(١٢٥) و لا یجوزالمسح علی الجوربین عند ابی حنیفة الا ان یکونا مجلدین او منعلین
ہے کہ سوتی کپڑا پائوں کا بدل نہیں بن سکتا ، حدیث کے اعتبار سے پائوں کا بدل تو چمڑے کا موزہ بنتا ہے ۔ ہاں اگر کپڑا اتنا باریک ہے کہ مسح کرتے وقت ہاتھ کی تری چمڑے کے موزے تک پہنچ جاتی ہے تو ایسے جرموق پر مسح کر نا جائز ہو گا ۔ کیونکہ جب تری موزے تک پہنچ گئی تو گویا کہ موزے پر ہی پانی والا ہاتھ پھیرا گیا ، اور موزے پر ہی مسح کر لیا اسلئے اس جرموق پر مسح جائز ہے ۔
لغت : جرموق اور موق : موزے پر جو موزے حفاظت کے لئے پہنتے ہیں اس کو جرموق یا موق کہتے ہیں۔خف ذ ی طاقین : دو تہہ والا موزہ ۔حل : حلول کر گیا ، سرایت کر گیا ۔یتحول: بدل جائے۔ کرباس : سوتی کپڑا ۔ تنفذ : نفوذ کر جائے ، سرایت کر جائے ۔البلة : تری
ترجمہ: (١٢٥) نہیں جائز ہے مسح جوربین پر امام ابو حنیفہ کے نزدیک مگر یہ کہ دونوں مجلد ہوں یا منعل ہوں ۔
تشریح : جورب سوت یا اون کے موزے کو کہتے ہیں چمڑے کے نہ ہوں ۔ پھر اس موزے کی چار صورتیں ہیں ۔ (١)موٹا ہو جس میں جلدی پانی پاس نہ ہو تا ہو ۔جس کو ثخینین : کہتے ہیں ۔ثخین کا ترجمہ ہے موٹا (٢) پتلا موزہ ہو جس سے آسانی سے پانی پاس ہو تا ہو ۔ (٣) موزے کے تلوے میں اور اسکی کناری پر چمڑا لگا ہوا ہو جسکو : مجلدین : کہتے ہیں ۔ چونکہ تلوے اور کناری دو نوں ملا کر کافی چمڑا لگا ہوا ہے اسلئے اسکو مجلد کہتے ہیں ۔(٤) موزے کے صرف تلوے میں چمڑا لگا ہوا ہو جسکو، منعلین : کہتے ہیں ۔نعل کا معنی ہے ایڑی ، چونکہ صرف تلوے پر چمڑا لگا ہوا ہے اسلئے اسکو منعلین : کہتے ہیں ۔ان میں سے پتلے موزے اور ثخینین پر مسح کر نا امام ابو حنیفہ کے نزدیک جائز نہیں ہے صرف مجلدین اور منعلین پر مسح کر نا جائز ہے۔
وجہ: عن مغیرة بن شعبة قال توضأ النبی ۖ ومسح علی الجوربین والنعلین ۔(ترمذی شریف ، باب فی المسح علی الجوربین والنعلین ج اول ص ٢٩ نمبر ٩٩ ابو داؤد، باب المسح علی الجوربین ص ٢٤ نمبر ١٥٩)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جوربین پر مسح کرنا جائز ہے۔اور والنعلین کا ترجمہ استاذ ابو الولید نے یہ کیا ہے جوربین جو منعلین ہو یعنی ایسا سوت کا موزہ جس میں نعل لگا ہوا ہو۔ عبارت یہ ہے و کان الاستاذ أبو الولید یو ء ول حدیث المسح علی الجوربین و النعلین علی أنہ مسح علی جوربین منعلین لا أنہ جورب علی الانفراد و نعل علی الانفراد ۔ ( سنن للبیھقی ،باب ما ورد فی الجوربین و النعلین ، ج اول ، ص ٤٢٨ ، نمبر ١٣٥٦ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ حدیث ترمذی میں جورب سے مراد منعل جورب ہے ۔۔اور راشد بن نجیح سے روایت ہے قال رأیت انس بن مالک دخل الخلاء وعلیہ جوربان اسفلھما جلود واعلاھما خز فمسح علیھما ۔( السنن للبیھقی، باب ماورد فی الجوربین والنعلین، ج او ل،ص ٤٢٨،نمبر ١٣٥٧) اس اثرسے معلوم ہوا کہ حضرت امام ابو حنیفہ نے جو سوت کے موزے میں مجلدین اور منعلین ہونے کی قید لگائی ہے وہ ان روایات کی روشنی میں لگائی ہے۔ (٢) آگے ایک اور دلیل آرہی ہے کہ موزے پر مسح کر نا خلاف قیاس صرف حدیث کی بنا پر ہے ، اور متواتر احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ چمڑے کے