غیرالخضرة تحمل علی فسادالمنبت فلا تکون حیضاً (١٣٤) والحیض یسقط عن الحائض الصلوة، و یحرم علیھا الصوم، و تقضی الصوم، ولا تقضی الصلوت) ١ لقول عائشة کنت احدانا علی رسول اللہ ۖ اذا طھرت من حیضھا تقضی الصیام ولا تقضی الصلوت، ٢ و لان فی قضاء الصلوت حرجا ً لتضاعفھا و لا حرج فی قضاء الصوم، (١٣٥) و لا تدخل المسجد)
لغت : الصفرة : زرد رنگ، الکدرة : مٹیالا رنگ کا خون، گدلا رنگ کا خون ۔منکوس : نکس سے مشتق ہے ،الٹا ۔الجرة : مٹکا ۔ثقب : سوراخ کر نا ۔خضرة : سبز رنگ کا خون ، ہرے رنگ کا خون ۔ذوات الاقرائ: حیض والی عورت ۔المنبت : نبت سے مشتق ہے ،اگنے کی جگہ، یہاں رحم اور بچہ دانی مراد ہے ۔
ترجمہ: (١٣٤) حیض ساقط کر دیتا ہے حائضہ عورت سے نماز کو اور حرام کر دیتا ہے اس پر روزہ۔ چنانچہ حائضہ قضا کرے گی روزہ اور نہیں قضا کرے گی نماز کو۔
تشریح : حیض کی حالت میں نماز شروع ہی سے ساقط ہو جاتی ہے اس لئے بعد میں اس کی قضا نہیں ہے ۔اور روزہ واجب ہوتا ہے لیکن حیض کی حالت میں اس کو ادا نہیں کر سکتی ۔اس کا ادا کرنا حرام ہے اس لئے بعد میں قضا کرے گی
وجہ: (١) دس روز کی نمازیں پچاس ہو جائینگی اور ہر ماہ میں پچاس نمازیں قضا کرنے میں حرج عظیم ہے اس لئے نماز شروع ہی سے ساقط ہو جائے گی اور روزہ سال بھر میں صرف دس دن قضا کرنا ہوگا اس میں حرج نہیں ہے اس لئے روزہ فرض رہا البتہ بعد میں قضا کرے گی (٢) حدیث میں ہے عن معاذة قالت سألت عائشة فقلت ما بال الحائض تقضی الصوم ولا تقضی الصلوة؟ فقالت احروریة انت؟ قلت لست بحروریة ولکنی اسأل قالت کان یصیبنا ذلک فنؤمر بقضاء الصوم ولا نؤمر بقضاء الصلوة۔ ( مسلم شریف، باب وجوب قضاء الصوم علی الحائض دون الصلوة ص ١٥٣ نمبر ٣٣٥ ٧٦٣ بخاری شریف ، باب لاتقضی الحائض الصلوة ص ٤٦ نمبر ٣٢١) یہ مسئلہ متفق علیہ ہے
ترجمہ: ١ حضرت عائشہ کے قول کی وجہ سے ، کہ حضور ۖ کے زمانے میں ہم میں سے عورتیں جب حیض سے پاک ہوتی تو رزے کو قضا کرتی اور نماز کو قضا نہیں کر تی ۔۔ یہ حدیث اوپر بخاری شریف نمبر ٣٢١، اور مسلم شر یف نمبر٧٦٣ کی گزر گئی ۔
ترجمہ: ٢ اور اسلئے کہ نماز کے قضا کرنے میں حرج ہے اسکے بہت ہونے کی وجہ سے ، اور روزے کے قضا کرنے میں حرج نہیں ہے ۔اوپر گزر گیا کہ نماز ہر ماہ میں پچاس ہو جائیں گی جنکا ادا کر نا مشکل ہے ، اور روزہ سال بھر میں صرف دس ہونگے جنکا ادا کر نا مشکل نہیں ۔
ترجمہ: (١٣٥) حائضہ عورت مسجد میں داخل نہیں ہوگی۔