(١٤٠) و اذا انقطع دم الحیض لاقل من عشرة ایام لم تحل وطیھا حتی تغتسل) ١لان دم الحیض یدر تارة وینقطع اخریٰ فلا بدمن الاغتسال لیترجح جانب الانقطاع، (١٤١) ولولم تغتسل ومضی علیھا ادنی وقت الصلوة بقدران تقدرعلی الاغتسال و التحریمة حل وطیھا) ١ لان الصلوة صارت دیناً فی ذمتھا فطھرت حکماً
سے مشتق ہے ، دور رہنا ۔المشرز :شرز سے مشتق ہے چپکا ہوا ۔الکم : آستین ۔
ترجمہ: (١٤٠) اگر حیض کا خون دس دن سے کم میں منقطع ہو گیا تو اس سے وطی کرنا جائز نہیں ہے جب تک کہ غسل نہ کرے ۔
وجہ: دس دن سے کم میں حیض منقطع ہوا ہے تو ممکن ہے کہ دوبارہ خون آجائے اور عورت کی عادت بدل جائے اس لئے یا تو عورت غسل کرلے تاکہ مکمل پاک ہو جائے آیت ۔و یسئلونک عن المحیض قل ھو اذی فاعتزلوا النساء فی المحیض و لا تقربوھن حتی یطھرن فاذا تطھرن فأتوھن من حیث أمر کم اللہ ان اللہ یحب التوابین و یحب المتطھرین (آیت ٢٢٢ سورة البقرة٢) میں ، یطھرن ،کوتشدید کے ساتھ پڑھیں تو مطلب ہوگا کہ خوب خوب پاک ہوجائے اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب عورت غسل کر لے(٢) ایک اثر سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ سأل انسان عطاء قال الحائض تری الطھر ولا تغتسل اتحل لزوجھا؟قال لا حتی تغتسل۔ (مصنف عبد الرزاق، باب الرجل یصیب امرأتہ وقد رأت الطہر ولم تغتسل ج اول، ص٠ ٣٣ نمبر ١٢٧٣ السنن للبیھقی ،باب الحائض لا توطأ حتی تطھر وتغتسل، ج اول، ص ٤٦٢،نمبر ١٤٨٣) اس اثر میں ہے کہ حائضہ دس دن سے پہلے پاک ہو جائے تو غسل سے پہلے اس سے شوہر وطی نہ کرے ۔
ترجمہ: ١ ا سلئے کہ خون کبھی بہتا ہے اور کبھی منقطع ہو جاتا ہے تو غسل کر نا ضروری ہے تاکہ انقطاع کی جانب راجح ہو جائے۔
تشریح : خون کا حال یہ ہے کہ کبھی بہا اور کبھی رک گیا اسکئے ممکن ہے کہ ابھی تھوڑی دیر کے لئے رکا ہواور جب غسل کر لے گی تو راجح ہو جائے گا کہ خون مکمل ختم ہو نے کے لئے رکا ہے ۔ اسلئے غسل کر لے تب شوہر وطی کرے ۔
ترجمہ: (١٤١ ) اور اگر غسل نہ کرے اور اس پر نماز کا ادنی وقت گزر جائے ، اس مقدار کہ غسل کر نے پر اور تحریمہ باندھنے پر قادر ہو تب بھی اس سے وطی کر نا حلال ہو گا ۔
ترجمہ ١ ا سلئے کہ نماز اسکے ذمے میں قرض ہو گئی تو گویا کہ وہ حکما پاک ہو گئی ۔
تشریح : عورت نے غسل تو نہیں کیا لیکن خون رکنے کے بعد نماز کا کوئی وقت اس پر گزر گیا ، اور ابھی اتنا وقت گزرا کہ اس وقت میں وہ غسل کر سکتی تھی اور تحریمہ باندھ سکتی تھی ،مثلا پندرہ منٹ کا وقت گزر گیا تو اب اسکا شوہر اس سے وطی کر سکتا ہے ۔ اسلئے کہ نماز کا وقت اس پر گزر گیا تو وہ نماز اس پر قرض ہو گئی اور وہ اللہ کے نزدیک گویا کہ حکما پاک ہو گئی ، اسلئے اس سے وطی کر سکتا ہے ۔