Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

260 - 627
٤  و یکرہ مسہ بالکم ھو الصحیح لانہ تابع لہ  ٥ بخلاف کتب الشریعة لاھلھا حیث یرخص فی مسھا بالکم لان  فیہ ضرورة  ٦ولابأس بدفع المصحف الی الصبیان لان فی المنع تضییع حفظ القرآن،  و فی الامر بالتطھیر حرجا ً بھم،  و ھذا ھو الصحیح، 

کے لئے جائز ہے کہ اسکے ذریعہ قرآن کو چھوئے 
وجہ :   اثر میں ہے عن عامر و سالم قالا : لا  یمس الرجل الدرھم فیھا کتاب اللہ و ھو جنب قال : و قال عطا ء و القاسم : یمسھا اذا کانت مصرورة فی خرقة ، ( مصنف ابن ابی شیبة ، باب ١٣٨ الرجل یمس الدراھم  و ھو جنب ، ج اول، ص ١٠٧ ، نمبر ١٢١٩  مصنف عبد الرزاق ، باب مس المصحف و الدراھم التی فیھا القرآن ، ج اول ، ص ٣٤٤ ، نمبر ١٣٣٩ ، نمبر ١٣٤٠ ) اس اثر میں ہے کہ درھم کو رکھنے کی جو تھیلی ہو تی ہے اسکے ذریعہ درھم کو چھوئے ، اسی طرح قرآن کے رکھنے کا جوغلاف ہو تا ہے اسکے ذریعہ سے قرآن کو چھوئے ۔
ترجمہ  ٤    اور مکروہ ہے قرآن کو چھونا آستین کے ذریعہ سے ، یہی صحیح ہے ۔اسلئے کہ آستین انسان کے تابع ہے ۔
تشریح :  آستین چونکہ انسان کے تابع ہے اسلئے اسکے ذریعہ سے قرآن کو چھونا مکروہ ہے ۔
ترجمہ  ٥   بخلاف شریعت کی کتابوں کے شریعت والوں کے لئے کہ آستین کے ساتھ اسکو چھونے میں رخصت دی ہے اسلئے کہ اس میں ضرورت ہے  
تشریح :  جو لوگ ہر وقت حدیث اور فقہ کی کتابوں کو استعمال کر تے ہیں انکے لئے گنجائش ہے کہ وضو کی حالت میں نہ ہو تو اپنی آستین سے اسکو پکڑ لے اور اٹھا لے ۔ کیونکہ ہر وقت وضو کر نے میں حرج ہے ۔اسکی وجہ یہ ہے کہ اسکی اہمیت قرآن سے کم ہے اسلئے اسکو آستین سے اٹھانے کی گنجائش دی گئی ہے ۔ 
ترجمہ  ٦    اور کوئی حرج نہیں ہے بچوں کو قرآن دینے میں ، اسلئے کہ روکنے میں قرآن کو یاد کرنے کو ضائع کر نا ہے ، اور وضو کے حکم دینے میں انکو حرج ہے ۔ صحیح با ت یہی ہے ۔ 
تشریح :   قرآن پڑھنے کے لئے ، یا اسکو حفظ یاد کر نے لئے بچوں کو قرآن دینا جائز ہے اور بغیر وضو کے وہ چھوئے تب بھی جائز ہے ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ (١) وہ مرفوع القلم ہو تے ہیں اسلئے انکو کسی حکم کا پابند نہیں کیا جا سکتا ۔ (٢) دوسری وجہ یہ ہے کہ انکو بار بار وضو کرانے میں حرج عظیم ہے ، اور اگر انکو قرآن ہی نہ دیں تو اگلی نسل قرآن یاد کیسے کرے گی ، اس طرح قرآن ضائع ہو جائے گا۔اسلئے ضائع ہونے سے بچانے کے لئے بچوں کے ہاتھ میں قرآن دینا جائز ہے ، چاہے وہ بغیر وضو کے پڑھے ۔صحیح بات یہی ہے ۔ 
لغت :   المصحف :  قرآن ۔ صرة : درھم رکھنے کی تھیلی ۔ حلا : حلول سے مشتق ہے ،گھس جانا ۔  متجافی : جوف 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter