(١٤٤)والطھر اذا تخلل بین الدمین فی مدةالحیض فھوکالدم التوالی ) ١ قال ھذہ احدی الروایات عن ابی حنیفة، ووجھہ ان استیعاب الدم مدة الحیض لیس بشرط بالاجماع فیعتبر اولہ و آخرہ کالنصاب فی باب الزکوة
ہو پھر بھی بغیر غسل کئے صحبت اچھی نہیں ہے ۔اس لئے کہ خوب خوب پاکی اس وقت ہو گی جب وہ غسل بھی کر لے گی۔
فائدہ: امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک ہر حال میں غسل ہے۔ اس سے پہلے وطی کرنا جائز نہیں ہے۔ ان کے نزدیک حتی یطھرن کا ترجمہ طہارت بالماء ہے ۔ اور اثر بیھقی سے استدلال کرتے ہیں کہ مکمل طہارت ہونی چاہئے تب وطی کرے۔ سأل انسان عطاء قال الحائض تری الطھر ولا تغتسل اتحل لزوجھا؟قال لا حتی تغتسل۔ (مصنف عبد الرزاق، باب الرجل یصیب امرأتہ وقد رأت الطہر ولم تغتسل ج اول، ص٠ ٣٣ نمبر ١٢٧٣ السنن للبیھقی ،باب الحائض لا توطأ حتی تطھر وتغتسل، ج اول، ص ٤٦٢،نمبر ١٤٨٣) اس اثر میں ہے کہ اس وقت تک غسل نہ کرے جب تک کہ غسل نہ کر لے ۔
ترجمہ: (١٤٤) وہ پاکی جو دو خون کے درمیان ہو حیض کی مدت میں تو وہ جاری خون کی طرح ہے۔
تشریح: عموما ایسا ہوتا ہے کہ کچھ دیر خون آتا ہے پھر بند ہو جاتا ہے ،پھر آتا ہے پھر بند ہو جاتا ہے ،حیض کا خون مسلسل نہیں آتا رہتا ہے ۔اس لئے حیض کی مدت کے درمیان پاکی اور طہر ہو تو اس کا حکم بھی خون آنے ہی کی طرح ہے ۔یعنی اس مدت میں عورت نماز نہیں پڑھے گی اور نہ اس کا شوہر اس سے وطی کرے گا۔ مثلا پہلے دن خون آیا پھر خون بند رہا پھر دسویں دن خون آیا تو پہلے دن سے لیکر دس دن تک حیض ہی شمار کیا جائے گا اور اس کا حکم حیض ہی کی طرح ہوگا ۔
وجہ: جس طرح نصاب زکوة میں شروع سال اور اخیر سال میں نصاب پورا ہو جانا کافی ہے اسی طرح حیض کے شروع دن میں اور اخیر دن میں خون آ جائے تو تمام دن حیض ہی شمار کر دیا جائے گا۔ چاہے درمیان میں خون نہ آیا ہو (٢) عموما ہمیشہ خون آتا بھی نہیں ہے ۔اس لئے مسلسل خون آنے کی شرط نہیں لگائی گئی۔(٣)اس اثر میں ہے ۔قلت لعطاء فحاضت فأدبر عنھا الدم و ھی تری ماء أو تریة ؟قال : فلا تصلی حتی تری الخفوف الطاھر ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب ما تری أیام حیضتھا أو بعدھا ، ج اول ، ص ٣٠٣ ، نمبر ١١٦٣) اس اثر میں ہے کہ درمیان میں طھر دیکھے تو نماز نہ پڑھے جب تک پاک نہ ہو جائے ۔
ترجمہ: ١ مصنف فرماتے ہیں کہ یہ امام ابو حنیفہ کی ایک روایت ہے ، اور اسکی وجہ یہ ہے کہ مدت حیض میں خون کا گھیرنا بالاتفاق شرط نہیں ہے اسلئے اعتبار کیا جائے گا خون کے شروع کا اور خون کے آخیر کا ، جیسے کہ زکوٰة کے باب میں نصاب ۔
تشریح : طھر متخلل کے سلسلے میں امام صاحب کی کئی روایتیں ہیںان میں سے ایک روایت اوپر گزری کہ مدت حیض میں پاکی آجائے تو وہ مسلسل خون کی طرح شمار کیا جائے گا۔ مثلا پہلے دن خون آیا درمیان میں پاکی رہی پھر نویں دن خون آیا تویہ دسوں دن