٣ و لہ انہ لیس فی معنی الخف لانہ لا یمکن مواظبة المشی فیہ الااذاکان منعلاً،وھو محمل الحدیث ٤ و عنہ انہ رجع الی قولھما، و علیہ الفتوی (١٢٧) و لا یجوز المسح علی العمامة، و القلنسوة، و البرقع، و القفازین)
تشریح : جورب اتنا موٹا ہو کہ بغیر کسی چیز سے باندھے ہوئے پنڈلی پر رک جاتا ہو تو اس میں دور تک چلنا ممکن ہے اسلئے وہ بھی چمڑے کے موزے کے مشابہ ہو گیااسلئے اس ثخین پر مسح کر نا جائز ہو گا ۔پوری تفصیل اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ: ٣ اور امام ابو حنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ وہ ثخینین چمڑے کے موزے کے معنی میں نہیں ہے اسلئے کہ اس میں پیدر پے چلنا ممکن نہیں جب تک کہ منعلین نہ ہو اور حدیث کا محمل بھی یہی ہے ۔
تشریح : امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ صرف ثخینین ہونے سے چمڑے کے موزے کی طرح نہیں ہو گیا کیونکہ اس میں پیدر پے چلنا ممکن نہیں ہے جب تک کہ اس میں چمڑا لگا کر منعل ، یا مجلد نہ کر دے اسلئے منعل یا مجلد چمڑے کے موزے کے درجے میں ہو گا اور اسی پر مسح بھی جائز ہو گا ۔اور حدیث جو ہے کہ جورب پر مسح کیا اسکا مطلب بھی یہی ہے کہ نعل والے جورب پر مسح کیا ۔ جیسا کہ استاذ ابو الولید کی تاویل سے ثابت کیا گیا ۔
ترجمہ: ٤ امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے آخری عمر میں صاحبین کے قول کی طرف رجوع فرمایا ۔ اور اسی پر فتوی ٰ ہے ۔
تشریح : اوپر کی احادیث کی بناء پر حضرت امام اعظم نے صاحبین کے قول کی طرف رجوع فرمایا اور اب فتوی صاحبین کے قول پر ہے ۔کہ ثخینین پر مسح کر نا جائز ہے ۔ عبارت یہ ہے سمعت ابا مقاتل السمرقندی یقول : دخلت علی ابی حنیفة فی مرضہ الذی مات فیہ ، فدعا بماء فتوضأ وعلیہ جوربان ، فمسح علیھما ، ثم قال : فعلت الیوم شیئا ً لم اکن افعلہ : مسحت علی الجوربین و ھما غیر منعلین ۔( ترمذی شریف ، باب ما جاء فی المسح علی الجوربین و النعلین ، ص ٢٩، نمبر ٩٩ ) اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حضرت امام ابو حنیفہ نے آخیر عمر میں ۔ ثخینین کی طرف مسح کرنے میں رجوع فرمایا ۔
لغت : خف: چمڑے کا موزہ، جوربین :سوت کا موزہ ۔ ثخینین : ثخین کا تثنیہ ہے موٹا موزہ، یشفان : تثنیہ ہے یشف کا جس میں پانی چھن جاتا ہو۔ مجلد : جلد سے مشتق ہے ،سوتی کے جس موزے کے تلوے اور کنارے پر چمڑا لگا ہوا ہو ۔منعل : نعل سے مشتق ہے ، ایڑی ،سوتی کے جس موزے کے صرف تلوے پر چمڑا لگا ہوا ہو ۔ مواظبت : پیدر پے ، ہمیشہ ۔
ترجمہ: (١٢٧) عمامہ پر، ٹوپی پر اور برقع پر اور دستانے پر مسح جائز نہیں ہے۔
وجہ: (١) آیت میں سر پر مسح کرنے کا حکم دیا ہے اب خبر آحاد حدیث کے ذریعہ سے کتاب اللہ پر زیادتی کرنا جائز نہیں ہے ۔اس