Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

263 - 627
(١٤٤)والطھر اذا تخلل بین الدمین فی مدةالحیض فھوکالدم التوالی  )   ١ قال  ھذہ احدی الروایات عن ابی حنیفة، ووجھہ ان استیعاب الدم مدة الحیض لیس بشرط بالاجماع فیعتبر اولہ و آخرہ کالنصاب فی باب الزکوة 

ہو پھر بھی بغیر غسل کئے صحبت اچھی نہیں ہے ۔اس لئے کہ خوب خوب پاکی اس وقت ہو گی جب وہ غسل بھی کر لے گی۔ 
فائدہ:  امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک ہر حال میں غسل ہے۔  اس سے پہلے وطی کرنا جائز نہیں ہے۔ ان کے نزدیک  حتی یطھرن  کا ترجمہ طہارت بالماء ہے ۔ اور اثر بیھقی سے استدلال کرتے ہیں کہ مکمل طہارت ہونی چاہئے تب وطی کرے۔ سأل انسان عطاء قال الحائض تری الطھر ولا تغتسل اتحل لزوجھا؟قال لا حتی تغتسل۔ (مصنف عبد الرزاق، باب الرجل یصیب امرأتہ وقد رأت الطہر ولم تغتسل ج اول، ص٠ ٣٣ نمبر ١٢٧٣ السنن للبیھقی ،باب الحائض لا توطأ حتی تطھر وتغتسل، ج اول، ص ٤٦٢،نمبر ١٤٨٣)  اس اثر میں ہے کہ اس وقت تک غسل نہ کرے جب تک کہ غسل نہ کر لے ۔
ترجمہ:  (١٤٤)  وہ پاکی جو دو خون کے درمیان ہو حیض کی مدت میں تو وہ جاری خون کی طرح ہے۔  
تشریح:  عموما ایسا ہوتا ہے کہ کچھ دیر خون آتا ہے پھر بند ہو جاتا ہے ،پھر آتا ہے پھر بند ہو جاتا ہے ،حیض کا خون مسلسل نہیں آتا رہتا ہے ۔اس لئے حیض کی مدت کے درمیان پاکی اور طہر ہو تو اس کا حکم بھی خون آنے ہی کی طرح ہے ۔یعنی اس مدت میں عورت نماز نہیں پڑھے گی اور نہ اس کا شوہر اس سے وطی کرے گا۔ مثلا پہلے دن خون آیا پھر خون بند رہا پھر دسویں دن خون آیا تو پہلے دن سے لیکر دس دن تک حیض ہی شمار کیا جائے گا اور اس کا حکم حیض ہی کی طرح ہوگا ۔ 
وجہ:  جس طرح نصاب زکوة میں شروع سال اور اخیر سال میں نصاب پورا ہو جانا کافی ہے اسی طرح حیض کے شروع دن میں اور اخیر دن میں خون آ جائے تو تمام دن حیض ہی شمار کر دیا جائے گا۔ چاہے درمیان میں خون نہ آیا ہو (٢) عموما ہمیشہ خون آتا بھی نہیں ہے ۔اس لئے مسلسل خون آنے کی شرط نہیں لگائی گئی۔(٣)اس اثر میں ہے ۔قلت لعطاء فحاضت فأدبر عنھا الدم و ھی تری ماء أو تریة ؟قال : فلا تصلی حتی تری الخفوف الطاھر ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب  ما تری أیام حیضتھا أو بعدھا ، ج اول ، ص ٣٠٣ ، نمبر ١١٦٣)  اس اثر میں ہے کہ درمیان میں طھر دیکھے تو نماز نہ پڑھے جب تک پاک نہ ہو جائے ۔
ترجمہ:  ١   مصنف فرماتے ہیں کہ یہ امام ابو حنیفہ  کی ایک روایت ہے ، اور اسکی وجہ یہ ہے کہ مدت حیض میں خون کا گھیرنا بالاتفاق شرط نہیں ہے اسلئے اعتبار کیا جائے گا خون کے شروع کا اور خون کے آخیر کا ، جیسے کہ زکوٰة کے باب میں نصاب ۔
 تشریح :   طھر متخلل کے سلسلے میں امام صاحب کی کئی روایتیں ہیںان میں سے ایک روایت اوپر گزری کہ مدت حیض میں پاکی آجائے تو وہ مسلسل خون کی طرح شمار کیا جائے گا۔ مثلا پہلے دن خون آیا  درمیان میں پاکی رہی پھر نویں دن خون آیا تویہ دسوں دن 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter