Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

247 - 627
٣ و لہ انہ لیس فی معنی الخف لانہ لا یمکن مواظبة المشی فیہ الااذاکان منعلاً،وھو محمل الحدیث  ٤ و عنہ انہ رجع الی قولھما،  و علیہ الفتوی (١٢٧) و لا یجوز المسح علی العمامة،  و القلنسوة،  و البرقع،  و القفازین)

تشریح :    جورب اتنا موٹا ہو کہ بغیر کسی چیز سے باندھے ہوئے پنڈلی پر رک جاتا ہو تو اس میں دور تک چلنا ممکن ہے اسلئے وہ بھی چمڑے کے موزے کے مشابہ ہو گیااسلئے اس ثخین  پر مسح کر نا جائز ہو گا ۔پوری تفصیل اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ:  ٣  اور امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ وہ ثخینین چمڑے کے موزے کے معنی میں نہیں ہے اسلئے کہ اس میں پیدر پے چلنا ممکن نہیں جب تک کہ منعلین نہ ہو اور حدیث کا محمل بھی یہی ہے ۔ 
تشریح :    امام ابو حنیفہ  فرماتے ہیں کہ صرف ثخینین  ہونے سے چمڑے کے موزے کی طرح نہیں ہو گیا کیونکہ اس میں پیدر پے چلنا ممکن نہیں ہے جب تک کہ اس میں چمڑا لگا کر منعل ، یا مجلد نہ کر دے اسلئے منعل یا مجلد چمڑے کے موزے کے درجے میں ہو گا اور اسی پر مسح بھی جائز ہو گا ۔اور حدیث جو ہے کہ جورب پر مسح کیا اسکا مطلب بھی یہی ہے کہ نعل والے جورب پر مسح کیا ۔ جیسا کہ استاذ ابو الولید کی تاویل سے ثابت کیا گیا ۔ 
ترجمہ:  ٤  امام ابو حنیفہ  سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے آخری عمر میں صاحبین  کے قول کی طرف رجوع فرمایا ۔ اور اسی پر فتوی ٰ ہے ۔ 
تشریح :    اوپر کی احادیث کی بناء پر حضرت امام اعظم نے صاحبین کے قول کی طرف رجوع فرمایا اور اب فتوی صاحبین کے قول پر ہے ۔کہ ثخینین پر مسح کر نا جائز ہے ۔  عبارت یہ ہے سمعت ابا مقاتل السمرقندی  یقول : دخلت علی ابی حنیفة  فی مرضہ الذی مات فیہ ، فدعا بماء فتوضأ وعلیہ جوربان ، فمسح علیھما ، ثم قال : فعلت الیوم شیئا ً لم اکن افعلہ : مسحت علی الجوربین و ھما غیر منعلین ۔( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی المسح علی الجوربین و النعلین ، ص ٢٩، نمبر ٩٩ ) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت امام ابو حنیفہ  نے آخیر عمر میں  ۔ ثخینین کی طرف مسح کرنے میں رجوع فرمایا ۔  
لغت :   خف: چمڑے کا موزہ،  جوربین :سوت کا موزہ ۔ ثخینین : ثخین کا تثنیہ ہے موٹا موزہ،  یشفان : تثنیہ ہے یشف کا جس میں پانی چھن جاتا ہو۔ مجلد : جلد سے مشتق ہے ،سوتی کے جس موزے کے تلوے اور کنارے پر چمڑا لگا ہوا ہو ۔منعل : نعل سے مشتق ہے ، ایڑی ،سوتی کے جس موزے کے صرف تلوے پر چمڑا لگا ہوا ہو ۔ مواظبت : پیدر پے ، ہمیشہ ۔
ترجمہ:  (١٢٧) عمامہ پر، ٹوپی پر اور برقع پر اور دستانے پر مسح جائز نہیں ہے۔  
وجہ:   (١) آیت میں سر پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے اب خبر آحاد حدیث کے ذریعہ سے کتاب اللہ پر زیادتی کرنا جائز نہیں ہے ۔اس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter