Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

262 - 627
(١٤٢)ولوکان انقطع الدم دون عادتھا فوق الثلث لم یقربھا حتی تمضی عادتھا و ان اغتسلت) ١ لان العود فی العادة غالب فکان الاحتیاط فی الاجتناب(١٤٣)و ان انقطع الدم لعشرة ایام حل وطیھا قبل الغسل) ١  لان الحیض لا مزید لہ علی عشرة ایام،  الا انہ لا یستحب قبل الاغتسال للنھی فی القراء ةالتشدید

ترجمہ:  (١٤٢)  اور اگر خون منقطع ہو گیا عادت سے پہلے لیکن تین دن سے زیادہ میں تو اس سے وطی نہیں کرے گا یہاں تک کہ اسکی عادت گزر جائے اگر چہ وہ غسل کر چکی ہو ۔
ترجمہ:  ١  ا   سلئے کہ عادت میں لوٹنا غالب ہے اسلئے احتیاط پر ہیز کر نے میں ہے ۔
تشریح :  مثلا ایک عورت کی عادت پانچ دن کی تھی اور چار دن پر خون رک گیا ، یعنی تین دن گزرنے کے بعد رکا لیکن عادت جو پانچ دن تھی اس سے پہلے رک گیا ، تو چاہے اس عورت نے غسل کر لیا ہو پھر بھی شوہر وطی نہیں کرے گا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ عادت پوری ہو نے میں ابھی ایک دن باقی ہے اسلئے غالب گمان یہ ہے کہ خون دوبارہ آجائے اسلئے چاہے غسل کر چکی ہو پھر بھی شوہر کے لئے صحبت کر نا جائز نہیں ۔ 
ترجمہ:  (١٤٣)  اور اگر حائضہ کا خون دس دن پورے ہونے پر منقطع ہو تو اس عورت سے غسل سے پہلے بھی وطی کرنا جائز ہے۔  
وجہ:  دس دن سے زیادہ تو حیض آ ہی نہیں سکتا ۔اس کے بعد جو خون آئے گا وہ استحاضہ ہوگا۔ اس لئے عورت نے غسل نہیں کیا ہے تب بھی اس سے وطی کر سکتا ہے ۔البتہ بہتر یہ ہے کہ غسل کے بعد وطی کرے تاکہ مکمل پاکی پر وطی ہو۔  اس صورت میں آیت حتی یطھرن( بغیر تشدید کے)پر عمل ہوگا ۔جس کی تفسیر حضرت مجاہد نے فرمایا کہ جب خون منقطع ہو جائے تو وہ پاک ہوگی۔عبارت یہ ہے۔ عن مجاھد فی قولہ عزوجل (ولا تقربوھن حتی یطھرن) حتی ینقطع الدم  فاذا تطھرن قال یقول اذا اغتسلن (سنن للبیہقی،باب الحائض لا توطأ حتی تطھر وتغتسل،ج اول، ص ٤٦٢، نمبر ١٤٨٢)  اس اثر میں خون منقطع ہو نے کو غسل کر نا قرار دیا گیا ہے اسلئے غسل نہ بھی کرے تو صحبت جائز ہے ۔
ترجمہ:  ١   ا سلئے کہ حیض دس دن سے زیادہ نہیں ہو تا ، مگر یہ کہ غسل کر نے سے پہلے وطی اچھی نہیں ہے تشدید کی قرأت میں روکنے کی وجہ سے ۔ 
تشریح :   دس دن پر حیض ختم ہوا ہو تو شوہر صحبت کر سکتا ہے البتہ اچھا نہیں ہے اسکی وجہ یہ کہ ، آیت میں جو یطھرن ، تشدید کے ساتھ پڑھیں تو اسکا مطلب یہ گزرا کہ خوب خوب پاک ہو تب وطی کرے اس قرأت پر عمل کرتے ہوئے چاہے دس دن پر حیض ختم ہو 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter