Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

264 - 627
٢ و عن ابی یوسف وھو روایة عن ابی حنیفة ، وقیل ھوآخراقوالہ:ان الطھراذاکان اقل من خمسة عشریوماًلا یفصل و ھوکالدم المتوالی لانہ طہر فاسد فیکون بمنزلة الدم، والاخذ بھذ ا القول ایسر،  و تمامہ یعرف فی کتاب الحیض(١٤٥)و اقل الطھر خمسة عشر یوماً)

خون ہی شمار ہو نگے اور دس دنوں تک حیض ہو گا ۔اور اسکی وجہ یہ ہے کہ تمام ائمہ اس بات پر اتفاق کر تے ہیں کہ مدت حیض میں مسلسل خون آنا شرط نہیں ہے ، اسلئے شروع میں خون آجائے اور آخیر میں خون آجائے تو مسلسل خون شمار کر دیا جائے گا  ۔ جس طرح زکوة کے باب میں شروع سال میں صاحب  نصاب ہو اور آخیر میں صاحب نصاب ہو تو چاہے درمیان میں صاحب نصاب نہ بھی ہو پھر بھی اسکو پورا سال صاحب نصاب شمار کر تے ہیں اور اس پر زکوة لازم کر تے ہیں ۔
ترجمہ:  ٢    اور امام ابو یوسف  سے روایت ہے اور امام ابو حنیفہ  کی یہی آخری قول ہے کہ طھر پندرہ دن سے کم ہو تو فصل نہیں ہو گا ، اور وہ مسلسل خون کی طرح ہو گا  اسلئے کہ یہ طھر فاسد ہے اسلئے یہ خون کے درجے میں ہے ، اور اس قول کو لینا آسان ہے ۔ اور پوری بات مبسوط کے کتاب الحیض میں ہے ۔
تشریح : اس روایت میں  یہ ہے کہ پہلے دن خون آنے کے بعد دسویں دن بھی خون نہیں آیا بلکہ چودھویں دن خون آیا تو پہلے دن سے دس دن تک حیض ہو گا اور دس دن کے بعد چودھویں دن تک چار دن استحاضہ ہو گا ۔  اس روایت میں حیض کے شروع اور آخیر میں بھی خون آنا ضروری نہیں ہے ۔ یہ طھر فاسد ہے اور طھر کو بھی مسلسل خون کے درجے میں رکھا جائے گا ۔
نوٹ :   طھر متخلل کے بارے میں لمبی لمبی بحثیں موجود ہیں لیکن اسکے لئے کوئی حدیث یا اثر نہیں مل رہی ہے اسلئے میں اسکو لمبا نہیں کر رہا ہوں ۔ بلکہ اسکے خلاف یہ حدیث موجود ہے کہ کالا اور سرخ خون ہو تو اسکو حیض شمار کریں اور اسکے علاوہ کو استحاضہ شمار کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیں ۔ حدیث یہ ہے ۔عن فاطمة بنت أبی حبیش أنھا کانت تستحاض فقال لھا النبی  ۖ : اذا کان دم الحیض فانہ دم اسود یعرف ، فاذا کان ذالک فأمسکی عن الصلاة  فا ذا  کان الآخرفتوضئی و صلی ۔ (ابو داود شریف ، باب من قال توضأ لکل صلوة ، ص ٤٨ ، نمبر ٣٠٤ )  اس حدیث میں ہے کہ کالا خون ہو تو اسکو حیض شمار کرو اور اسکے علاوہ ہو تو  اسکو استحاضہ شمار کرو ۔   
لغت :    طھر متخلل :حیض کے دو خون کے درمیان جب خون آنا بند ہو جائے تو اسکو طھر متخلل ، کہتے ہیں ۔ المتوالی : ولایة سے مشتق ہے ، پیدرپے۔استیعاب :گھیرنا ۔ 	  
ترجمہ:  (١٤٥)  دو حیضوں کے درمیان کم سے کم طہر پندرہ دن ہو نگے ۔    
 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter