(١٤٢)ولوکان انقطع الدم دون عادتھا فوق الثلث لم یقربھا حتی تمضی عادتھا و ان اغتسلت) ١ لان العود فی العادة غالب فکان الاحتیاط فی الاجتناب(١٤٣)و ان انقطع الدم لعشرة ایام حل وطیھا قبل الغسل) ١ لان الحیض لا مزید لہ علی عشرة ایام، الا انہ لا یستحب قبل الاغتسال للنھی فی القراء ةالتشدید
ترجمہ: (١٤٢) اور اگر خون منقطع ہو گیا عادت سے پہلے لیکن تین دن سے زیادہ میں تو اس سے وطی نہیں کرے گا یہاں تک کہ اسکی عادت گزر جائے اگر چہ وہ غسل کر چکی ہو ۔
ترجمہ: ١ ا سلئے کہ عادت میں لوٹنا غالب ہے اسلئے احتیاط پر ہیز کر نے میں ہے ۔
تشریح : مثلا ایک عورت کی عادت پانچ دن کی تھی اور چار دن پر خون رک گیا ، یعنی تین دن گزرنے کے بعد رکا لیکن عادت جو پانچ دن تھی اس سے پہلے رک گیا ، تو چاہے اس عورت نے غسل کر لیا ہو پھر بھی شوہر وطی نہیں کرے گا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ عادت پوری ہو نے میں ابھی ایک دن باقی ہے اسلئے غالب گمان یہ ہے کہ خون دوبارہ آجائے اسلئے چاہے غسل کر چکی ہو پھر بھی شوہر کے لئے صحبت کر نا جائز نہیں ۔
ترجمہ: (١٤٣) اور اگر حائضہ کا خون دس دن پورے ہونے پر منقطع ہو تو اس عورت سے غسل سے پہلے بھی وطی کرنا جائز ہے۔
وجہ: دس دن سے زیادہ تو حیض آ ہی نہیں سکتا ۔اس کے بعد جو خون آئے گا وہ استحاضہ ہوگا۔ اس لئے عورت نے غسل نہیں کیا ہے تب بھی اس سے وطی کر سکتا ہے ۔البتہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے بعد وطی کرے تاکہ مکمل پاکی پر وطی ہو۔ اس صورت میں آیت حتی یطھرن( بغیر تشدید کے)پر عمل ہوگا ۔جس کی تفسیر حضرت مجاہد نے فرمایا کہ جب خون منقطع ہو جائے تو وہ پاک ہوگی۔عبارت یہ ہے۔ عن مجاھد فی قولہ عزوجل (ولا تقربوھن حتی یطھرن) حتی ینقطع الدم فاذا تطھرن قال یقول اذا اغتسلن (سنن للبیہقی،باب الحائض لا توطأ حتی تطھر وتغتسل،ج اول، ص ٤٦٢، نمبر ١٤٨٢) اس اثر میں خون منقطع ہو نے کو غسل کر نا قرار دیا گیا ہے اسلئے غسل نہ بھی کرے تو صحبت جائز ہے ۔
ترجمہ: ١ ا سلئے کہ حیض دس دن سے زیادہ نہیں ہو تا ، مگر یہ کہ غسل کر نے سے پہلے وطی اچھی نہیں ہے تشدید کی قرأت میں روکنے کی وجہ سے ۔
تشریح : دس دن پر حیض ختم ہوا ہو تو شوہر صحبت کر سکتا ہے البتہ اچھا نہیں ہے اسکی وجہ یہ کہ ، آیت میں جو یطھرن ، تشدید کے ساتھ پڑھیں تو اسکا مطلب یہ گزرا کہ خوب خوب پاک ہو تب وطی کرے اس قرأت پر عمل کرتے ہوئے چاہے دس دن پر حیض ختم ہو