Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

258 - 627
٢  و ھو حجة علی مالک  فی الحائض ٣ وھو باطلاقہ یتناول ما دون الآیةفیکون حجة علی الطحاوی فی اباحتہ(١٣٩)ولیس لھم مس المصحف الا بغلافہ، ولااخذدرھم فیہ سورة من القرآن الا بصرتہ، وکذا المحدث لایمس المصحف الا بغلافہ)  ١  لقولہ علیہ السلام:لایمس القرآن الاطاھر،

باب ھل تذکر اللہ الحائض و الجنب ، ج اول ، ص ٣٣٧، نمبر ١٣٠٩ ) (٢) اور ترمذی شریف میں اس طرح ہے ۔ قالوا : لا تقرأ الحائض و لا الجنب من القرآن شیئا الا طرف الآیة و الحرف و نحو ذالک ، و رخصو ا للجنب و الحائض فی التسبیح و التھلیل ۔ (ترمذی شریف ، باب ما جاء فی الجنب و الحائض انھما لا یقرآن القرآن ، ص ٣٤ ، نمبر ١٣١ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ یہ لوگ پوری آیت نہیں پڑھ سکتے البتہ آیت کو توڑ توڑ کر پڑھ سکتے ہیں اور تسبیح اور تھلیل وغیرہ پڑھ سکتے ہیں ۔
ترجمہ:   ٢  یہ حدیث امام مالک  پر حجت ہے حائضہ کے بارے میں ۔
تشریح  :   امام مالک  فرماتے ہیں کہ جنبی تو فوری طور پر غسل کر سکتا ہے اسلئے اسکے لئے قرآن کا پڑھنا جائز نہیں ، لیکن حائضہ عورت حیض ختم ہونے تک انتظار کرے گی اس سے پہلے وہ غسل نہیں کر سکتی ، اسلئے اسکے لئے گنجائش ہے کہ وہ آیت پڑھے۔ لیکن اوپر کی حدیث ان پر حجت ہے کہ حائضہ بھی قرآن کی آیت نہیں پڑھ سکتی۔
ترجمہ:  ٣   اور حدیث اپنے مطلق ہو نے کی وجہ سے آیت سے کم پر بھی شامل ہے اسلئے وہ امام طحاوی  پر حجت ہے اسکے مباح کر نے میں ۔
تشریح  :   امام طحاوی  نے فرمایا کہ جنبی اور حائضہ ایک سے کم پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتے ہیں ۔ انکی دلیل  اوپر کا اثر ہے ۔   ولا یقرأ آیة واحدة ( مصنف عبد الرزاق، نمبر ١٣٠٩) نوٹ : ۔ طحاوی شریف  ، باب ذکر الجنب و الحائض و الذی لیس علی وضوء و قرائتھم القرآن ، ج اول ، ص ٦٨) میں ایسی کوئی عبارت نہیں ملی جس معلوم ہو تا ہو کہ حائضہ کے آیت سے کم پڑھنا جائز ہے ،  
ترجمہ:   (١٣٩)  اور نہیں جائز ہے انکے لئے قرآن کا چھونا مگر اسکے غلاف کے ساتھ ۔  اور نہیں جائز ہے درھم کو پکڑنا جس میں قرآن کی سورت ہو مگر ہمیانی کے ساتھ ، اور ایسے ہی محدث کے لئے نہیں جائز ہے قرآن کا چھونا مگر اسکے غلاف کے ساتھ ۔
ترجمہ:   ١  حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ قرآن نہیں چھوئے مگر پاک لوگ ۔ 
تشریح :   جنبی ، حائضہ ، اورمحدث غلاف کے بغیر قرآن کا چھونا جائز نہیں ، اسی طرح جس درھم میں قرآن کی آیت لکھی ہوئی ہو اسکو بھی غلاف کے بغیر چھونا جائز نہیںہے ۔ البتہ یہ لوگ زبانی آیت پڑھ  سکتے ہیں ، چھو نہیں سکتے ۔ 
 وجہ:   (١)لا یمسہ الا المطہرون(آیت ٧٩ سورة الواقعة ٥٦) (٢) حدیث میں ہے۔ عن عبد اللہ بن ابی بکر عن 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter