(١٣٧) و لا یاتیھا زوجھا) ١ لقولہ تعالی:ولاتقربوھن حتی یطھرن،(١٣٨)ولیس للحائض، و الجنب، و النفساء قرائة القرآن) ١ لقولہ ۖ : لا تقرأ الحائض و الجنب شیئاً من القرآن
(٢)اس حدیث میں بھی ہے کہ حائضہ طواف نہیں کر سکتی ۔ عن عائشة قال ۖ لعلک نفست؟ قلت نعم قال فان ذالک شیء کتبہ اللہ علی بنات آدم فافعل ما یفعل الحاج غیر لا تطوفی بالبیت حتی تطھری ۔(بخاری شریف،باب تقضی الحائض المناسک کلھا الا الطواف بالبیت ص ٤٤ نمبر ٣٠٥ابوداود شریف ، باب الحائض تھل بالحج ، ٢٥٧، نمبر ١٧٤٣) حدیث سے معلوم ہوا کہ حائضہ عورت طواف نہیں کرے گی۔
ترجمہ: (١٣٧) شوہر حائضہ بیوی سے وطی نہیں کرے گا۔
ترجمہ: ١ اللہ تعالی کے قول و لا تقربو ھن حتی یطھرن ، الخ کی وجہ سے۔
وجہ: آیت میں ہے ویسئلونک عن المحیض قل ھو اذی فاعتزلوا النساء فی المحیض ولاتقربوھن حتی یطھرن (آیت ٢٢٢ سورة البقرة٢) اس آیت میں ہے کہ حیض والی عورت کے قریب بھی مت جاؤ۔
نوٹ: وطی تو کرنا حرام ہے۔ البتہ عورت کو ازار پہنا کر اسکے ساتھ لیٹ سکتا ہے ۔اسکے لئے حدیث یہ ہے سمعت میمونة تقول : کان رسول اللہ ۖ اذا اراد أن یباشر امرأة من نسائہ أمر ھا فاتزرت و ھی حائض ۔ (بخاری شریف ، باب مباشرة الحائض ، ص ٤٤ نمبر ٣٠٣ ابوداود شریف ، باب فی الرجل یصیب منھا ما دون الجماع ، ص ٤٠ ، نمبر ٢٦٧ ) اس حدیث میں ہے کہ حیض کی حالت میں ازار کے اوپر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔اور اگر اول حیض میں وطی کر لیاتو ایک دینار صدقہ کرے اور اخیر حیض میں وطی کرلیا تو آدھا دینار صدقہ کرے ۔ اثر یہ ہے عن ابن عباسقال : اذا اصابھا فی اول الدم فدینار واذا اصابھا فی انقطاع الدم فنصف دینار۔(ابوداؤد باب فی ایتان الحائض ص٤٠ نمبر ٢٦٥)اس اثر میں ہے کہ حیض کے شروع میں وطی کرے تو ایک دینار صدقہ کرے اور آخیر میں کرے تو آدھا دینار صدقہ کرے ۔ البتہ ایسا کر نا فرض نہیں ہے ۔
ترجمہ: (١٣٨) حائضہ اور جنبی کے لئے قرآن کا پڑھنا جائز نہیں ہے۔
ترجمہ: ١ حضور ۖ کے قول کی وجہ سے کہ حائضہ اور جنبی قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھے ۔ یہ حدیث آگے ہے ۔
وجہ: (١)عن ابن عمر عن النبی ۖ قال لا تقرء الحائض ولا الجنب شیئا من القرآن۔(ترمذی شریف، باب ماجاء فی الجنب والحائض لا یقرأ القرآن ص ٣٤ نمبر ١٣١ ابو داؤد شریف، باب فی الجنب یقرأ القرآن،ص ٣٤ ،نمبر ٢٢٩) علماء فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو بچے پڑھانا ہو تو آیت کو ٹکڑا ٹکڑا کرکے پڑھائے۔ البتہ تسبیح اور تہلیل پڑھ سکتی ہے،دعا پڑھ سکتی ہے، اثر میں ہے عن ھشام بن حسان قال: الجنب یسبح و یحمد اللہ ، و یدعو، ولا یقرأ آیة واحدة ۔ ( مصنف عبد الرزاق ،