Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 1

243 - 627
(١٢٢)  و لو اقام و ھو مسافر ان استکمل مدة الاقامة نزع)  ١  لان رخصة السفر لا تبقی بدونہ،  (١٢٣) و ان لم  یستکمل اتمھا)    ا لان ھذہ مدة الاقامة و ھو مقیم  (١٢٤) و من لبس الجرموق فوق الخف مسح علیہ)  ١ خلافا للشافعی  فانہ یقول : البدل لا یکون لہ بدل، 

ترجمہ:  (١٢٢)  اگر مسافر آدمی مقیم ہوگیا ، اگر اقامت کی مدت پوری کر چکا ہے تو موزہ کو کھولے گا ۔
ترجمہ:  ١  اسلئے کہ سفر کی رخصت اسکے بغیر باقی نہیں رہتی ۔
تشریح :   مسافر آدمی تھا اسکو تین دن اور تین رات مدت مسافرت پوری کر نی تھی ، لیکن وہ مقیم ہو گیا  ، پس اگر مقیم کی مدت ایک دن ایک رات پوری کر چکا ہے تو موزہ کھول کر پائوں دھوئے ، اسلئے کہ اب وہ مسافر نہیں رہا اسلئے  اسکے بغیر مسافرت کی سہولت بھی باقی نہیں رہے گی 
ترجمہ:  (١٢٣)  اور اگر مدت اقامت پوری نہیں کی ہے تو اسکو پوری کرے۔
ترجمہ:   ١  اسلئے کہ یہ مدت اقامت ہے اور وہ مقیم ہے ۔ 
تشریح :   سفر میں تھا لیکن مسح کا ایک رات ایک دن پورا نہیں ہوا تھا کہ وہ مقیم ہو گیا تو ایک دن ایک رات پورا کرے ، کیونکہ یہ ابھی کم سے کم مقیم ہے اسلئے مدت اقامت پورا کرے گا ۔سب کے دلائل مقیم اور مسافرت والی حدیث ہے جو اوپر گزر گئی ۔
ترجمہ:  (١٢٤)  جس نے جرموق کو موزے کے اوپر پہنا تو اس پر مسح کرے گا۔  
تشریح : ۔ جرموق یا موق  چمڑے کے اس موزے کو کہتے ہیں جو اچھے موزے کی حفاظت کے لئے اس کے اوپر پہنتے ہیں ، اور جرموق پر مسح کرنے کے لئے وہی شرائط ہیں جو موزے پر مسح کرنے کے لئے ہیں تو گویا کہ دونوں موزے ہی ہیں۔ اس لئے جرموق پر مسح کر سکتا ہے ۔ 
وجہ:   (١) حدیث میں ہے عن انس بن مالک ان رسول اللہ ۖ کان یمسح علی الموقین والخمار۔ (سنن للبیھقی، باب المسح علی الموقین، ج اول، ص ٤٣٢،نمبر ١٣٦٨ ابوداؤد شریف، باب المسح علی الخفین،ص ٢٣ نمبر ١٥٣) اس حدیث سے ثابت ہے کہ آپۖ نے جرموق پر مسح فرمایا۔  اسلئے جرموق پر مسح جائز ہے ۔
ترجمہ:  ١  خلاف امام شافعی  کے ، وہ فرماتے ہیں کہ موزہ پائوں کا بدل ہے  اسلئے اب موزے کے لئے بدل نہیں ہو سکتا ۔
تشریح :   وہ فرماتے ہیں کہ پائوں کا بدل موزہ ہے جس پر حدیث کی بنا ء پر خلاف قیاس مسح کر نے کی گنجائش ہوئی اسلئے اب موزے کا بدل جرموق  ہو یہ صحیح نہیں ہے ۔ موسوعة میں ہے۔ ثم احدث فأراد أن یمسح علی الجرموقین ، لم یکن ذالک لہ ۔ ( موسوعة ، باب من لہ المسح ، ج اول ، ص ١٣٨، نمبر٤٥٥)   

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 5 0
2 کتاب الطھارات 52 1
3 سنن الطھارة 62 2
4 مستحبات وضو کا بیان 71 3
5 نواقض وضو کا بیان 79 11
6 فصل فی الغسل 102 2
7 غسل کے فرائض کا بیان 102 6
8 غسل واجب ہونے کے اسباب 107 6
9 سنت غسل کا بیان 112 6
11 فصل فی نواقض الوضوئ 79 3
12 باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و ما لا یجوز بہ 117 2
13 پانی کے احکام 117 12
14 بڑے تالاب کا حساب ایک نظر میں 130 13
15 گول چیز ناپنے کافارمولہ 132 13
17 فصل فی البیر 155 12
18 کنویں کے مسائل 155 17
19 فصل فی الآسار 171 12
20 فصل جوٹھے اور اسکے علاوہ کے بارے میں 171 19
21 باب التیمم 193 2
23 باب المسح علی الخفین 227 2
24 باب الحیض و الاستحاضة 251 2
25 حیض کا بیان 251 24
26 فصل فی المستحاضة 270 24
27 فصل فی النفاس 276 24
28 نفاس کا بیان 276 27
29 باب الانجاس وتطھیرھا 283 2
30 نجاست ، اور اسکے پاک کرنے کا با ب 283 29
31 ہر ایک کے ناپاک ہو نے کی دلیل 297 29
33 درھم کی قسمیں تین ہیں 300 29
34 درھم کا حساب 300 29
36 فصل فی الاستنجاء 320 2
37 استنجاء کا بیان 320 36
38 کتاب الصلوة 329 1
39 باب المواقیت 329 38
40 فصل اوقات مستحب 342 39
41 فصل فی الاوقات التی تکرہ فیھا الصلوة 351 39
42 باب الاذان 362 38
43 باب شروط الصَّلٰوة التی تتقدمہا 385 38
44 باب صفة الصلوة 413 38
45 فصل فی القراء ة 496 44
46 باب الامامة 523 38
47 جماعت کا بیان 523 46
49 باب الحدث فی الصلوة 569 38
50 باب مایفسد الصلوٰة وما یکرہ فیہا 601 38
Flag Counter