٢ و لنا ان النبی ۖ مسح علی الجرموقین ٣ و لانہ تبع للخف استعمالاً و غرضاًفصار کخف ذی طاقین ٤ وھو بدل عن الرجل لا عن الخف ٥ بخلاف ما اذا لبس الجرموق بعد ما احدث لان الحدث حل بالخف فلا یتحول الی غیرہ ٦ و لو کان الجرموق من کرباس لا یجوز المسح علیہ لانہ لا یصلح بدلا عن الرجل الا ان تنفذ البلة الی الخف،
ترجمہ: ٢ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ حضور ۖ نے جرموق پر مسح فرمایا ۔یہ حدیث اوپر سنن للبیھقی نمبر ١٣٦٨ ابوداود ، نمبر١٥٣) میں گزر گئی ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور اسلئے کہ جرموق استعمال اور غرض کے اعتبار سے موزے کے تابع ہے اسلئے وہ دو طاق والے موزے کی طرح ہوگیا ۔
تشریح : یہ امام شافعی کو جواب دے رہے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ جرموق موزے کے بدلے میں موزہ ہو گیا ۔ تو اسکا جواب یہ دے رہے ہیں کہ یہ موزے کے بدلے میں موزہ نہیں ہے بلکہ جرموق استعمال اور غرض کے اعتبار سے موزے کے تابع ہے ، اور جرموق موزے کی حفاظت کے لئے ہے اسلئے جرموق موزے کا بدل نہیں ہوا اصل موزہ ہی رہا ، بس یوں سمجھ لیں کہ ایک ہی موزہ دو طاق والا ہے، اورایک ہی موزہ دو طاق والا ہو تو اس پر مسح کر نا درست ہے اسلئے جرموق پر بھی مسح کرنا جائز ہو گا ۔
ترجمہ: ٤ اور جرموق پائوں کا بدل ہے نہ کہ موزے کا ۔
تشریح : یہ دوسرا جواب ہے ۔ کہ جرموق موزے کا بدل نہیں ہے کہ کہا جائے کہ پائوں کا بدل موزہ اور موزے کا بدل جرموق ہو گیا ۔ بلکہ جرموق براہ راست پائوں کا بدل ہے ، اسلئے جرموق پر مسح کر نا جائز ہو گا ۔
ترجمہ: ٥ بخلاف جبکہ جر موق حدث ہو نے کے بعد پہنا ہو اسلئے کہ حدث موزے میں سرایت کر گیا اسلئے وہ غیر کی طرف منتقل نہیں ہو گا ۔
تشریح : اگر وضو کیا پھر موزہ پہنا پھر حدث ہوا اسکے بعد اس پر جرموق پہنا تو اس جرموق پر مسح نہیں کر سکتا ۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ حدث موزے پر سرایت کر گیا اسکے بعد اسکے اوپر جرموق پہنا ہے اسلئے حدث موزے سے ہٹ کر جرموق پر نہیں آئے گا ۔ اسلئے اب جرموق پرمسح نہیں کر سکتا ۔البتہ حدث سے پہلے جرموق پہنتا تو جرموق پر مسح کر سکتا تھا ۔
ترجمہ: ٦ اور اگر جرموق سوتی کپڑے کا ہو تو اس پر مسح کر نا جائز نہیں ہے اسلئے کہ وہ پائوں کا بدل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ، مگر یہ کہ تری موزے تک سرایت کر جائے ۔ تو مسح کر نا جائز ہو گا ۔
تشریح : موزے کے اوپر جو جرموق پہنا ہے وہ چمڑے کے بجائے سوتی کپڑے کا ہو تو اس پر مسح کر نا جائز نہیں ہو گا ۔ اسکی وجہ یہ