سال میں دس روز حیض ہو گا اور اسکے بعد ایک سال تک طھر شمار کیا جائے گا اسی طرح اس مستحاضہ کو زندگی بھر رکھا جائے گا ، کیونکہ شروع میں اسکی عادت ہی ایسی بن گئی ہے ۔ اسکی دلیل یہ حدیث ہے۔ عن ام سلمة زوجة النبی ۖ قالت : ان امرة کانت تھراق الدماء علی عھد رسول اللہ ۖ فاستفتت لھاأم سلمة رسول اللہ ۖ فقال : لتنظرعدة اللیالی و الایام التی کانت تحیضھن من الشھر قبل ان یصیبھا الذی اصابھا فلتترک الصلوة قدر ذالک من الشھر فاذا خلفت ذالک فلتغتسل ۔ (ابو داود شریف ، باب فی المرأة تستحاض ، ص ٤١ ، نمبر ٢٧٤ بخاری شریف ، باب اقبال الحیض و ادبارھا ، ٤٧ ، نمبر ٣٢٠) اس حدیث میں ہے کہ حیض آنے کی جو پہلے عادت ہے اسی کو حیض شمار کیا جائے اور باقی کو طھر شمار کیا جائے ۔
لغت : توفیقاً: وقف سے مشتق ہے واقف ہو نا ، یہاں مراد ہے بڑوں سے سن کر کسی بات کو کہنا ۔غایة : انتہاء ۔ یمتد : مد سے مشتق ہے ،لمبا ہونا استمر : جاری رہنا ، بہتا رہنا ۔