(١٢٢) و لو اقام و ھو مسافر ان استکمل مدة الاقامة نزع) ١ لان رخصة السفر لا تبقی بدونہ، (١٢٣) و ان لم یستکمل اتمھا) ا لان ھذہ مدة الاقامة و ھو مقیم (١٢٤) و من لبس الجرموق فوق الخف مسح علیہ) ١ خلافا للشافعی فانہ یقول : البدل لا یکون لہ بدل،
ترجمہ: (١٢٢) اگر مسافر آدمی مقیم ہوگیا ، اگر اقامت کی مدت پوری کر چکا ہے تو موزہ کو کھولے گا ۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ سفر کی رخصت اسکے بغیر باقی نہیں رہتی ۔
تشریح : مسافر آدمی تھا اسکو تین دن اور تین رات مدت مسافرت پوری کر نی تھی ، لیکن وہ مقیم ہو گیا ، پس اگر مقیم کی مدت ایک دن ایک رات پوری کر چکا ہے تو موزہ کھول کر پائوں دھوئے ، اسلئے کہ اب وہ مسافر نہیں رہا اسلئے اسکے بغیر مسافرت کی سہولت بھی باقی نہیں رہے گی
ترجمہ: (١٢٣) اور اگر مدت اقامت پوری نہیں کی ہے تو اسکو پوری کرے۔
ترجمہ: ١ اسلئے کہ یہ مدت اقامت ہے اور وہ مقیم ہے ۔
تشریح : سفر میں تھا لیکن مسح کا ایک رات ایک دن پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ مقیم ہو گیا تو ایک دن ایک رات پورا کرے ، کیونکہ یہ ابھی کم سے کم مقیم ہے اسلئے مدت اقامت پورا کرے گا ۔سب کے دلائل مقیم اور مسافرت والی حدیث ہے جو اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ: (١٢٤) جس نے جرموق کو موزے کے اوپر پہنا تو اس پر مسح کرے گا۔
تشریح : ۔ جرموق یا موق چمڑے کے اس موزے کو کہتے ہیں جو اچھے موزے کی حفاظت کے لئے اس کے اوپر پہنتے ہیں ، اور جرموق پر مسح کرنے کے لئے وہی شرائط ہیں جو موزے پر مسح کرنے کے لئے ہیں تو گویا کہ دونوں موزے ہی ہیں۔ اس لئے جرموق پر مسح کر سکتا ہے ۔
وجہ: (١) حدیث میں ہے عن انس بن مالک ان رسول اللہ ۖ کان یمسح علی الموقین والخمار۔ (سنن للبیھقی، باب المسح علی الموقین، ج اول، ص ٤٣٢،نمبر ١٣٦٨ ابوداؤد شریف، باب المسح علی الخفین،ص ٢٣ نمبر ١٥٣) اس حدیث سے ثابت ہے کہ آپۖ نے جرموق پر مسح فرمایا۔ اسلئے جرموق پر مسح جائز ہے ۔
ترجمہ: ١ خلاف امام شافعی کے ، وہ فرماتے ہیں کہ موزہ پائوں کا بدل ہے اسلئے اب موزے کے لئے بدل نہیں ہو سکتا ۔
تشریح : وہ فرماتے ہیں کہ پائوں کا بدل موزہ ہے جس پر حدیث کی بنا ء پر خلاف قیاس مسح کر نے کی گنجائش ہوئی اسلئے اب موزے کا بدل جرموق ہو یہ صحیح نہیں ہے ۔ موسوعة میں ہے۔ ثم احدث فأراد أن یمسح علی الجرموقین ، لم یکن ذالک لہ ۔ ( موسوعة ، باب من لہ المسح ، ج اول ، ص ١٣٨، نمبر٤٥٥)