٤ و یکرہ مسہ بالکم ھو الصحیح لانہ تابع لہ ٥ بخلاف کتب الشریعة لاھلھا حیث یرخص فی مسھا بالکم لان فیہ ضرورة ٦ولابأس بدفع المصحف الی الصبیان لان فی المنع تضییع حفظ القرآن، و فی الامر بالتطھیر حرجا ً بھم، و ھذا ھو الصحیح،
کے لئے جائز ہے کہ اسکے ذریعہ قرآن کو چھوئے
وجہ : اثر میں ہے عن عامر و سالم قالا : لا یمس الرجل الدرھم فیھا کتاب اللہ و ھو جنب قال : و قال عطا ء و القاسم : یمسھا اذا کانت مصرورة فی خرقة ، ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ١٣٨ الرجل یمس الدراھم و ھو جنب ، ج اول، ص ١٠٧ ، نمبر ١٢١٩ مصنف عبد الرزاق ، باب مس المصحف و الدراھم التی فیھا القرآن ، ج اول ، ص ٣٤٤ ، نمبر ١٣٣٩ ، نمبر ١٣٤٠ ) اس اثر میں ہے کہ درھم کو رکھنے کی جو تھیلی ہو تی ہے اسکے ذریعہ درھم کو چھوئے ، اسی طرح قرآن کے رکھنے کا جوغلاف ہو تا ہے اسکے ذریعہ سے قرآن کو چھوئے ۔
ترجمہ ٤ اور مکروہ ہے قرآن کو چھونا آستین کے ذریعہ سے ، یہی صحیح ہے ۔اسلئے کہ آستین انسان کے تابع ہے ۔
تشریح : آستین چونکہ انسان کے تابع ہے اسلئے اسکے ذریعہ سے قرآن کو چھونا مکروہ ہے ۔
ترجمہ ٥ بخلاف شریعت کی کتابوں کے شریعت والوں کے لئے کہ آستین کے ساتھ اسکو چھونے میں رخصت دی ہے اسلئے کہ اس میں ضرورت ہے
تشریح : جو لوگ ہر وقت حدیث اور فقہ کی کتابوں کو استعمال کر تے ہیں انکے لئے گنجائش ہے کہ وضو کی حالت میں نہ ہو تو اپنی آستین سے اسکو پکڑ لے اور اٹھا لے ۔ کیونکہ ہر وقت وضو کر نے میں حرج ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ اسکی اہمیت قرآن سے کم ہے اسلئے اسکو آستین سے اٹھانے کی گنجائش دی گئی ہے ۔
ترجمہ ٦ اور کوئی حرج نہیں ہے بچوں کو قرآن دینے میں ، اسلئے کہ روکنے میں قرآن کو یاد کرنے کو ضائع کر نا ہے ، اور وضو کے حکم دینے میں انکو حرج ہے ۔ صحیح با ت یہی ہے ۔
تشریح : قرآن پڑھنے کے لئے ، یا اسکو حفظ یاد کر نے لئے بچوں کو قرآن دینا جائز ہے اور بغیر وضو کے وہ چھوئے تب بھی جائز ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ (١) وہ مرفوع القلم ہو تے ہیں اسلئے انکو کسی حکم کا پابند نہیں کیا جا سکتا ۔ (٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ انکو بار بار وضو کرانے میں حرج عظیم ہے ، اور اگر انکو قرآن ہی نہ دیں تو اگلی نسل قرآن یاد کیسے کرے گی ، اس طرح قرآن ضائع ہو جائے گا۔اسلئے ضائع ہونے سے بچانے کے لئے بچوں کے ہاتھ میں قرآن دینا جائز ہے ، چاہے وہ بغیر وضو کے پڑھے ۔صحیح بات یہی ہے ۔
لغت : المصحف : قرآن ۔ صرة : درھم رکھنے کی تھیلی ۔ حلا : حلول سے مشتق ہے ،گھس جانا ۔ متجافی : جوف