٢ ثم الحدث،والجنابة حلا الید فیستویان فی حکم المس، و الجنابة حلت الفم دون الحدث فیفترقان فی حکم القرائة ٣ وغلافہ مایکون متجافیاعنہ دون ماھومتصل بہ کالجلد المشرز، ھو الصحیح
ابیہ قال : کان فی کتاب النبیۖ لعمروبن حزم الا تمس القرآن الاعلی طہر ۔(دار قطنی ، باب فی نھی المحدث عن مس القرآن ج اول ص ١٢٨ نمبر ٤٢٩ سنن للبیہقی،باب الحائض لا تمس المصحف ولا تقرأ القرآن ،ص ٤٦١، نمبر ١٤٧٨) اس قسم کی بہت سی احادیث دار قطنی میں نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو بغیر وضو چھونا جائز نہیں ہے۔
درھم اور دینار کو بغیر وضو کے چھونا جائز نہیں اسکے لئے یہ اثر ہے ۔عن ابراھیم قال : لا یمس الدراھم غیر متوضی ء ۔نمبر ١٣٣٩ ، دوسری روایت میں ہے عن ابراھیم مثل ذالک الا انہ قال : من وراء الثوب ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب مس المصحف و الدراھم التی فیھا القرآن ، ج اول ، ص ٣٤٤ ، نمبر ١٣٣٩ ، نمبر ١٣٤٠ مصنف ابن ابی شیبة ، ١٣٧ الرجل یمس الدراھم و ھو علی غیر وضوء ، ج اول ، ص ١٠٧ نمبر ١٢١٤ ) اس اثر میں ہے کہ درھم پر آیت لکھی ہوئی ہوتو اسکو بغیر وضو کے نہ چھوئے ، البتہ ہمیانی جسکو درھم کی تھیلی کہتے ہیں اسکے ساتھ چھو سکتا ہے ۔
ترجمہ ٢ پھر حدث اور جنابت دونوں ہاتھ میں گھس چکے ہیں اسلئے چھونے کے حکم میں دونوں برابر ہیں (یعنی دونوں کے لئے چھونا جائز نہیں ہے ) اور جنابت منہ میں گھستی ہے نہ کہ حدث اسلئے پڑھنے کے حکم میں دونوں الگ الک ہیں ۔
تشریح : یہ دلیل عقلی ہے ۔ کہ حدث اور جنابت دونوں ہی گویا کہ ہاتھ میں گھس گئے اسلئے جنبی اور محدث دونوں ہی قرآن پاک کو نہیں چھو سکتے ، اسلئے کہ انکے ہاتھ میں ناپاکی ہے ۔ اور جنابت تو منہ میںبھی گھس جاتی ہے لیکن حدث نہیں گھستی اسلئے جنبی قرآن نہیں پڑھ سکتا ، کیونکہ اسکے منہ میں ناپاکی ہے۔ البتہ محدث پڑھ سکتا ہے کیونکہ اسکے منہ میں ناپاکی نہیں ہے ۔اسلئے پڑھنے کے حکم میں دونوں الگ الگ ہو گئے ۔
ترجمہ ٣ قرآن کا غلاف وہ ہے جو قرآن سے جدا ہو ، چپکی ہوئی جلد کی طرح اس سے متصل نہ ہو ۔ یہی صحیح ہے ۔
تشریح : غلاف کا اطلاق تین قسم کے کپڑوں پر ہو سکتا ہے ۔ (١) آدمی کی آستین (٢) وہ جلد جو قرآن کے ساتھ چپکی ہوئی ہے جسکو جلد مشرز ، کہتے ہیں ۔ (٣) جزدان اور بستہ جس میں قرآن کو رکھتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ متن میں جو غلاف کا تذکرہ ہے اس سے آدمی کی آستین مراد نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ آدمی کے تابع ہے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم کو چھونا اچھا نہیں ۔اور قرآن کے ساتھ چپکی ہوئی جلد بھی مراد نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ خود قرآن کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور قرآن کے تابع ہے ،بلکہ وہ قرآن کا حصہ ہے ، غلاف وہ ہو نا چاہئے جو کسی کے تابع نہ ہو ۔ بلکہ غلاف سے جزدان اور بستہ مراد ہے جس میں قرآن رکھا جاتا ہے اور کسی کے تابع نہیں ہے ، محدث