٢ و عن ابی یوسف وھو روایة عن ابی حنیفة ، وقیل ھوآخراقوالہ:ان الطھراذاکان اقل من خمسة عشریوماًلا یفصل و ھوکالدم المتوالی لانہ طہر فاسد فیکون بمنزلة الدم، والاخذ بھذ ا القول ایسر، و تمامہ یعرف فی کتاب الحیض(١٤٥)و اقل الطھر خمسة عشر یوماً)
خون ہی شمار ہو نگے اور دس دنوں تک حیض ہو گا ۔اور اسکی وجہ یہ ہے کہ تمام ائمہ اس بات پر اتفاق کر تے ہیں کہ مدت حیض میں مسلسل خون آنا شرط نہیں ہے ، اسلئے شروع میں خون آجائے اور آخیر میں خون آجائے تو مسلسل خون شمار کر دیا جائے گا ۔ جس طرح زکوة کے باب میں شروع سال میں صاحب نصاب ہو اور آخیر میں صاحب نصاب ہو تو چاہے درمیان میں صاحب نصاب نہ بھی ہو پھر بھی اسکو پورا سال صاحب نصاب شمار کر تے ہیں اور اس پر زکوة لازم کر تے ہیں ۔
ترجمہ: ٢ اور امام ابو یوسف سے روایت ہے اور امام ابو حنیفہ کی یہی آخری قول ہے کہ طھر پندرہ دن سے کم ہو تو فصل نہیں ہو گا ، اور وہ مسلسل خون کی طرح ہو گا اسلئے کہ یہ طھر فاسد ہے اسلئے یہ خون کے درجے میں ہے ، اور اس قول کو لینا آسان ہے ۔ اور پوری بات مبسوط کے کتاب الحیض میں ہے ۔
تشریح : اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے دن خون آنے کے بعد دسویں دن بھی خون نہیں آیا بلکہ چودھویں دن خون آیا تو پہلے دن سے دس دن تک حیض ہو گا اور دس دن کے بعد چودھویں دن تک چار دن استحاضہ ہو گا ۔ اس روایت میں حیض کے شروع اور آخیر میں بھی خون آنا ضروری نہیں ہے ۔ یہ طھر فاسد ہے اور طھر کو بھی مسلسل خون کے درجے میں رکھا جائے گا ۔
نوٹ : طھر متخلل کے بارے میں لمبی لمبی بحثیں موجود ہیں لیکن اسکے لئے کوئی حدیث یا اثر نہیں مل رہی ہے اسلئے میں اسکو لمبا نہیں کر رہا ہوں ۔ بلکہ اسکے خلاف یہ حدیث موجود ہے کہ کالا اور سرخ خون ہو تو اسکو حیض شمار کریں اور اسکے علاوہ کو استحاضہ شمار کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیں ۔ حدیث یہ ہے ۔عن فاطمة بنت أبی حبیش أنھا کانت تستحاض فقال لھا النبی ۖ : اذا کان دم الحیض فانہ دم اسود یعرف ، فاذا کان ذالک فأمسکی عن الصلاة فا ذا کان الآخرفتوضئی و صلی ۔ (ابو داود شریف ، باب من قال توضأ لکل صلوة ، ص ٤٨ ، نمبر ٣٠٤ ) اس حدیث میں ہے کہ کالا خون ہو تو اسکو حیض شمار کرو اور اسکے علاوہ ہو تو اسکو استحاضہ شمار کرو ۔
لغت : طھر متخلل :حیض کے دو خون کے درمیان جب خون آنا بند ہو جائے تو اسکو طھر متخلل ، کہتے ہیں ۔ المتوالی : ولایة سے مشتق ہے ، پیدرپے۔استیعاب :گھیرنا ۔
ترجمہ: (١٤٥) دو حیضوں کے درمیان کم سے کم طہر پندرہ دن ہو نگے ۔