Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

259 - 627
٢ ثم الحدث،والجنابة حلا الید فیستویان فی حکم المس،  و الجنابة حلت الفم دون الحدث فیفترقان فی حکم القرائة ٣ وغلافہ مایکون متجافیاعنہ دون ماھومتصل بہ کالجلد المشرز،  ھو الصحیح 

ابیہ قال :  کان فی کتاب النبیۖ لعمروبن حزم الا تمس القرآن الاعلی طہر ۔(دار قطنی ، باب فی نھی المحدث عن مس القرآن ج اول ص ١٢٨ نمبر ٤٢٩ سنن للبیہقی،باب الحائض لا تمس المصحف ولا تقرأ القرآن ،ص ٤٦١، نمبر ١٤٧٨) اس قسم کی بہت سی احادیث دار قطنی میں نقل کی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کو بغیر وضو چھونا جائز نہیں ہے۔ 
  درھم اور دینار کو بغیر وضو کے چھونا جائز نہیں اسکے لئے یہ اثر ہے ۔عن ابراھیم قال : لا یمس الدراھم غیر متوضی ء ۔نمبر ١٣٣٩ ، دوسری روایت میں ہے عن ابراھیم مثل ذالک الا انہ قال : من وراء الثوب ۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب مس المصحف و الدراھم التی فیھا القرآن ، ج اول ، ص ٣٤٤ ، نمبر ١٣٣٩ ، نمبر ١٣٤٠  مصنف ابن ابی شیبة ، ١٣٧ الرجل یمس الدراھم و ھو علی غیر وضوء ، ج اول ، ص ١٠٧  نمبر ١٢١٤ ) اس اثر میں ہے کہ درھم پر آیت لکھی ہوئی ہوتو اسکو بغیر وضو کے نہ چھوئے ، البتہ ہمیانی جسکو درھم کی تھیلی کہتے ہیں اسکے ساتھ چھو سکتا ہے  ۔
ترجمہ  ٢   پھر حدث اور جنابت دونوں ہاتھ میں گھس چکے ہیں اسلئے چھونے کے حکم میں دونوں برابر ہیں (یعنی دونوں کے لئے چھونا جائز نہیں ہے ) اور جنابت منہ میں گھستی ہے نہ کہ حدث اسلئے  پڑھنے  کے حکم میں دونوں الگ الک ہیں ۔ 
تشریح :   یہ دلیل عقلی ہے ۔ کہ حدث اور جنابت دونوں ہی گویا کہ ہاتھ میں گھس گئے اسلئے جنبی اور محدث دونوں ہی قرآن پاک کو نہیں چھو سکتے ، اسلئے کہ انکے ہاتھ میں ناپاکی ہے ۔ اور جنابت تو منہ میںبھی گھس جاتی ہے لیکن حدث نہیں گھستی اسلئے جنبی قرآن نہیں پڑھ سکتا ، کیونکہ  اسکے منہ میں ناپاکی ہے۔ البتہ محدث پڑھ سکتا ہے کیونکہ اسکے منہ میں ناپاکی نہیں ہے ۔اسلئے پڑھنے کے حکم میں دونوں الگ الگ ہو گئے ۔ 
ترجمہ  ٣   قرآن کا غلاف وہ ہے جو قرآن سے جدا ہو ، چپکی ہوئی جلد کی طرح اس سے متصل نہ ہو ۔ یہی صحیح ہے ۔
تشریح :   غلاف کا اطلاق تین قسم کے کپڑوں پر ہو سکتا ہے ۔ (١) آدمی کی آستین  (٢) وہ جلد جو قرآن کے ساتھ چپکی ہوئی ہے جسکو جلد مشرز ، کہتے ہیں ۔ (٣) جزدان اور بستہ جس میں قرآن کو رکھتے ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ متن میں جو غلاف کا تذکرہ ہے اس سے آدمی کی آستین مراد نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ آدمی کے تابع ہے ، اس کے ذریعہ قرآن کریم کو چھونا اچھا نہیں ۔اور قرآن کے ساتھ چپکی ہوئی جلد بھی مراد نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ خود قرآن کے ساتھ چپکی ہوئی ہے اور قرآن کے تابع ہے ،بلکہ وہ قرآن کا حصہ ہے ، غلاف وہ ہو نا چاہئے جو کسی کے تابع نہ ہو ۔ بلکہ غلاف سے جزدان اور بستہ مراد ہے جس میں قرآن رکھا جاتا ہے اور کسی کے تابع نہیں ہے ، محدث 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter